دجال کا فتنہ، اسکی شدت اور مدت

اشاعت: 24-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
Fitna e Dajjal ki shiddat aur muddat – hadith ki roshni mein Qiyamah ki bari nishaniyan

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دجال کا فتنہ، اسکی شدت اور مدت (قیامت کی بڑی نشانیاں)

(احادیث کی روشنی میں)

دجال کا فتنہ :۔

  • ”حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے دجال کے بارے میں ارشاد فرمایا ’اسکے ساتھ پانی اور آگ ہوگی، درحقیقت اسکی آگ ٹھنڈا پانی ہوگا اور اس کا پانی آگ ہوگی (خبردار!) اپنے آپ کو ہلاک نہ کرلینا‘ (مسلم)“

  • ”حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ’دجال جب نکلے گا تو اس کے پاس پانی اور آگ ہوں گے جسے لوگ پانی سمجھیں گے وہ درحقیقت جلانے والی آگ ہوگی اور جسے لوگ آگ سمجھیں گے درحقیقت وہ ٹھنڈا شیریں پانی ہوگا لہٰذا تم میں سے جو کوئی وہ موقع پائے تو اسے چاہئے کہ وہ آگ میں کود پڑے کیونکہ وہ میٹھا اور پاکیزہ پانی ہے‘۔ (صحیح مسلم)“

  • ”حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ایک روز رسول اکرم نے دجال کا ذکر فرمایا ہم نے عرض کیا ’یا رسول اللہ ! زمین میں اس کا گھومنا کس تیزی سے ہوگا؟‘ آپ نے ارشاد فرمایا ’اس بارش کی طرح جسے ہوا پیچھے سے دھکیلتی ہے وہ ایک قوم کے پاس آئے گا اور انہیں اپنے آپ پر ایمان لانے کی دعوت دے گا وہ ایمان لے آئیں گے اور اسکی بات مان لیں گے چنانچہ وہ آسمان کو حکم دے گا اور وہ بارش برسائے گا، زمین کو حکم دے گا اور وہ نباتات اگائے گی شام کے وقت (لوگوں) جانور چراگاہوں سے واپس آئیں گے تو ان کی کوہانیں پہلے سے بڑی ہوں گی تھن کشادہ ہوں گے اور پسلیاں خوب بھری ہوں گی۔ پھر وہ دوسری قوم کے پاس جائے گا اور انہیں اپنے آپ پر ایمان لانے کی دعوت دے گا لیکن وہ اسکی دعوت کا انکار کر دیں گے چنانچہ دجال وہاں سے چلا جائے گا اور ان پر قحط سالی مسلط ہو جائے گی اور ان کے مالوں میں سے کچھ بھی ان کے پاس نہ رہے گا۔ دجال ویران جگہ کی طرف چلا جائے گا اور زمین کو حکم دے گا اپنے خزانے اگل دے تو زمین اپنے خزانے اس طرح نکال کر جمع کردے گی جس طرح شہد کی مکھیاں بڑی مکھیوں کے گرد ہجوم کرتی ہیں‘۔ (صحیح مسلم)“

فتنہ دجال کی شدت :۔

  • ”حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’آدم سے لے کر قیامت تک اللہ کی مخلوق میں سے (فتنہ) دجال سے بڑا اور کوئی (فتنہ) نہیں ہوگا‘۔ (صحیح مسلم)“

  • ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں رسول اکرم تشریف لائے اور میں رو رہی تھی آپ نے دریافت فرمایا کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا ’یا رسول اللہ دجال یاد آگیا ہے اس وجہ سے رو رہی ہوں‘۔ آپ نے ارشاد فرمایا اگر دجال میری موجودگی میں نکلا تو تم سب کی طرف سے میں اس کیلئے کافی ہوں گا لیکن اگر وہ میرے بعد نکلا تو یاد رکھنا تمہارا رب کانا نہیں ہے‘۔ (مسند احمد)“

فتنہ دجال سے ڈر کر مسلمان پہاڑوں میں جا چھپیں گے :۔

  • ”حضرت اُم شریک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم کو فرماتے ہوئے سنا ہے ’لوگ دجال (سے) بھاگ کر پہاڑوں میں چلے جائیں گے‘۔ حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ’یا رسول اللہ ! اس روز عرب (مسلمان) کہاں ہوں گے؟ آپ نے ارشاد فرمایا ’وہ اس روز تعداد میں کم ہوں گے‘۔ (صحیح مسلم)“

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ دُنیا کا کوئی شہر دجال کے فتنہ سے محفوظ نہیں ہوگا :۔

  • ”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ’کوئی شہر ایسا نہیں جس میں دجال داخل نہ ہو سوائے مکہ اور مدینہ کے، فرشتے مکہ اور مدینہ کے راستوں پر صف باندھے کھڑے ہوں گے اور ان دونوں شہروں کی حفاظت کریں گے دجال مدینہ منورہ کی سنگلاخ زمین تک پہنچے گا تو تین بار زلزلہ آئے گا اور مدینہ منورہ میں موجود تمام کافر اور منافق دجال کے پاس چلے جائیں گے‘۔ (صحیح مسلم)“

