احوال قیامت (۲)

اشاعت: 27-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
Day of Judgment Quran ayat - Qayamat ke manazir aur hisab ka zikr, Surah Maryam 19:85-87

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

احوال قیامت (۲)

(قرآن حکیم کی روشنی میں)

  1. ”جس روز ہم پرہیزگاروں کو اللہ کے سامنے (بطور) مہمان جمع کریں گے“۔ ”اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسے ہانک لے جائیں گے“۔ ”(تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے اللہ سے اقرار لیا ہو“۔ (مریم ۔ ۸۵ تا ۸۷)

  2. ”قیامت یقیناً آنے والی ہے میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تا کہ ہر شخص جو کوشش کرے اسکا بدلہ پائے“۔ (طٰہ ۔ ۱۵)

  3. ”جس روز صور پھونکا جائے گا اور ہم گنہگاروں کو اکٹھا کریں گے اور انکی آنکھیں نیلی نیلی ہوں گی“۔ ”(تو) وہ آپس میں آہستہ آہستہ کہیں گے کہ تم (دنیا میں) صرف دس ہی دن رہے ہو“۔ (طٰہ ۔ ۱۰۲ ، ۱۰۳)

  4. ”اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔ اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اسکو لا موجود کریں گے اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں“۔ (الانبیاء ۔ ۴۷)

  5. ”جس دن ہم آسمان کو اسطرح لپیٹ لیں گے جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کر دینگے (یہ) وعدہ (ہے جسکا پورا کرنا) لازم ہے ہم (ایسا) ضرور کرنے والے ہیں“۔ (الانبیاء ۔ ۱۰۴)

  6. ”لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو کہ قیامت کا زلزلہ ایک حادثہ عظیم ہے“۔ ”(اے مخاطب) جس دن تو اسکو دیکھے گا (اس دن یہ حال ہوگا کہ) تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپنے بچوں کو بھول جائینگی۔ اور تمام حمل والیوں کے حمل گر پڑیں گے اور لوگ تجھ کو متوالے نظر آئیں گے مگر وہ متوالے نہیں ہوں گے بلکہ (عذاب دیکھ کر مدہوش ہورہے ہوں گے) بیشک اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے“۔ (الحج ۔ ۱ ، ۲)

  7. ”تو تم بھی انکی کچھ پروا نہ کرو۔ جس دن بلانے والا اُن کو ایک ناخوش چیز کی طرف بلائے گا“۔ ”تو آنکھیں نیچی کئے ہوئے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں“۔ ”اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے۔ کافر کہیں گے یہ دن بڑا سخت ہے“۔ (القمر ۔ ۶ تا ۸)

  8. ”قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناتے کام آئیں گے اور نہ اولاد۔ اس روز وہی تم میں فیصلہ کرے گا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسکو دیکھتا ہے“۔ (الممتحنہ ۔ ۳)

  9. ”ہم کو روز قیامت کی قسم۔ اور نفس لوامہ کی (کہ سب لوگ اٹھا کر کھڑے کئے جائیں گے)۔ کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اسکی (بکھری ہوئی) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے؟“۔ ”ضرور کریں گے (اور) ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اسکی پور پور درست کر دیں“۔ ”مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے کو خودسری کرتا جائے“۔ ”پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا؟“۔ ”جب آنکھیں چندھیا جائیں گی“۔ ”اور چاند گہنا جائے گا“۔ ”اور سورج اور چاند جمع کر دیئے جائیں گے“۔ ”اس دن انسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ جاؤں؟“۔ ”بیشک کہیں پناہ نہیں“۔ ”اس روز پروردگار ہی کے پاس ٹھکانا ہے“۔ ”اس دن انسان کو جو (عمل) اس نے آگے بھیجے اور پیچھے چھوڑے ہوں گے بتا دیئے جائیں گے“۔ (القیامہ ۔ ۱ تا ۱۳)

  10. ”(وہ دن آکر رہے گا) جس دن زمین کو بھونچال آئے گا“۔ ”پھر اسکے پیچھے اور (بھونچال) آئے گا“۔ ”اس دن (لوگوں کے) دل خائف ہورہے ہوں گے“۔ ”(اور) آنکھیں جھکی ہوئی“۔ (النازعات ۔ ۶ تا ۹)

