بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احوال قیامت (۱)
(احادیث کی روشنی میں)
-
”نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میری موجودگی میں اسکا خروج ہوا تو میں تمہاری جانب سے بھی اس پر دلیل کے ساتھ غالب آجاؤں گا اور اگر اس کا خروج میری عدم موجودگی میں ہوا ، تو ہر شخص اپنی جانب سے اسکے ساتھ مقابلہ کرے اور ہر مسلمان کیلئے اللہ تعالیٰ میرا خلیفہ ہوگا ، بلاشبہ دجال جوان گھنگریالے بالوں والا ہوگا اسکی (ایک) آنکھ پھولی ہوئی ہوگی ، گویا کہ میں اُسکو عبدالعزّی بن قطن کے مشابہ سمجھتا ہوں، تم میں سے جس شخص سے اُسکی ملاقات ہو جائے وہ اُس پر سُورۃ کہف کی ابتدائی آیات پڑھ کر دم کرے اور ایک روایت میں ہے، وہ اس پر سُورۃ کہف کی ابتدائی آیات تلاوت کرے، اس لئے کہ ان آیات کے سبب تمھیں اس کے فتنے سے بچاؤ حاصل ہو گا، وہ شام اور عراق کے درمیان ایک راستے پر نکلے گا، وہ دائیں بائیں فساد برپا کرے گا۔ اے اللہ کے بندو! تم نے ثابت قدم رہنا ہو گا (نواس رضی اللہ عنہ) ہم نے دریافت کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ زمین پر کتنا عرصہ ٹھہرے گا؟ آپ ﷺ نے جواب دیا چالیس دن ایک دن ایک سال کے برابر اور ایک دن ایک مہینے کے برابر اور ایک دن ایک جمعے کے برابر اور بقیہ دن تمہارے دنوں کے برابر ہوں گے۔ ہم نے دریافت کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ دن جو سال کے برابر ہو گا کیا ہمیں اُس میں ایک دن کی نمازیں کفایت کریں گی؟ آپ ﷺ نے نفی میں جواب دیتے ہوئے فرمایا، تم نے نماز کے اوقات کا اندازہ لگانا ہو گا۔ ہم نے دریافت کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ زمین پر کس قدر تیز رفتاری سے گھومے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس بارش کی مانند جس کو پیچھے سے تیز ہوا دھکیل رہی ہو، وہ لوگوں کے پاس جائے گا اُنہیں اپنی جانب دعوت دے گا، لوگ اُس کی دعوت پر لبیک کہیں گے وہ بادلوں کو بارش برسانے کا حکم دے گا تو بارش برسنے لگ جائے گی اور زمین کو حکم دے گا تو وہ سبزہ اُگائے گی لوگوں کے چارپائے جب شام کو اُن کے پاس آئیں گے تو کوہان پہلے سے کہیں زیادہ بڑی ہو گی اور اُنکے پستان دودھ سے بہت زیادہ بھرے ہوئے ہوں گے اور اُن کے پہلو باہر نکلے ہوئے ہوں گے، اس کے بعد دجال کچھ (لوگوں) کے پاس جائے گا، اُنہیں دعوت دے گا، وہ اسکی بات (ماننے) سے انکار کر دیں گے، جب وہ وہاں سے جائے گا تو وہ خشک سالی کا شکار ہو جائیں گے، یہاں تک کے اُن کے ہاتھ مال ودولت سے خالی ہو جائیں گے اور اسکے بعد دجال بے آباد زمین کے پاس سے گزرے گا اور اسے حکم دے گا کہ وہ اپنے خزانے اُگل دے، چنانچہ زمین میں چھپے ہوئے خزانے اسکے پیچھے چلنے لگیں گے، جیسا کہ شہد کی مکھیاں (اپنے امیر کے پیچھے رواں دواں رہتی ہیں) اسکے بعد وہ دجال ایک شخص کو بلائے گا جو بھرپور جوانی والا ہو گا، تلوار مار کر اسکے دو ٹکڑے کر دے گا (دونوں ٹکڑوں کے درمیان فاصلہ) تیر مارنے کی جگہ سے نشانے تک کے برابر ہو گا۔ دجال پھر اسے ملائے گا تو وہ (اسکی جانب) مسکراتا ہوا ٹہلتا ہوا آئے گا، وہ دجال اسی حالت میں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم علیہ السلام کو مبعوث فرمائیں گے، وہ دمشق (شہر) کی مشرقی جانب سفید مینار کے قریب اُتریں گے، اُنہوں نے گیروے رنگ کی دو چادریں زیب تن کی ہوں گی، اور دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ سر نیچے کرتے وقت ان کے سر سے (پانی کے) قطرات گریں گے اور سر بلند کرتے وقت موتیوں کی مانند قطرات لڑھکتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ یہ ناممکن ہو گا کہ کوئی کافر عیسیٰ علیہ السلام کی سانس کی ہوا محسوس کرے اور وہ مر نہ جائے، ان کی سانس کی ہوا انکی حدِ نظر تک جائے گی، چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام دجال کو تلاش کریں گے۔۔“ (یہ حدیث ابھی جاری ہے) (صحیح مسلم)
اس حدیث میں احوال قیامت بیان کیا گیا ہے لیکن حدیث چونکہ بہت لمبی ہے اسلئے باقی آئندہ سلائیڈ میں لکھی جائے گی۔