جنگیں (۱)

اشاعت: 24-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
Jangein aur qiyamat ki nishaniyan hadith ki roshni mein

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جنگیں (۱) (علامات قیامت)

(احادیث کی روشنی میں)

  • ”حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، رسول اللہ نے فرمایا ’بیت المقدس کی آبادی، مدینہ منورہ کی خرابی کا باعث بنے گی اور مدینہ منورہ کی خرابی سے جنگوں کی ابتداء ہوگی اور جنگوں کے ظہور کے بعد قسطنطنیہ (استنبول) فتح ہوگا اور قسطنطنیہ کی فتح کے بعد دجال ظاہر ہوگا‘۔ یہ ارشاد فرمانے کے بعد رسول اللہ نے اپنا ہاتھ مبارک حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے ران یا کندھے پر مارا اور فرمایا ’یہ بات اسی طرح یقینی ہے جس طرح تیرا اور جو یہاں یقینی یا جیسے تیرا یہاں بیٹھنا یقینی ہے‘۔ (ابو داؤد)

  • ”نبی اکرم نے ایک صحابی حضرت ذی مخمر رضی اللہ عنہ سے کہا تم روم (کے عیسائیوں) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’تم روم (کے عیسائیوں) سے صلح کرو گے اور دونوں مل کر ایک اور دشمن سے لڑو گے جو تمہارے پیچھے ہوگا تم لوگ فتح حاصل کرو گے، غنیمت حاصل کرو گے اور سلامتی کے ساتھ واپس آؤ گے اور ایک ٹیلوں والے میدان میں پڑاؤ ڈالو گے وہاں ایک عیسائی صلیب بلند کر کے کہے گا کہ صلیب کو فتح ہوئی مسلمانوں میں سے ایک آدمی اس بات پر غضبناک ہو کر عیسائی کو مارے گا جس پر اہل روم عہد شکنی کریں گے اور دوسرے عیسائیوں کو جنگ کیلئے اکٹھا کریں گے (دوسری طرف مسلمان تنہارہ جائیں گے اور شہید ہوں گے)‘۔ (سنن ابو داؤد)

  • ”حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم نے ارشاد فرمایا ’اہل روم اور تمہارے درمیان صلح ہوگی پھر اہل روم تمہارے ساتھ غداری کریں گے اور تمہارے مقابلے میں اسی جھنڈوں (یعنی اسی ممالک) کے ساتھ فوج لے کر آئیں گے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہوگی‘۔ (سنن ابن ماجہ)

  • ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ’قیامت سے پہلے یہ ہوگا کہ رومی (عیسائی) لشکر عماق یا دابق میں پڑاؤ کرے گا پھر مدینہ منورہ سے ایک لشکر (رومیوں کے مقابلے کیلئے) نکلے گا وہ لشکر زمین والوں میں سے بہترین لشکر ہوگا۔ جب دونوں لشکر (یعنی مسلمان اور عیسائی) صفیں باندھ لیں گے تو عیسائی (مدنی مسلمانوں سے) کہیں گے کہ تم (شامی مسلمانوں سے) الگ ہو جاؤ۔ انہوں نے ہمارے مردوں ،عورتوں کو غلام بنایا ہے ہم صرف انہی سے جنگ کریں گے مدنی مسلمان کہیں گے ”واللہ! ہم اپنے بھائیوں کو تمہارے مقابلے کیلئے کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے“۔ پھر دونوں لشکروں (یعنی مسلمانوں اور عیسائیوں) کے درمیان لڑائی ہوگی ،مسلمانوں کا ایک تہائی لشکر بھاگ جائے گا اللہ تعالیٰ ان کی توبہ کبھی قبول نہیں فرمائے گا۔ ایک تہائی مارا جائے گا یہ اللہ کہ ہاں بہترین شہداء کا درجہ پائیں گے، ایک تہائی فتح پائیں گے یہ ایک تہائی مجاہد کبھی فتنہ میں نہیں پڑیں گے۔ اس فتح کے بعد مسلمانوں کا لشکر استنبول کو فتح کرے گا، یہ لوگ (فتح کے بعد) اپنی تلواروں کو زیتون کے درختوں سے باندھ کر مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے کہ شیطان پکارے گا تمہارے پیچھے اہل وعیال میں دجال آگیا ہے ۔ چنانچہ مسلمان (استنبول سے) نکل کر بھاگیں گے (راستے میں معلوم ہوگا) کہ یہ خبر تو جھوٹی ہے لیکن جب شام پہنچیں گے تو دجال ظاہر ہوجائے گا“۔ (صحیح مسلم)

آئندہ سلائیڈز میں جنگوں ہی کی بقیہ احادیث ہوں گی، انشاء اللہ۔

یاد دھانی! ”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا ”جس نے غیر اللہ کی قسم اٹھائی اُس نے شرک کیا“۔ (صحیح بخاری)

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Wars (1) — Signs of the Day of Judgment

(In the Light of Ḥadīth)

    Muʿādh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah said:
    “The flourishing of Bayt al-Maqdis will lead to the decline of Madinah, the decline of Madinah will lead to the beginning of wars, after the outbreak of wars Constantinople will be conquered, and after the conquest of Constantinople the Dajjāl will appear.”
    After saying this, the Messenger of Allah struck his blessed hand on the thigh or shoulder of Muʿādh (may Allah be pleased with him) and said:
    “This matter is as certain as your being here (sitting).”
    (Sunan Abū Dāwūd)

    The Prophet said to a Companion, Dhū Mikhmar (may Allah be pleased with him), that:
    “You will make peace with the Romans (Christians), then you and they will together fight a common enemy behind you. You will gain victory, acquire spoils, and return safely. Then you will camp in a plain with small hills. A Christian will raise the cross and say, ‘The cross has triumphed.’ A Muslim will become angry and kill him, after which the Romans will break the treaty and gather their forces for war.”
    (Sunan Abū Dāwūd)

    ʿAwf ibn Mālik al-Ashjaʿī (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah said:
    “There will be a truce between you and the Romans, then they will betray you and march against you with eighty banners, and under each banner there will be twelve thousand soldiers.”
    (Sunan Ibn Mājah)

    Abū Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah said:
    “Before the Hour, the Romans will camp at al-Aʿmāq or Dābiq. An army from Madinah — among the best people of the earth at that time — will go out to face them. When they line up for battle, the Romans will say: ‘Leave those (Muslims) who captured our people; we will fight them only.’ The Muslims will say: ‘By Allah! We will never leave our brothers alone.’ Then the battle will occur. One-third will flee — Allah will never accept their repentance. One-third will be martyred — they will be the best martyrs in the sight of Allah. One-third will be victorious — they will never be afflicted by trial. After this victory they will conquer Constantinople. While they are distributing the spoils, Satan will cry out that Dajjāl has appeared among their families. They will leave, but will later discover it was false; however, when they reach Syria, Dajjāl will truly emerge.”
    (Ṣaḥīḥ Muslim)

Further narrations regarding wars will be presented in the upcoming slides, in shāʾ Allāh.

Reminder:

    ʿAbdullāh ibn ʿUmar (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet said:
    “Whoever swears by other than Allah has committed shirk.”
    (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī)