بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احوال قیامت (۲)
(قرآن حکیم کی روشنی میں)
-
”جس روز ہم پرہیزگاروں کو اللہ کے سامنے (بطور) مہمان جمع کریں گے“۔ ”اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسے ہانک لے جائیں گے“۔ ”(تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے اللہ سے اقرار لیا ہو“۔ (مریم ۔ ۸۵ تا ۸۷)
-
”قیامت یقیناً آنے والی ہے میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تا کہ ہر شخص جو کوشش کرے اسکا بدلہ پائے“۔ (طٰہ ۔ ۱۵)
-
”جس روز صور پھونکا جائے گا اور ہم گنہگاروں کو اکٹھا کریں گے اور انکی آنکھیں نیلی نیلی ہوں گی“۔ ”(تو) وہ آپس میں آہستہ آہستہ کہیں گے کہ تم (دنیا میں) صرف دس ہی دن رہے ہو“۔ (طٰہ ۔ ۱۰۲ ، ۱۰۳)
-
”اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔ اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اسکو لا موجود کریں گے اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں“۔ (الانبیاء ۔ ۴۷)
-
”جس دن ہم آسمان کو اسطرح لپیٹ لیں گے جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کر دینگے (یہ) وعدہ (ہے جسکا پورا کرنا) لازم ہے ہم (ایسا) ضرور کرنے والے ہیں“۔ (الانبیاء ۔ ۱۰۴)
-
”لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو کہ قیامت کا زلزلہ ایک حادثہ عظیم ہے“۔ ”(اے مخاطب) جس دن تو اسکو دیکھے گا (اس دن یہ حال ہوگا کہ) تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپنے بچوں کو بھول جائینگی۔ اور تمام حمل والیوں کے حمل گر پڑیں گے اور لوگ تجھ کو متوالے نظر آئیں گے مگر وہ متوالے نہیں ہوں گے بلکہ (عذاب دیکھ کر مدہوش ہورہے ہوں گے) بیشک اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے“۔ (الحج ۔ ۱ ، ۲)
-
”تو تم بھی انکی کچھ پروا نہ کرو۔ جس دن بلانے والا اُن کو ایک ناخوش چیز کی طرف بلائے گا“۔ ”تو آنکھیں نیچی کئے ہوئے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں“۔ ”اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے۔ کافر کہیں گے یہ دن بڑا سخت ہے“۔ (القمر ۔ ۶ تا ۸)
-
”قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناتے کام آئیں گے اور نہ اولاد۔ اس روز وہی تم میں فیصلہ کرے گا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسکو دیکھتا ہے“۔ (الممتحنہ ۔ ۳)
-
”ہم کو روز قیامت کی قسم۔ اور نفس لوامہ کی (کہ سب لوگ اٹھا کر کھڑے کئے جائیں گے)۔ کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اسکی (بکھری ہوئی) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے؟“۔ ”ضرور کریں گے (اور) ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اسکی پور پور درست کر دیں“۔ ”مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے کو خودسری کرتا جائے“۔ ”پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا؟“۔ ”جب آنکھیں چندھیا جائیں گی“۔ ”اور چاند گہنا جائے گا“۔ ”اور سورج اور چاند جمع کر دیئے جائیں گے“۔ ”اس دن انسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ جاؤں؟“۔ ”بیشک کہیں پناہ نہیں“۔ ”اس روز پروردگار ہی کے پاس ٹھکانا ہے“۔ ”اس دن انسان کو جو (عمل) اس نے آگے بھیجے اور پیچھے چھوڑے ہوں گے بتا دیئے جائیں گے“۔ (القیامہ ۔ ۱ تا ۱۳)
-
”(وہ دن آکر رہے گا) جس دن زمین کو بھونچال آئے گا“۔ ”پھر اسکے پیچھے اور (بھونچال) آئے گا“۔ ”اس دن (لوگوں کے) دل خائف ہورہے ہوں گے“۔ ”(اور) آنکھیں جھکی ہوئی“۔ (النازعات ۔ ۶ تا ۹)
-
”تو جب (قیامت کا) غل مچے گا“۔ ”اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا“۔ ”اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے“۔ ”اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے“۔ ”ہر شخص اس روز ایک فکر میں ہوگا جو اسے (مصروفیت کیلئے) بس کرے گا“۔ ”اور کتنے منہ اس روز چمک رہے ہوں گے“۔ ”خنداں وشاداں (یہ نیکوکار ہیں)“۔ ”اور کتنے منہ ہوں گے جن پر گرد پڑرہی ہوگی“۔ ”(اور) سیاہی چڑھ رہی ہوگی“۔ ”یہ کفار بدکار ہیں“۔ (عبس ۔ ۳۳ تا ۴۲)
-
”جب سورج لپیٹ لیا جائے گا“۔ ”اور جب تارے بے نور ہو جائیں گے“۔ ”اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے“۔ ”اور جب بیانے والی اونٹنیاں بیکار ہو جائیں گی“۔ ”اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں گے“۔ ”اور جب دریا آگ ہو جائیں گے“۔ ”اور جب روحیں (بدنوں سے) ملا دی جائیں گی“۔ ”اور جب اس لڑکی سے جو زندہ دفنا دی گئی ہو پوچھا جائے گا“۔ ”کہ وہ کس گناہ پر مار دی گئی؟“۔ ”اور جب (عملوں کے) دفتر کھولے جائیں گے“۔ ”اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی“۔ ”اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی“۔ ”اور بہشت جب قریب لائی جائیگی“۔ ”تب ہر شخص معلوم کرلے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے“۔
-
”جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی“۔ ”اور زمین اپنے (اندر کے) بوجھ نکال ڈالے گی“۔ ”اور انسان کہے گا کہ اسکو کیا ہوا ہے؟“۔ ”اس روز وہ اپنے حالات بیان کر دے گی“۔ ”کیونکہ تمہارے پروردگار نے اسکو حکم بھیجا (ہوگا)“۔ ”اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر آئیں گے“۔ ”تاکہ انکو انکے اعمال دکھا دیئے جائیں“۔ ”تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسکو دیکھ لے گا“۔ ”اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا“۔ (الزلزال ۔ ۱ تا ۸)
-
”کھڑکھڑانے والی“۔ ”کھڑکھڑانے والی کیا ہے؟“۔ ”اور تم کیا جانو کہ کھڑکھڑانے والی کیا ہے؟“۔ ”(وہ قیامت ہے) جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے“۔ ”اور پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگ کی اون“۔ ”تو جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے“۔ ”وہ دل پسند عیش میں ہوگا“۔ ”اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے“۔ ”اس کا مرجع ہاویہ ہے“۔ ”اور تم کیا سمجھے کہ ہاویہ کیا چیز ہے؟“۔ ”(وہ) دہکتی ہوئی آگ ہے“۔ (القارعہ ۔ ۱ تا ۱۱)