بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
زکوٰۃ کے مصارف (۱) (احادیث کی روشنی میں)
زکوٰۃ کے مستحق آٹھ قسم کے لوگ ہیں :-
” حضرت زیاد بن حارثؓ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سے بیعت کی۔ حضرت طویل حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ مجھے صدقہ سے کچھ دیجئے۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے فرمایا کہ زکاۃ کے بارے اللہ تعالیٰ نہ تو کسی نبی کے حکم پر راضی ہوا۔ اور نہ ہی کسی غیر کے حکم پر‘ یہاں تک کہ خود اللہ تعالیٰ نے زکاۃ میں حکم فرمایا اور زکوٰۃ کے آٹھ مصرف بیان کئے پس اگر تو ان آٹھ میں سے ہے تو تجھ کو تیرا حق دوں گا“۔ (سنن ابو داؤد)
مندرجہ بالا حدیث میں جن آٹھ (۸) لوگوں کا ذکر ہے وہ یہ ہیں۔ ”صدقات (یعنی زکوٰۃ و خیرات) تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلب منظور ہے ، اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے میں) اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں ، (یہ حقوق) اللہ کی طرف سے مقرر کر دیئے گئے ہیں ، اور اللہ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے“۔ (التوبہ - ۶۰)
” اور نبی کریم ﷺ نے (زینب کے حق میں فرمایا جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں) اس کو دوگنا ثواب ملے گا ، ناطہ جوڑنے کا ، اور صدقے کا“۔ (صحیح بخاری)
زکوٰۃ قریبی رشتہ داروں مستحق بہن ، بھائی ، خالہ ، پھوپھیوں اور انکی اولادوں کو دینا زیادہ باعث اجر ہے۔ کیونکہ یہ لوگ کسی سے کہہ بھی نہیں سکتے ، اور ان کو زکوٰۃ دینا دہرا ثواب ہے ، ایک تو زکوٰۃ کا اور دوسرا قرابت داری کا۔
عاملین زکاۃ (زکاۃ وصول کرنے والے لوگ) زکاۃ سے معاوضہ لے سکتے ہیں خواہ غنی ہی ہوں :-
ابن ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زکاۃ لینے پر عامل مقرر کیا۔ جب میں فارغ ہوا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک زکاۃ پہنچائی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میرے کام کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ میں نے کہا ” میں نے تو یہ کام فی سبیل اللہ کیا ہے اور میرا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے۔ انہوں نے کہا جو تو دیا جائے اُسے لے لے۔ میں نے بھی نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں یہی کام کیا تھا۔ آپ ﷺ نے مجھے معاوضہ ادا کیا تو میں نے بھی وہی کہا جو تو نے کہا ہے مجھے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔ جب کوئی چیز بن مانگے دیئے جاؤ تو اُسے کھاؤ اور صدقہ بھی کرو“۔ (سنن ابو داؤد)
مصیبت زدہ‘ مقروض اور ضمانت بھرنے والوں کی مدد کیلئے زکاۃ دینا جائز ہے :-
” قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ضامن بنا اور رسول اکرم ﷺ کے پاس آیا۔ اور اس بارے میں آپ ﷺ سے سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :۔ ہمارے پاس ٹھہر یہاں تک کہ صدقہ آئے‘ ہم اس میں سے تم کو دلو دیں گے۔ پھر فرمایا اے قبیصہ ! مانگنا حلال نہیں ہے‘ مگر تین آدمیوں کو۔ ایک وہ آدمی جس نے ضمانت اُٹھائی۔ پس اس کے لئے سوال کرنا درست ہے یہاں تک کہ ضمانت ادا ہو جائے پھر وہ سوال کرنے سے رُک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جس کو کوئی آفت پہنچی اور اس کا مال و اسباب ہلاک ہو گیا‘ تو اُس کے لئے سوال کرنا درست ہے۔ یہاں تک کہ اسے اتنا مل جائے جس سے اس کی ضرورت پوری ہو جائے یا فرمایا جس کی حاجت مندی‘ کو دور کر دے۔ اور تیسرا وہ شخص کہ اس کو سخت فاقہ پہنچے یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین معقول آدمی اس بات کی گواہی دیں کہ اسے اتنا مل جائے کہ اس کی ضرورت پوری ہو جائے یا فرمایا حاجت مندی کو دور کرے۔ اے قبیصہ ! ان تین صورتوں کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے اور ایسا سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔ (صحیح مسلم)
” حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک شخص کو ان پھلوں میں نقصان پہنچا جو اس نے خریدے تھے۔ پس وہ بہت زیادہ مقروض ہو گیا۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا :۔ اسے صدقہ دو۔ لوگوں نے اسے صدقہ دیا‘ لیکن صدقہ سے اس کا قرض پورا نہ ہوا تو آپ ﷺ نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا جو ملتا ہے لے لو‘ اس کے سوا تمہارے لئے کچھ نہیں“۔ (صحیح مسلم)