بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احوال قیامت (۲)
(احادیث کی روشنی میں)
اس حدیث کا کچھ حصہ پچھلی سلائیڈ میں بیان کیا جاچکا ہے، بقیہ اس سلائیڈ میں بیان کیا جارہا ہے۔
-
”چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام دجال کو تلاش کریں گے یہاں تک کہ اسے ’لد‘ شہر کے دروازے پر پائیں گے تو اسے قتل کر دیں گے اس کے بعد وہ ان لوگوں کے پاس جائیں گے جن کو اللہ نے دجال سے تحفظ دیا تھا وہ انکے چہروں پر ہاتھ پھیریں گے اور انہیں جنت میں ان کے درجات کے بارے میں بتائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام ابھی اسی حالت میں ہوں گے کہ اچانک اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کی جانب وحی کریں گے کہ میں نے ایسے پہاڑ سے بندوں کو باہر نکالا ہے کہ کوئی شخص بھی اُن کے ساتھ نبرد آزما نہیں ہو سکتا اسلئے آپ میرے بندوں کو طور (پہاڑ) میں محفوظ کرلیں، اس وقت اللہ تعالیٰ یاجوج اور ماجوج کو نکالے گا (وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مصداق دوڑتے ہوئے آئیں گے) اور ’وہ اونچی جگہوں سے دوڑتے ہوئے آئیں گے‘ ان کا پہلا دستہ بحیرہ ’طبریہ‘ کے پاس سے گزرے گا وہ اس میں موجود تمام پانی کو پی کر ختم کردیں گے اور جب ان کا آخری دستہ گزرے گا تو وہ (اس خیال کا) اظہار کریں گے کہ کبھی یہاں پانی ہوا کرتا تھا، اس کے بعد وہ چلیں گے یہاں تک کہ وہ جبل خمر تک پہنچ جائیں گے جو بیت المقدس کا ایک پہاڑ ہے اور وہ (بلند آواز سے) کہیں گے زمین پر (آباد) سب مخلوق کو ختم کر دیا ہے، چلو (اب) ہم آسمان میں موجود مخلوق کو بھی موت سے ہمکنار کردیں۔ چنانچہ وہ اپنے تیروں کو آسمان کی جانب پھینکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی جانب سے پھینکے گئے ان کے تیروں کو خون آلود کر کے واپس بھیجے گا اور اللہ کے پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے رفقاء محصور ہو جائیں گے، یہاں تک کہ (اسباب معیشت کی تنگی کی وجہ سے) بیل کا سر اُن کے نزدیک تمہارے آج کے سو دینار سے بہتر ہو گا چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے رفقاء اللہ تعالیٰ سے دُعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ یاجوج اور ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا داخل کر دیں گے، وہ سب کے سب موت سے ہمکنار ہو جائیں گے، جیسے کوئی شخص موت سے ہمکنار ہوتا ہے اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے رفقاء میدانی علاقے میں اُتریں گے۔ زمین پر ایک بالشت جگہ بھی ایسی نہ ہوگی جو یاجوج اور ماجوج کی چربی اور بدبو سے خالی ہو، پھر عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے رفقاء اللہ تعالیٰ سے دُعا کریں گے۔ تب اللہ تعالیٰ ایسے پرندے اُتاریں گے جن کی گردنیں خراسانی نسل کے اُونٹوں کی گردنوں کی مثل ہوں گی۔ وہ اُن (کی لاشوں) کو اُٹھا کر وہاں پھینک دیں گے جہاں اللہ چاہے گا اور ایک روایت میں ہے کہ پرندے اُن کی لاشوں کو نہبل (مقام) پر پھینک دیں گے اور مسلمان اُن کی کمانوں اُن کے تیروں اُن کے ترکشوں کو ساٹھ سال تک بطور ایندھن جلاتے رہیں گے اس کے بعد اللہ تعالیٰ موسلادھار بارش برسائے گا۔ جو تمام گھروں پر برسے گی خواہ وہ اینٹوں کے بنے ہوئے ہوں یا اُونی خیمے ہوں اس بارش سے زمین دُھل کر آئینے کی مانند شفاف ہو جائے گی۔ اس کے بعد زمین کو حکم دیا جائے گا کہ وہ اپنے پھل اُگائے اور اپنی برکات نچھاور کرے، ان دنوں ایک جماعت کیلئے ایک انار کافی رہے گا اور وہ اسکے چھلکے کے سائے میں آرام کر سکیں گے۔ اور دودھ میں برکت ہوگی، یہاں تک کہ ایک اُونٹنی کا دودھ ایک جماعت کو کفایت کرے گا اور گائے کا دودھ ایک قبیلے کے لئے کافی رہے گا اور ایک بکری کا دودھ مختصر خاندان کیلئے کافی رہے گا وہ اس حالت میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ عمدہ قسم کی ہوا بھیجے گا وہ ان کی بغلوں میں داخل ہو جائے گی اور تمام مومنوں اور مسلمانوں کو موت کے حوالے کر دے گی (پھر) بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے، جو زمین پر گدھوں کی مانند نفسانی خواہشات کی تکمیل کریں گے۔ چنانچہ اُن پر قیامت قائم ہو گی۔“۔ (صحیح مسلم)
وضاحت :- روایت کے یہ الفاظ کہ ’پرندے اُن کی لاشوں‘ سے ’جلاتے رہیں گے‘ کو امام مسلم نے ذکر نہیں کیا۔ ان کو ترمذی نے ذکر کیا ہے۔ اس حدیث میں واقعات مسلسل تسلسل کے ساتھ آئے ہیں انکی علیحدہ علیحدہ تفصیل بقیہ احادیث میں موجود ہے۔