بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سلام کرنے کی فضیلت کا بیان (۲) (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا اُن کا قد ۶۰ ہاتھ لمبا تھا جب اللہ پاک اُن کی تخلیق سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اُن سے فرمایا:۔ آپ اس جماعت کے پاس جاکر انہیں سلام کہیں اس جماعت میں چند فرشتے بیٹھے ہوئے تھے اور سنیں کہ وہ آپ کو کیا جواب دیتے ہیں۔ پس وہی جواب آپ کا اور آپ کی اولاد کا ہوگا۔ چنانچہ آدم علیہ السلام گئے اور ”السلام علیکم“، کہا اُنہوں نے جواب میں ”السلام علیک ورحمتہ اللہ“ ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اُنہوں نے ”ورحمتہ اللہ“ کا اضافہ کیا۔ آپ ﷺ نے (مزید) کہا جو شخص بھی جنت میں داخل ہوگا وہ آدم علیہ السلام پر ہوگا اور اُس کا قد ۶۰ ہاتھ لمبا ہوگا۔ لیکن آدم علیہ السلام کے بعد انسانی قد میں مسلسل کمی ہوتی رہی ہے “۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
یہ حدیث اپنے ظاہر پر محمول ہے۔ احادیث صفات اور ان کے ظاہری معانی پر ایمان رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ محدثین نے اس حدیث کو متشابہات میں داخل کیا ہے۔ اس کی تشریح اور تاویل صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ واللہ اعلم۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ سوار پیادہ کو، پیادہ بیٹھے ہوئے کو اور کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو سلام کہیں“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
غیر مسلموں کو سلام کا طریقہ :-
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ یہودیوں اور عیسائیوں کو سلام کہنے میں پہل نہ کرو اور جب کسی راستے میں تمہاری ان سے ملاقات ہو جائے تو انہیں راستے کے تنگ تر حصے پر چلنے مجبور کر دو “۔ (صحیح مسلم)
تنگ تر راستے سے مراد ہے ایک کنارہ یعنی جب راستے میں بھیڑ ہو تو درمیان میں مسلمانوں کو چلنا چاہئے تا کہ اُن کی شوکت و حشمت کا اظہار ہو اور غیر مسلموں کو مجبور کیا جائے ،کہ وہ کناروں پر چلیں۔
-
”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ جب تمھیں اہل کتاب سلام کریں تو تم (صرف) وعلیكم کہا کرو“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
-
”ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ یہودی تمھیں سلام کہتے ہوئے ”السَّامُ عَلَيْکَ“ کے کلمات کہتے ہیں (جن سے مقصود یہ ہے کہ تم تباہ و برباد ہو جاؤ) پس تم انہیں جواب میں کہا کرو وَعَلَيْکَ (تم ہی تباہ و برباد ہو جاؤ) “۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
سلام کرنے والوں کی فضیلت :-
-
”حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ سب سے زیادہ اللہ کے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سلام کرنے میں پہل کرتے ہیں “۔ (جامع ترمذی ، سنن ابو دائود ، مسند احمد)
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:۔ کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے ملاقات کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اُسے سلام کہے۔ اگر درمیان میں کوئی درخت، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے۔ پھر اُس سے ملاقات ہو تو اُسے چاہئے کہ اُسے سلام کہے “۔ (سنن ابو دائود)