بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
عہدے اور قومی خزانے کے غلط استعمال کا بیان (۱) (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کو ہم تم میں سے کسی کام پر عامل مقرر کریں پس وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے زائد (یا کم) کوئی چیز چھپائے تو یہ غلول (خیانت اور چوری) ہوگی جس کے ساتھ وہ قیامت والے دن (بارگاہ الہی میں) حاضر ہو گا پس انصار میں سے ایک سیاہ فام آدمی کھڑا ہوا گویا کہ میں اسے دیکھ رہا ہوں اور اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے مجھے اپنی جو ذمے داری سونپی ہے وہ مجھ سے واپس لے لیجئے آپ ﷺ نے پوچھا تمھیں کیا ہے؟ اس نے کہا میں نے آپ ﷺ کو اس اس طرح فرماتے سنا ہے (جس سے میں ڈر گیا ہوں) آپ ﷺ نے فرمایا :۔ میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ ہم جس کو کسی کام پر مقرر کریں تو اس کو چاہئے کہ جو بھی کم یا زیادہ اسے ملے وہ (ہمارے پاس) لائے پس اس میں سے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے اسکو روک دیا جائے اس سے وہ باز رہے “۔ (صحیح مسلم)
فائدہ :۔ اس میں بھی سرکاری اہل کاروں کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی امانت و دیانت کے ساتھ ادا کرے اگر اس میں انہوں نے ذراسی بھی خیانت کی یا منصب سے ناجائز فائدہ اٹھایا تو وہ عنداللہ مجرم ہوں گے۔ جیسا کہ حدیث میں گزرا اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑے افسروں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماتحت عملے پر کڑی نظر رکھیں اور انہیں خیانت کا ارتکاب نہ کرنے دیں ورنہ ان کا تغافل و تساہل یا اغماض و اعراض بھی جرم ہوگا۔ چہ جائیکہ وہ اس سرکاری لوٹ کھسوٹ میں برابر کے حصے دار ہوں ۔ جیسے بد قسمتی سے آج کل ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے رشوت لوٹ کھسوٹ اور چور بازاری عام ہے۔
-
” حضرت ابوحمید عبدالرحمن بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ازد و قبیلے کے ایک آدمی کو جسے ابن لُتْبِيَّہ کہا جاتا تھا زکوٰۃ کی وصولی کیلئے عامل مقرر فرمایا۔ پس جب وہ (زکوٰۃ وصول کر کے واپس) آیا تو کہنے لگا یہ تمہارے لئے ہے (یعنی بیت المال کا حق ہے) اور یہ مجھے ہدیے میں ملی ہوئی چیزیں ہیں پس (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا :۔ اما بعد ! میں تم میں سے کسی آدمی کو کسی کام کیلئے عامل مقرر کرتا ہوں جس کا والی و سر پرست اللہ نے مجھے بنایا ہے پس وہ (واپس) آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تمہارے لئے ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے لوگوں کی طرف سے دیا گیا ہے پس یہ باپ یا ماں کے گھر کیوں نہ بیٹھا رہا حتیٰ کہ اسکا ہدیہ آئے اگر وہ سچا ہے؟ (مطلب یہ تھا کہ جس کو یہ ہدیہ کہہ رہ ہے وہ ہدیہ نہیں یہ اس سرکاری منصب کا نتیجہ ہے جس پر اسے مقرر کیا گیا تھا اگر یہ ہدیہ ہوتا تو اس گھر میں بھی ملتا) اللہ کی قسم ! تم میں سے کوئی شخص کوئی چیز اس کے حق کے بغیر لے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ قیامت والے دن وہ اسے اٹھائے ہوئے ہو گا پس میں تم میں سے کسی شخص کو نہ دیکھو کہ وہ اللہ سے ملاقات کے وقت (ناجائز طریقے سے حاصل کردہ) اونٹ کو اٹھائے ہوئے ہو جو بلبلا رہا ہو یا گائے کو جس کی آواز ہو یا بکری کو جو ممیا رہی ہو پھر آپ ﷺ نے دونوں ہاتھ اُٹھائے یہاں تک کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! کیا میں نے پہنچا دیا ؟ تین مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا “۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
اس حدیث میں سرکاری اہل کاروں اور منصب داروں کے لئے بڑی تنبیہ ہے آج کل سرکاری عہدوں سے بڑا فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور لوگ ان عہدوں کی وجہ سے ان اہل کاروں اور عہدے داروں کو کثرت سے ہدیے اور تحفے پیش کرتے ہیں اس حدیث کی رو سے یہ تمام مال جو سرکاری عہدوں کی وجہ سے حاصل ہو یا حاصل کیا جائے حرام ہے اور رشوت کے زمرے میں آتا ہے جس کا لینا اور دینا دونوں ناجائز ہے۔