  11. ”تو جب (قیامت کا) غل مچے گا“۔ ”اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا“۔ ”اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے“۔ ”اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے“۔ ”ہر شخص اس روز ایک فکر میں ہوگا جو اسے (مصروفیت کیلئے) بس کرے گا“۔ ”اور کتنے منہ اس روز چمک رہے ہوں گے“۔ ”خنداں وشاداں (یہ نیکوکار ہیں)“۔ ”اور کتنے منہ ہوں گے جن پر گرد پڑرہی ہوگی“۔ ”(اور) سیاہی چڑھ رہی ہوگی“۔ ”یہ کفار بدکار ہیں“۔ (عبس ۔ ۳۳ تا ۴۲)

  12. ”جب سورج لپیٹ لیا جائے گا“۔ ”اور جب تارے بے نور ہو جائیں گے“۔ ”اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے“۔ ”اور جب بیانے والی اونٹنیاں بیکار ہو جائیں گی“۔ ”اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں گے“۔ ”اور جب دریا آگ ہو جائیں گے“۔ ”اور جب روحیں (بدنوں سے) ملا دی جائیں گی“۔ ”اور جب اس لڑکی سے جو زندہ دفنا دی گئی ہو پوچھا جائے گا“۔ ”کہ وہ کس گناہ پر مار دی گئی؟“۔ ”اور جب (عملوں کے) دفتر کھولے جائیں گے“۔ ”اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی“۔ ”اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی“۔ ”اور بہشت جب قریب لائی جائیگی“۔ ”تب ہر شخص معلوم کرلے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے“۔

  13. ”جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی“۔ ”اور زمین اپنے (اندر کے) بوجھ نکال ڈالے گی“۔ ”اور انسان کہے گا کہ اسکو کیا ہوا ہے؟“۔ ”اس روز وہ اپنے حالات بیان کر دے گی“۔ ”کیونکہ تمہارے پروردگار نے اسکو حکم بھیجا (ہوگا)“۔ ”اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر آئیں گے“۔ ”تاکہ انکو انکے اعمال دکھا دیئے جائیں“۔ ”تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسکو دیکھ لے گا“۔ ”اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا“۔ (الزلزال ۔ ۱ تا ۸)

  14. ”کھڑکھڑانے والی“۔ ”کھڑکھڑانے والی کیا ہے؟“۔ ”اور تم کیا جانو کہ کھڑکھڑانے والی کیا ہے؟“۔ ”(وہ قیامت ہے) جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے“۔ ”اور پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگ کی اون“۔ ”تو جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے“۔ ”وہ دل پسند عیش میں ہوگا“۔ ”اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے“۔ ”اس کا مرجع ہاویہ ہے“۔ ”اور تم کیا سمجھے کہ ہاویہ کیا چیز ہے؟“۔ ”(وہ) دہکتی ہوئی آگ ہے“۔ (القارعہ ۔ ۱ تا ۱۱)


In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Conditions of the Day of Resurrection (2)

(In the Light of the Qur’an)

  1.  

يَوْمَ نَحْشُرُ ٱلْمُتَّقِينَ إِلَى ٱلرَّحْمَـٰنِ وَفْدًۭا ۝ وَنَسُوقُ ٱلْمُجْرِمِينَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ وِرْدًۭا ۝ لَّا يَمْلِكُونَ ٱلشَّفَـٰعَةَ إِلَّا مَنِ ٱتَّخَذَ عِندَ ٱلرَّحْمَـٰنِ عَهْدًۭا

Transliteration: Yawma naḥshuru al-muttaqīna ilā al-raḥmāni wafdā, wa-nasūqu al-mujrimīna ilā jahannama wirdā, lā yamlikūna al-shafāʿata illā mani ittakhadha ʿinda al-raḥmāni ʿahdā

Translation: “On the Day We shall gather the righteous before the Most Merciful as honored guests. And We shall drive the sinners to Hell, thirsty. None shall have the power of intercession except the one who has taken a covenant with the Most Merciful.” (Maryam :85–87)

  1.  

إِنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعَىٰ

Transliteration: Inna al-sāʿata ātīyatun akādu ukh'fīhā li-tujzā kullu nafsin bimā tasʿā

Translation: “Surely the Hour is coming. I keep it almost hidden so that every soul may be recompensed according to what it strives for.” (Taha :15)

  1.  

یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَىٕذٍ زُرْقًا ۝ يَتَخَـٰفَتُونَ بَيْنَهُمْ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا عَشْرًۭا

Transliteration: Wa-nufikha fī al-ṣūr fa-naḥshuru al-mujrimīna yawmaʾidhin zurqā, yatakhāfatūna baynahum in labithtum illā ʿashrā

Translation: “And the Trumpet will be blown, and on that Day We shall gather the sinners with their eyes turned blue. They will whisper among themselves: ‘You stayed in the world no more than ten days.’” (Taha :102–103)

  1.  

وَنَضَعُ ٱلْمَوَٰزِينَ ٱلْقِسْطَ لِيَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌۭ شَيْـًۭٔا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍۢ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَـٰسِبِينَ

Transliteration: Wa-naḍaʿu al-mawāzīna al-qisṭa li-yawmi al-qiyāmah fa-lā tuẓlamu nafsun shayʾā, wa-in kāna mithqāla ḥabbatin min khardalin ataynā bihā, wa-kafā binā ḥāsibīn

Translation: “And We shall set up the scales of justice on the Day of Resurrection so that no soul will be wronged in the least. Even if it be the weight of a mustard seed, We will bring it forth. And We are sufficient as Reckoners.” (Al-Anbiya :47)

  1.  

يَوْمَ نَطْوِى ٱلسَّمَآءَ كَطَىِّ ٱلسِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ۚ كَمَا بَدَأْنَآ أَوَّلَ خَلْقٍۢ نُّعِيدُهُۥ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَآ ۚ إِنَّا كُنَّا فَـٰعِلِينَ

Transliteration: Yawma naṭwī al-samāʾa ka-ṭayyi al-sijilli lil-kutub kamā badaʾnā awwala khalqin nuʿīduhu waʿdan ʿalaynā innā kunnā fāʿilīn

Translation: “The Day when We shall roll up the heaven like the rolling up of a scroll for writings. As We began the first creation, We shall repeat it — a promise binding upon Us; surely We shall perform it.” (Al-Anbiya :104)

  1.  

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمْ ۚ إِنَّ زَلْزَلَةَ ٱلسَّاعَةِ شَىْءٌ عَظِيمٌ ۝ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا

Transliteration: Yā ayyuhā al-nāsu ittaqū rabbakum inna zalzalata al-sāʿati shayʾun ʿaẓīm, yawma tarawnahā tadhhalu kullu murḍiʿatin ʿammā arḍaʿat wa-taḍaʿu kullu dhāti ḥamlin ḥamlahā

Translation: “O mankind, fear your Lord. Surely the earthquake of the Hour is a tremendous event. On the Day you see it, every nursing mother will forget the child she was nursing, and every pregnant one will miscarry her burden, and you will see the people as if intoxicated, though they will not be intoxicated; but the punishment of Allah is severe.” (Al-Hajj :1–2)

  1.  

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘ يَوْمَ يَدْعُ ٱلدَّاعِ إِلَىٰ شَىْءٍۢ نُّكُرٍۢ ۝ خُشَّعًا أَبْصَـٰرُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ ٱلْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌۭ مُّنتَشِرٌۭ ۝ مُّهْطِعِينَ إِلَى ٱلدَّاعِ ۖ يَقُولُ ٱلْكَـٰفِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌۭ

Transliteration: Fa-tawalla ʿanhum yawma yadʿu al-dāʿi ilā shayʾin nukur, khushshaʿan abṣāruhum yakhrujūna mina al-ajdāthi ka-annahum jarādun muntashir, muhtiʿīna ilā al-dāʿi yaqūlu al-kāfirūna hādhā yawmun ʿasir

Translation: “So turn away from them. On the Day when the caller will call them to a dreadful thing. With humbled eyes they will emerge from the graves as if they were scattered locusts, rushing toward the caller. The disbelievers will say: ‘This is a difficult Day.’” (Al-Qamar :6–8)

  1.  

لَن تَنفَعَكُمْ أَرْحَامُكُمْ وَلَآ أَوْلَـٰدُكُمْ ۚ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

Transliteration: Lan tanfaʿakum arḥāmukum wa-lā awlādukum yawma al-qiyāmah yafṣilu baynakum wa-Allāhu bimā taʿmalūna baṣīr

Translation: “On the Day of Resurrection neither your relatives nor your children will benefit you. He will judge between you. And Allah sees what you do.” (Al-Mumtahanah :3)

  1.  

