بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
زکوٰۃ لینے اور دینے کے آداب (۳) (احادیث کی روشنی میں)
مشترک کاروبار میں حصہ داران کو اپنے اپنے حصے کی نسبت سے زکاۃ ادا کرنی چاہئے :-
” حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں فرض زکوٰۃ میں وہی بات لکھی تھی جو رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرمائی تھی اس میں یہ بھی لکھوایا تھا کہ جب دو شریک ہوں تو وہ اپنا حساب برابر کر لیں۔“ (صحیح بخاری)
وضاحت :- ۱۔ مثلاً ایک کاروبار میں دو آدمی برابر کے سرمایہ سے شریک ہیں تو سال کے آخر میں اس رقم کی زکاۃ ادا کرنے کے لئے دونوں شریک زکوۃ کی نصف نصف رقم ادا کریں گے۔ ۲۔ کمپنیوں وغیرہ کی زکاۃ کی اصل ذمہ داری کمپنیوں پر ہے لیکن اگر کسی وجہ سے وہ ادا نہ کریں تو حصہ داران کو اپنے اپنے حصے کی نسبت سے زکاۃ ادا کرنی چاہئے۔
زکاۃ جس جگہ وصول کی جائے وہیں تقسیم کرنا افضل ہے لیکن ضرورت سے دوسری جگہ بھجوانی جائز ہے :-
” حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں زکوٰۃ کا تحصیل دار مقرر کیا گیا‘ جب وہ واپس تشریف لائے تو ان سے پوچھا گیا ”مال کہاں ہے؟“ انہوں نے فرمایا :۔ کیا آپ نے مجھے مال لانے کے لئے بھیجا تھا؟ ہم وہیں سے مال لیتے ہیں جہاں سے عہد رسالت میں لیا کرتے تھے اور وہیں بانٹ دیتے ہیں جہاں عہد رسالت میں بانٹ دیا کرتے تھے“۔ (سنن ابن ماجه) وضاحت :- زکاۃ وصول کر کے تقسیم کرنے کا علاقہ تحصیلدار کا احاطہ اقتدار (یعنی تحصیل) ہے۔
” حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا (تو ارشاد فرمایا) :۔ لوگوں کو بتانا کہ ان پر اللہ تعالیٰ نے زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مال داروں سے لے کر ان کے فقراء کو دی جائے گی “۔ (صحیح بخاری)
زکاۃ وصول کرنے والے کو کسی زکاۃ دینے والے سے تحفہ نہیں لینا چاہئے :-
” حضرت ابو ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے بنو اسد (قبیلے) کے ایک شخص بن لتبیہ نامی کو (عامل مقرر فرمایا‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اسے زکاۃ وصول کرنے کیلئے (تحصیلدار) مقرر فرمایا تھا) جب وہ شخص واپس آیا تو کہنے لگا ”یہ آپ ﷺ کا (یعنی بیت المال کا) حصہ ہے اور یہ میرا حصہ ہے‘ جو مجھے بطور تحفہ دیا گیا ۔“ (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف لائے‘ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا :۔ اس تحصیل دار کا معاملہ کیا ہے جسے میں نے (زکاۃ وصول کرنے کیلئے) بھیجا اور (واپس آکر) کہتا ہے یہ تو آپ ﷺ کا مال ہے اور مجھے بطور تحفہ دیا گیا ہے وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر کیوں نہ بیٹھا رہا پھر دیکھتا کہ اسے تحفہ ملتا ہے یا نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ تم میں سے جو شخص اس طرح سے کوئی مال لے گا (یعنی تحفہ وغیرہ کے نام پر) تو وہ قیامت کے دن اپنی گردن پر اُٹھا کر لائے گا اونٹ ہو گا تو وہ بلبلاتا ہوگا۔ گائے ہوگی تو وہ چلاتی ہوگی۔ بکری ہوگی تو وہ ممیاتی ہوگی۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے حتیٰ کہ ہمیں آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی نظر آگئی۔ آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا :۔ یا اللہ! میں نے (تیرا حکم) پہنچا دیا“۔ (صحیح مسلم)
وضاحت :- کسی عہدیدار کو اس کی امارت اور حکومت کی وجہ سے ملنے والا ہدیہ اسکے لئے جائز نہیں۔ اگر وہ کسی حکومتی منصب پر فائز نہیں، تب اسے ہدیہ ملتا ہے تو اسکے لئے جائز ہے۔