بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حسن اخلاق کا بیان (۱)
(احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نہ تو فحش گو تھے اور نہ تکلف سے بد زبانی کرنے والے تھے اور آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے سب سے بہتر وہ شخص ہے جو تم میں اخلاق میں سب سے اچھا ہے “۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
اس میں نبی کریم ﷺ کے حسن اخلاق اور کمال شرافت کے ساتھ ساتھ اس امر کا بیان ہے کہ جو زیادہ بلند اخلاق ہوگا وہ لوگوں میں سب سے بہتر ہوگا، نیز نبی کریم ﷺ عادتاً اور تکلفاً کسی بھی طرح فحش گو نہیں تھے۔
-
”حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:۔ قیامت والے دن مومن بندے کی میزان میں حسن اخلاق سے زیادہ بھاری چیز کوئی نہیں ہوگی اور یقیناً اللہ تعالیٰ بد زبان اور بے ہودہ گوئی کرنے والے کو ناپسند کرتا ہے “۔ (جامع ترمذی)
حسن اخلاق قیامت والے دن سب سے زیادہ نفع بخش ہوگا۔ کیونکہ یہ دیگر سب عملوں سے زیادہ بھاری ہو گا لیکن صرف اسی شخص کیلئے جو مومن ہوگا، غیر مومنوں کیلئے تو وزنِ اعمال ہی نہیں ہوگا۔ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا (الکہف : ۱۰۵) ”ہم کافروں کیلئے ترازو ہی قائم نہیں کریں گے“۔ اسی طرح برے اخلاق کا حامل اور بے ہودہ گو انسان اللہ کے ہاں ناپسند ہے جس کا مطلب ہے کہ ایسا شخص آخرت میں ناکام و نامراد رہے گا۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کون سے عمل انسانوں کے زیادہ جنت میں جانے کا سبب بنیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:۔ اللہ کا ڈر اور حسن اخلاق۔ اور پوچھا گیا، کون سی چیزیں انسانوں کے زیادہ جہنم میں جانے کا سبب بنیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:۔ منہ اور شرمگاہ “۔ (جامع ترمذی)
یہ حدیث بھی بڑی جامع ہے۔ اللہ کے ڈر سے انسان کا اللہ کیساتھ تعلق صحیح طور سے جڑ جاتا ہے اور حسن اخلاق سے وہ لوگوں کے حقوق میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا۔ اسلئے یقیناً یہ دو عمل ایسے ہیں جن کے ذریعے سے لوگ کثرت سے جنت میں جائیں گے۔ اسی طرح منہ سے ہی انسان کلمات کفر بکتا ہے۔ غیبت، بہتان تراشی، گالی گلوچ اور بے ہودہ گوئی یہ سب زبان کے کام ہیں اور شرمگاہ یہ بدکاری کا باعث ہے۔ اس اعتبار سے یہ دونوں چیزیں انسانوں کو جہنم میں زیادہ لے جانے کا باعث ہوں گی۔ اس لئے ہر شخص کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو تقویٰ اور حسن اخلاق سے آراستہ کرے اور زبان اور شرمگاہ کے فتنوں سے اپنے آپ کو بچائے تا کہ اس کی آخرت برباد نہ ہو۔