لَآ أُقْسِمُ بِيَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۝ وَلَآ أُقْسِمُ بِٱلنَّفْسِ ٱللَّوَّامَةِ ۝ أَيَحْسَبُ ٱلْإِنسَـٰنُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُۥ ۝ بَلَىٰ قَـٰدِرِينَ عَلَىٰٓ أَن نُّسَوِّىَ بَنَانَهُۥ ۝ بَلْ يُرِيدُ ٱلْإِنسَـٰنُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُۥ ۝ يَسْـَٔلُ أَيَّانَ يَوْمُ ٱلْقِيَـٰمَةِ

Transliteration: Lā uqsimu bi-yawmi al-qiyāmah wa-lā uqsimu bi-al-nafsi al-lawwāmah…

Translation: “I swear by the Day of Resurrection, and I swear by the self-reproaching soul. Does man think that We shall not gather his bones? Yes, We are able even to restore his fingertips. But man desires to continue in sin ahead of him. He asks: ‘When will the Day of Resurrection be?’” (Al-Qiyamah :1–13)

  1.  

يَوْمَ تَرْجُفُ ٱلرَّاجِفَةُ ۝ تَتْبَعُهَا ٱلرَّادِفَةُ ۝ قُلُوبٌۭ يَوْمَئِذٍۢ وَاجِفَةٌۭ ۝ أَبْصَـٰرُهَا خَـٰشِعَةٌۭ

Transliteration: Yawma tarjufu al-rājifah tatbaʿuhā al-rādifah qulūbun yawmaʾidhin wājifah abṣāruhā khāshiʿah

Translation: “On the Day when the first blast will shake everything, followed by the second. Hearts on that Day will tremble, and their eyes will be downcast.” (An-Nazi‘at :6–9)

  1.  

فَإِذَا جَآءَتِ ٱلصَّآخَّةُ ۝ يَوْمَ يَفِرُّ ٱلْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ ۝ وَأُمِّهِۦ وَأَبِيهِ ۝ وَصَـٰحِبَتِهِۦ وَبَنِيهِ ۝ لِكُلِّ ٱمْرِئٍۢ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍۢ شَأْنٌۭ يُغْنِيهِ

Transliteration: Fa-idhā jāʾati al-ṣākhkhah yawma yafirru al-marʾu min akhīhi wa-ummihi wa-abīhi wa-ṣāḥibatihi wa-banīh

Translation: “But when the deafening blast comes — on that Day a man will flee from his brother, and from his mother and his father, and from his wife and his children. For every person on that Day will have a matter that will occupy him.” (Abasa :33–42)

  1.  

إِذَا ٱلشَّمْسُ كُوِّرَتْ ۝ وَإِذَا ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتْ ۝ وَإِذَا ٱلْجِبَالُ سُيِّرَتْ ۝ وَإِذَا ٱلْعِشَارُ عُطِّلَتْ

Transliteration: Idhā al-shamsu kuwwirat wa-idhā al-nujūmu inkadarat wa-idhā al-jibālu suyyirat

Translation: “When the sun is wrapped up, and when the stars fall losing their light, and when the mountains are set in motion, and when the pregnant camels are neglected… then every soul will know what it has brought.” (At-Takwir :1–14)

  1.  

إِذَا زُلْزِلَتِ ٱلْأَرْضُ زِلْزَالَهَا ۝ وَأَخْرَجَتِ ٱلْأَرْضُ أَثْقَالَهَا ۝ وَقَالَ ٱلْإِنسَـٰنُ مَا لَهَا ۝ يَوْمَئِذٍۢ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا

Transliteration: Idhā zulzilati al-arḍu zilzālahā wa-akhrajati al-arḍu athqālahā

Translation: “When the earth is shaken with its final earthquake, and the earth brings forth its burdens, and man says: ‘What is happening to it?’ On that Day it will report its news.” (Az-Zalzalah :1–8)

  1.  

ٱلْقَارِعَةُ ۝ مَا ٱلْقَارِعَةُ ۝ وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْقَارِعَةُ ۝ يَوْمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلْفَرَاشِ ٱلْمَبْثُوثِ ۝ وَتَكُونُ ٱلْجِبَالُ كَٱلْعِهْنِ ٱلْمَنفُوشِ

Transliteration: Al-qāriʿah mā al-qāriʿah wa-mā adrāka mā al-qāriʿah

Translation: “The Striking Calamity! What is the Striking Calamity? And what will make you know what the Striking Calamity is? It is the Day when people will be like scattered moths, and the mountains will be like carded wool.” (Al-Qari‘ah :1–11)