بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جنگیں (۱) (علامات قیامت)
(احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’بیت المقدس کی آبادی، مدینہ منورہ کی خرابی کا باعث بنے گی اور مدینہ منورہ کی خرابی سے جنگوں کی ابتداء ہوگی اور جنگوں کے ظہور کے بعد قسطنطنیہ (استنبول) فتح ہوگا اور قسطنطنیہ کی فتح کے بعد دجال ظاہر ہوگا‘۔ یہ ارشاد فرمانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے ران یا کندھے پر مارا اور فرمایا ’یہ بات اسی طرح یقینی ہے جس طرح تیرا اور جو یہاں یقینی یا جیسے تیرا یہاں بیٹھنا یقینی ہے‘۔ (ابو داؤد)
-
”نبی اکرم ﷺ نے ایک صحابی حضرت ذی مخمر رضی اللہ عنہ سے کہا تم روم (کے عیسائیوں) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’تم روم (کے عیسائیوں) سے صلح کرو گے اور دونوں مل کر ایک اور دشمن سے لڑو گے جو تمہارے پیچھے ہوگا تم لوگ فتح حاصل کرو گے، غنیمت حاصل کرو گے اور سلامتی کے ساتھ واپس آؤ گے اور ایک ٹیلوں والے میدان میں پڑاؤ ڈالو گے وہاں ایک عیسائی صلیب بلند کر کے کہے گا کہ صلیب کو فتح ہوئی مسلمانوں میں سے ایک آدمی اس بات پر غضبناک ہو کر عیسائی کو مارے گا جس پر اہل روم عہد شکنی کریں گے اور دوسرے عیسائیوں کو جنگ کیلئے اکٹھا کریں گے (دوسری طرف مسلمان تنہارہ جائیں گے اور شہید ہوں گے)‘۔ (سنن ابو داؤد)
-
”حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’اہل روم اور تمہارے درمیان صلح ہوگی پھر اہل روم تمہارے ساتھ غداری کریں گے اور تمہارے مقابلے میں اسی جھنڈوں (یعنی اسی ممالک) کے ساتھ فوج لے کر آئیں گے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہوگی‘۔ (سنن ابن ماجہ)
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’قیامت سے پہلے یہ ہوگا کہ رومی (عیسائی) لشکر عماق یا دابق میں پڑاؤ کرے گا پھر مدینہ منورہ سے ایک لشکر (رومیوں کے مقابلے کیلئے) نکلے گا وہ لشکر زمین والوں میں سے بہترین لشکر ہوگا۔ جب دونوں لشکر (یعنی مسلمان اور عیسائی) صفیں باندھ لیں گے تو عیسائی (مدنی مسلمانوں سے) کہیں گے کہ تم (شامی مسلمانوں سے) الگ ہو جاؤ۔ انہوں نے ہمارے مردوں ،عورتوں کو غلام بنایا ہے ہم صرف انہی سے جنگ کریں گے مدنی مسلمان کہیں گے ”واللہ! ہم اپنے بھائیوں کو تمہارے مقابلے کیلئے کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے“۔ پھر دونوں لشکروں (یعنی مسلمانوں اور عیسائیوں) کے درمیان لڑائی ہوگی ،مسلمانوں کا ایک تہائی لشکر بھاگ جائے گا اللہ تعالیٰ ان کی توبہ کبھی قبول نہیں فرمائے گا۔ ایک تہائی مارا جائے گا یہ اللہ کہ ہاں بہترین شہداء کا درجہ پائیں گے، ایک تہائی فتح پائیں گے یہ ایک تہائی مجاہد کبھی فتنہ میں نہیں پڑیں گے۔ اس فتح کے بعد مسلمانوں کا لشکر استنبول کو فتح کرے گا، یہ لوگ (فتح کے بعد) اپنی تلواروں کو زیتون کے درختوں سے باندھ کر مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے کہ شیطان پکارے گا تمہارے پیچھے اہل وعیال میں دجال آگیا ہے ۔ چنانچہ مسلمان (استنبول سے) نکل کر بھاگیں گے (راستے میں معلوم ہوگا) کہ یہ خبر تو جھوٹی ہے لیکن جب شام پہنچیں گے تو دجال ظاہر ہوجائے گا“۔ (صحیح مسلم)
آئندہ سلائیڈز میں جنگوں ہی کی بقیہ احادیث ہوں گی، انشاء اللہ۔
یاد دھانی! ”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ”جس نے غیر اللہ کی قسم اٹھائی اُس نے شرک کیا“۔ (صحیح بخاری)