بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جنگیں (علامات قیامت) (۲)
(احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ میراث تقسیم ہو گی نہ ہی کسی کو مال غنیمت تقسیم ہونے کی خوشی ہوگی (یعنی جنگوں میں آدمی اتنے زیادہ مارے جائیں گے کہ میراث یا مال غنیمت لینے والا کوئی نہیں بچے گا) پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا اور کہا ’عیسائی اس طرف (یعنی روم کی) مسلمانوں کے خلاف لڑنے کیلئے جمع ہوں گے اور مسلمان بھی ان کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے جمع ہو جائیں گے‘۔“ راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا ’دشمن سے آپکا مطلب عیسائی ہیں؟‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا ”ہاں! اس وقت شدید لڑائی شروع ہو گی۔ مسلمانوں کا ایک لشکر شہادت یا فتح کا عہد کر کے آگے بڑھے گا اور دونوں لشکروں کے درمیان شدید جنگ ہو گی حتیٰ کے رات چھا جائے گی اور دونوں لشکر فتح و شکست کے بغیر جنگ بند کر دیں گے، مسلمانوں کے لشکر کا جنگ میں شریک ہونے والا حصہ سارے کا سارا قتل ہو جائے گا، دوسرے دن مسلمانوں کے لشکر کا ایک حصہ پھر جنگ میں شہادت یا فتح کا عہد لے کر شریک ہو گا، رات ہو جائے گی، دونوں لشکر فتح و شکست کے بغیر جنگ روک دیں گے، مسلمانوں کی فوج کا جنگ میں شریک ہونے والا دوسرا حصہ بھی سارے کا سارا قتل ہو جائے گا۔ تیسرے روز مسلمان پھر اپنی فوج کا ایک حصہ میدانِ جنگ میں بھیجیں گے جو شہادت یا فتح کا عہد کر کے جائے گا۔ شام تک لڑائی ہو گی اور دونوں لشکر فتح و شکست کے بغیر جنگ بند کر دیں گے۔ مسلمانوں کی فوج کا تیسرا حصہ بھی سارے کا سارا جنگ میں قتل ہو جائے گا۔ چوتھے روز مسلمانوں کی باقی ساری فوج جنگ میں حصہ لے گی اس روز اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کافروں پر غلبہ عطا فرمائیں گے۔ اس روز ایسی شدید لڑائی ہو گی کہ ایسی لڑائی نہ آئندہ کوئی دیکھے گا نہ ماضی میں کسی نے دیکھی ہو گی (اتنی اموات ہوں گی کہ) ایک پرندہ ان لاشوں کے اوپر اڑنا شروع کرے گا، اسے اڑتے اڑتے موت آجائے گی لیکن لاشیں ختم نہیں ہوں گی۔ ایک باپ کے سو (۱۰۰) بیٹے ہوں گے ان میں سے صرف ایک زندہ بچے گا (یعنی اس جنگ میں ۹۹ فیصد لوگ مر جائیں گے) ایسی حالت میں مال غنیمت کی خوشی کسے ہو گی اور کن لوگوں میں میراث تقسیم کی جائے گی؟ اسی دوران مسلمان اس آفت سے بھی بڑی آفت کی خبر سنیں گے، ایک زور دار آواز آئے گی کہ ان کے پیچھے بال بچوں میں دجال ظاہر ہو گیا ہے یہ سنتے ہی جو کچھ ان کے پاس ہو گا چھوڑ چھاڑ کر واپس بھاگیں گے (جلدی جلدی) دس سواروں کو ہر اول دستہ کے طور پر روانہ کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”میں ان سواروں اور ان کے باپوں کے نام جانتا ہوں، ان کے گھوڑوں کے رنگ بھی پہچانتا ہوں، اس روز وہ روئے زمین سب سے بہتر سوار ہوں گے“ یا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”روئے زمین کے سواروں میں سے سب سے بہتر سوار ہوں گے“۔ (صحیح مسلم)