بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قیامت کی علامات صغریٰ (۵)
(احادیث کی روشنی میں)
انسان اپنے ہی عزیز واقارب اور اپنے ہی اڑوس پڑوس کے لوگوں کو قتل کرے گا :۔
-
”حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’قیامت سے پہلے ہرج ہوگا‘ ۔ میں نے عرض کیا ’یا رسول اللہ ﷺ! ہرج کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’قتل‘ ، بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! قتل تو اب بھی ہوتا ہے ہم ایک ایک سال میں کتنے کتنے مشرکوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’ہرج سے مراد مشرکوں کا قتل نہیں بلکہ تم (مسلمان) آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو گے حتیٰ کہ آدمی اپنے پڑوسی، اپنے چچا زاد بھائی اور اپنے دیگر عزیز واقارب کو قتل کرے گا‘“۔ (سنن ابن ماجہ ۔ ح ۳۱۹۸)
مسلمان کفار کی پیروی کریں گے :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’قیامت قائم نہیں ہو گے جب تک میری اُمت پہلی اُمتوں کے طور طریقے اختیار نہ کر لے ایک بالشت بالشت کے، گو تم بھی ایک بالشت چلو گے اگر وہ ایک ہاتھ چلیں گے تو تم بھی ایک ہاتھ چلو گے‘۔ عرض کیا گیا ’یارسول اللہ ﷺ! پہلی اُمتوں سے مراد آتش پرست اور عیسائی ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’پھر اور کون؟‘ “۔ (صحیح بخاری)
اچانک موت :۔
-
”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’قیامت کے قریب (پہلی رات کا) چاند بڑا نظر آئیگا لوگ اسے دوسری رات کا چاند کہیں گے، مساجد کو راستہ بنا لیا جائیگا (یعنی لوگ مساجد سے گزریں گے یا زیارت کریں گے لیکن نماز نہیں پڑھیں گے) اور اچانک موت عام ہو گی‘“۔ (طبرانی ۔ ح ۵۷۷۵)
قیامت کے قریب درندے اور بے جان چیزیں کلام کریں گی :۔
-
”حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’قیامت قائم نہ ہوگی جب تک درندے انسانوں سے بات نہ کریں، آدمی کی چھڑی کا چھلا کا اس سے بات نہ کرے اور آدمی کی ران اسے بتا نہ دے کہ اسکی بیوی نے (اسکی عدم موجودگی میں) کیا کچھ کیا ہے‘“۔ (جامع ترمذی ۔ ح ۲۱۷۷)
زلزلوں کی کثرت :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ علم اٹھا لیا جائیگا، زلزلے کثرت سے آئیں گے، وقت گھٹ جائیگا، ہرج بہت زیادہ ہوگا، ہرج سے مراد قتل ہے‘“۔ (صحیح بخاری)
اہل ایمان کا اجنبی ہونا :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’اسلام کی ابتداء بھی اجنبیت سے ہوئی تھی اور (آخری زمانے میں) یہ اجنبیت کی طرف ہی پلٹ جائیگا، لہذا مبارک ہو اجنبی لوگوں کو‘“۔ (صحیح مسلم)
-
وضاحت :۔ اجنبی بننے کا مطلب یہ ہے کہ عام لوگ ان سے میل جول رکھنا اور تعلقات قائم کرنا پسند نہیں کریں گے۔
ایمان کا حرمین شریفین میں پلٹ آنا :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’یقیناً ایمان سمٹ کر اسی طرح مدینہ میں آجائیگا، جس طرح سانپ سمٹ کر اپنے بل میں آجاتا ہے‘“۔ (صحیح مسلم)