فتنہ دجال کی مدت :۔

  • ہمارے شب وروز کے مطابق فتنہ دجال کی مدت ایک سال دو ماہ اور دو ہفتہ ہوگی :۔

  • ”حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ایک روز رسول اکرم نے دجال کا ذکر فرمایا اور نصیحت فرمائی ’اے اللہ کے بندو! ثابت قدم رہنا‘۔ ہم نے عرض کیا ’دجال کتنی مدت تک زمین میں رہے گا؟ آپ نے ارشاد فرمایا ’چالیس روز، جن میں سے پہلا دن ایک سال کے برابر ہوگا دوسرا دن ایک مہینہ کے برابر ہوگا اور تیسرا روز ہفتہ کے برابر ہوگا اور اسکے بعد ۳۷ روز تمہارے شب وروز کے برابر ہوں گے۔ ہم نے عرض کیا ’یا رسول اللہ پہلا دن جو سال کے برابر ہوگا اس میں ایک دن کی نمازیں ہی کافی ہوگی؟ آپ نے ارشاد فرمایا ’نہیں اپنے روز و شب کا اندازہ کر کے نمازیں پڑھنا‘ (صحیح مسلم)“

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

The Trial of Dajjāl, Its Severity and Duration (Major Signs of the Day of Judgment)

(In the Light of Ḥadīth)

The trial of Dajjāl:

    Ḥudhayfah (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet that he said regarding Dajjāl:
    “He will have with him water and fire. In reality, his fire will be cool water, and his water will be fire. Beware, do not destroy yourselves.”
    (Ṣaḥīḥ Muslim)

    Ḥudhayfah (may Allah be pleased with him) also narrated that the Messenger of Allah said:
    “When Dajjāl appears, he will have with him water and fire. What people will think is water will in fact be burning fire, and what they will think is fire will in fact be cool, sweet water. Whoever among you lives to see that time should plunge into what appears to be fire, for it will be pure and pleasant water.”
    (Ṣaḥīḥ Muslim)

    Nawwās ibn Samʿān (may Allah be pleased with him) narrated that one day the Messenger of Allah mentioned Dajjāl. We asked: “O Messenger of Allah, how fast will he travel across the earth?”
    He replied:
    “Like rain driven by the wind. He will come to a people and call them to believe in him; they will believe and respond to him. Then he will command the sky and it will rain, and command the earth and it will produce vegetation. By evening, their livestock will return with humps larger than before, udders full, and sides well-fed.
    Then he will come to another people and call them to believe in him, but they will reject him. He will leave them, and they will suffer drought, and all their wealth will perish.
    Then he will pass by a desolate land and command it to bring forth its treasures, and its treasures will follow him like swarms of bees.”
    (Ṣaḥīḥ Muslim)

The severity of the trial of Dajjāl:

    Hishām ibn ʿĀmir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah said:
    “From the time of Ādam until the Day of Judgment, there will be no trial greater than that of Dajjāl.”
    (Ṣaḥīḥ Muslim)

    ʿĀʾishah (may Allah be pleased with her) narrated:
    The Messenger of Allah came to me while I was weeping. He asked, “Why are you crying?”
    I said, “O Messenger of Allah, I remembered Dajjāl.”
    He said:
    “If Dajjāl appears during my lifetime, I will suffice you against him. But if he appears after me, then remember that your Lord is not one-eyed.”
    (Musnad Aḥmad)

Believers will flee to the mountains out of fear of Dajjāl:

    Umm Sharīk (may Allah be pleased with her) narrated that she heard the Prophet say:
    “People will flee from Dajjāl to the mountains.”
    She asked: “O Messenger of Allah, where will the Arabs be at that time?”
    He replied: “They will be few in number.”
    (Ṣaḥīḥ Muslim)

No city will remain safe from Dajjāl except Makkah and Madinah:

    Anas ibn Mālik (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah said:
    “There will be no city that Dajjāl will not enter except Makkah and Madinah. Angels will stand guarding every entrance to them. Dajjāl will reach the rocky outskirts of Madinah; it will shake three times, and every disbeliever and hypocrite will leave it and go to him.”
    (Ṣaḥīḥ Muslim)

The duration of the trial of Dajjāl:

    According to our reckoning of days and nights, the period of Dajjāl’s presence will equal approximately one year, two months, and two weeks.

    Nawwās ibn Samʿān (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah said:
    “He will remain on earth for forty days: one day like a year, one day like a month, one day like a week, and the remaining thirty-seven days like your normal days.”
    We asked: “O Messenger of Allah, on the day that is like a year, will the prayers of one day suffice?”
    He said: “No. Estimate the time and observe the prayers accordingly.”
    (Ṣaḥīḥ Muslim)