بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قیامت کی علامات صغریٰ (۴)
(احادیث کی روشنی میں)
حکومت بددیانت لوگوں کے پاس ہوگی :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’جب امانت ضائع کی جائے اس وقت قیامت کا انتظار کر‘۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا ’یا رسول اللہ ﷺ امانت کیسے ضائع کی جائے گی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’جب حکومت ان لوگوں کی دی جائے جو اسکے اہل نہ ہوں، تو قیامت کا انتظار کر‘۔ (صحیح بخاری)
جھوٹ کی کثرت ہوگی، جگہ جگہ تجارتی مراکز قائم ہوں گے :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک فتنے ظاہر نہ ہوں جھوٹ کی کثرت ہو جائے گی، تجارتی مراکز عام ہو جائیں گے، وقت گھٹ جائے گا، ہرج بہت زیادہ بڑھ جائیگا (مسند احمد)
-
”حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’قیامت سے پہلے بہت سے جھوٹے پیدا ہوں گے، ان سے بچ کے رہنا‘۔ (مسند احمد ۔ ح ۱۰۸)
گانے بجانے کی کثرت ہوگی :۔
-
”حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’آخری زمانے میں خسف، قذف اور مسخ ہوگا‘۔ عرض کیا گیا ’یا رسول اللہ ﷺ ! یہ کب ہوگا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’جب گانے بجانے والے آلات اور گانے بجانے والی عورتیں ظاہر ہوں گی نیز شراب کو حلال سمجھ لیا جائے گا‘۔ (طبرانی)
شراب کی کثرت ہو جائے گی :۔
-
”حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’میری امت کے لوگ شراب پئیں گے لیکن اسکا نام کچھ اور رکھ دیں گے ان کی سرپرستی میں باجے بجیں گے، گانے والیاں گائیں گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا‘۔ (سنن ابن ماجہ ۔ ح ۳۲۲۷)
کچھ لوگ زنا ، موسیقی اور شراب کو حلال کرلیں گے :۔
-
”حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’میری امت کے کچھ لوگ زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال کرلیں گے‘۔ (صحیح بخاری)
-
موسیقی کو شرعاً جائز قرار دینے والے ”علماء کرام“، تو اب اتنے کثیر تعداد میں ہیں کہ انکا شمار کرنا ممکن نہیں۔
فحاشی ، بے حیائی اور فحش گوئی عام ہو جائے گی :۔
-
”حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’بے شک اللہ تعالیٰ بے حیائی اور فحش گو کو پسند نہیں فرماتا۔ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ بے حیائی اور فحش گوئی عام ہو، قطع رحمی کی جائے، ہمسائے سے برا سلوک کیا جائے، خائن جو امانت دار کہا جائے، اور امانت دار کو خائن کہا جائے‘۔ (مسند احمد ۔ ح ۲۵۱۱)
قاتل کو یہ علم نہیں ہوگا کہ کیوں قتل کیا اور مقتول کو یہ کہ کیوں قتل ہوا :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے دنیا ختم نہ ہوگی تا آنکہ ایک دن آئیگا کہ قاتل کو علم نہ ہوگا اس نے کیوں قتل کیا اور مقتول کو علم نہیں ہوگا کہ اسے کیوں قتل کیا گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ’یہ کیسے ہوگا؟‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’کثرت خوں ریزی کی وجہ سے (اور) قاتل اور مقتول دونوں آگ میں جائیں گے‘۔ (صحیح مسلم)
-
وضاحت :۔ قاتل اور مقتول دونوں اس صورت میں جہنم میں جائیں گے جب دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنا چاہتے ہیں واللہ اعلم