بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قیامت کی علامات صغریٰ (۳)
(احادیث کی روشنی میں)
بعض عرب قبائل بتوں کی عبادت شروع کر دیں گے اور بعض قبائل مشرکوں کے ساتھ مل جائیں گے :۔
-
”حضرت ثوبان، رسول اکرم ﷺ کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ مجھے اپنی امت کے بارے میں گمراہ کرنے والے حاکموں کا سب سے زیادہ خوف ہے (کہ وہ دین کو بہت نقصان پہنچائیں گے) میری امت کے بعض قبائل عنقریب بتوں کی عبادت شروع کر دیں گے اور بعض قبائل مشرکوں کیساتھ مل جائیں گے قیامت سے پہلے تقریباً تیس جھوٹے دجال ظاہر ہوں گے جن میں ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا ان کی ہمیشہ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) مدد ہوتی رہے گی اور کوئی مخالف قوت انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گی حتی کہ اللہ کا امر (یعنی قیامت) آجائے۔“ (سنن ابن ماجہ)
قیامت کے قریب لات اور عزیٰ کی اسی طرح عبادت شروع ہو جائے گی جس طرح زمانہ جاہلیت میں ہوتی تھی :۔
-
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :۔ دن رات ختم نہیں ہوں گے جب تک لات اور عزیٰ کی عبادت (دوبار) نہ شروع ہو جائے۔ میں نے عرض کیا:۔ یا رسول اللہ ﷺ میں تو سمجھتی تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرما دیا :۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تا کہ اسے باقی سارے ادیان پر غالب کر دے، خواہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔ (سورۃ توبہ، آیت ۳۳) تو اب یہ ہمیشہ کیلئے ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:۔ ایسا ہوگا جب تک اللہ چاہے گا۔“ (صحیح مسلم)
تجارت عام ہو جائے گی :۔
-
”حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ مال عام جائے گا اور بہت بڑھ جائے گا، تجارت عام ہو جائے گی، قلم ظاہر ہوگا، ایک آدمی مال فروخت کرے گا لیکن پھر انکار کر دے گا کہے گا نہیں، پہلے میں فلاں تاجر سے مشورہ کرلوں (یعنی بدعہدی کرے گا) اور ایک بڑے محلہ میں کوئی لکھنے والا (یعنی منشی یا محرر وغیرہ) تلاش کیا جائے گا تو نہیں ملے گا۔“ (سنن نسائی)
تجارت اس قدر عام ہوگی کہ عورتیں بھی مردوں کے ساتھ تجارت میں معاونت کریں گی :۔
-
”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ قیامت سے پہلے سلام صرف جان پہچان والوں سے کیا جائے گا، تجارت اس قدر عام ہوگی کہ بیوی اپنے شوہر کی معاون ہوگی اور قطع رحمی عام ہو جائے گی۔“ (مسند احمد)
دولت مند لوگ صدقہ خیرات دینے کیلئے لوگوں کو بلائیں گے لیکن صدقہ لینے کیلئے کوئی نہ آئے گا :۔
-
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:۔ قیامت سے پہلے مال اسقدر بڑھ جائے گا کہ دولت مند سوچے گا کہ اس کا صدقہ کون قبول کرے گا وہ کسی آدمی کو صدقہ لینے کیلئے بلائے گا لیکن وہ کہے گا مجھے اسکی ضرورت نہیں۔ (صحیح مسلم)
کثرت مال، قیامت کی نشانیوں میں سے ہے :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ مال کی کثرت ہو جائے، فتنہ ظاہر ہوں اور ہرج بہت زیادہ ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا :۔ یا رسول اللہ ﷺ ! ہرج کیا ہے؟ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا : قتل، قتل، قتل۔“ (سنن ابن ماجہ)