زکوٰۃ کے مصارف (۱)

اشاعت: 10-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
zakat ke masarif hadith ki roshni mein, mustahiq log aur zakat taqseem ki rehnumai

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

زکوٰۃ کے مصارف (۱) (احادیث کی روشنی میں)

زکوٰۃ کے مستحق آٹھ قسم کے لوگ ہیں :-

” حضرت زیاد بن حارثؓ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی۔ حضرت طویل حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ مجھے صدقہ سے کچھ دیجئے۔ نبی اکرم نے اسے فرمایا کہ زکاۃ کے بارے اللہ تعالیٰ نہ تو کسی نبی کے حکم پر راضی ہوا۔ اور نہ ہی کسی غیر کے حکم پر‘ یہاں تک کہ خود اللہ تعالیٰ نے زکاۃ میں حکم فرمایا اور زکوٰۃ کے آٹھ مصرف بیان کئے پس اگر تو ان آٹھ میں سے ہے تو تجھ کو تیرا حق دوں گا“۔ (سنن ابو داؤد)

مندرجہ بالا حدیث میں جن آٹھ (۸) لوگوں کا ذکر ہے وہ یہ ہیں۔ ”صدقات (یعنی زکوٰۃ و خیرات) تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلب منظور ہے ، اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے میں) اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں ، (یہ حقوق) اللہ کی طرف سے مقرر کر دیئے گئے ہیں ، اور اللہ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے“۔ (التوبہ - ۶۰)

” اور نبی کریم نے (زینب کے حق میں فرمایا جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں) اس کو دوگنا ثواب ملے گا ، ناطہ جوڑنے کا ، اور صدقے کا“۔ (صحیح بخاری)

زکوٰۃ قریبی رشتہ داروں مستحق بہن ، بھائی ، خالہ ، پھوپھیوں اور انکی اولادوں کو دینا زیادہ باعث اجر ہے۔ کیونکہ یہ لوگ کسی سے کہہ بھی نہیں سکتے ، اور ان کو زکوٰۃ دینا دہرا ثواب ہے ، ایک تو زکوٰۃ کا اور دوسرا قرابت داری کا۔

عاملین زکاۃ (زکاۃ وصول کرنے والے لوگ) زکاۃ سے معاوضہ لے سکتے ہیں خواہ غنی ہی ہوں :-

ابن ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زکاۃ لینے پر عامل مقرر کیا۔ جب میں فارغ ہوا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک زکاۃ پہنچائی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میرے کام کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ میں نے کہا ” میں نے تو یہ کام فی سبیل اللہ کیا ہے اور میرا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے۔ انہوں نے کہا جو تو دیا جائے اُسے لے لے۔ میں نے بھی نبی اکرم کے زمانے میں یہی کام کیا تھا۔ آپ نے مجھے معاوضہ ادا کیا تو میں نے بھی وہی کہا جو تو نے کہا ہے مجھے نبی اکرم نے فرمایا۔ جب کوئی چیز بن مانگے دیئے جاؤ تو اُسے کھاؤ اور صدقہ بھی کرو“۔ (سنن ابو داؤد)

مصیبت زدہ‘ مقروض اور ضمانت بھرنے والوں کی مدد کیلئے زکاۃ دینا جائز ہے :-

” قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ضامن بنا اور رسول اکرم کے پاس آیا۔ اور اس بارے میں آپ سے سوال کیا۔ آپ نے فرمایا :۔ ہمارے پاس ٹھہر یہاں تک کہ صدقہ آئے‘ ہم اس میں سے تم کو دلو دیں گے۔ پھر فرمایا اے قبیصہ ! مانگنا حلال نہیں ہے‘ مگر تین آدمیوں کو۔ ایک وہ آدمی جس نے ضمانت اُٹھائی۔ پس اس کے لئے سوال کرنا درست ہے یہاں تک کہ ضمانت ادا ہو جائے پھر وہ سوال کرنے سے رُک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جس کو کوئی آفت پہنچی اور اس کا مال و اسباب ہلاک ہو گیا‘ تو اُس کے لئے سوال کرنا درست ہے۔ یہاں تک کہ اسے اتنا مل جائے جس سے اس کی ضرورت پوری ہو جائے یا فرمایا جس کی حاجت مندی‘ کو دور کر دے۔ اور تیسرا وہ شخص کہ اس کو سخت فاقہ پہنچے یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین معقول آدمی اس بات کی گواہی دیں کہ اسے اتنا مل جائے کہ اس کی ضرورت پوری ہو جائے یا فرمایا حاجت مندی کو دور کرے۔ اے قبیصہ ! ان تین صورتوں کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے اور ایسا سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔ (صحیح مسلم)

” حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم کے زمانے میں ایک شخص کو ان پھلوں میں نقصان پہنچا جو اس نے خریدے تھے۔ پس وہ بہت زیادہ مقروض ہو گیا۔ رسول اکرم نے فرمایا :۔ اسے صدقہ دو۔ لوگوں نے اسے صدقہ دیا‘ لیکن صدقہ سے اس کا قرض پورا نہ ہوا تو آپ نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا جو ملتا ہے لے لو‘ اس کے سوا تمہارے لئے کچھ نہیں“۔ (صحیح مسلم)

Zakat ke Masarif (1)

There are eight categories of people entitled to receive zakat:

Hazrat Ziyad bin Harith (RA) narrated that a man asked the Prophet for charity. The Prophet said:

Allah did not approve of the distribution of zakat by the decision of any Prophet or anyone else until He Himself specified its distribution into eight categories. If you fall into one of those categories, I will give you your share.”
(Sunan Abu Dawud)


Allah says:

“Zakah expenditures are only for the poor and for the needy and for those employed to collect it and for bringing hearts together and for freeing captives and for those in debt and for the cause of Allah and for the stranded traveler – an obligation imposed by Allah. And Allah is Knowing and Wise.”
(Surah At-Tawbah: 60 — Sahih International)


Giving zakat to close needy relatives carries double reward:

The Prophet said regarding Zainab (wife of Abdullah bin Mas‘ud RA):
“She will receive two rewards: one for maintaining family ties and one for giving charity.”
(Sahih Bukhari)

Explanation:
Zakat given to deserving relatives such as sisters, brothers, aunts, and their children brings double reward — charity plus maintaining kinship.

Zakat collectors may receive compensation from zakat funds even if they are wealthy:

Ibn Sa‘di (RA) narrated that Umar (RA) appointed him as a zakat collector. After he completed his duty, Umar (RA) ordered that he be paid compensation. He declined, saying:

“I did it for the sake of Allah, and my reward is with Him.”

Umar (RA) replied:
“Take what you are given. During the time of the Messenger of Allah , I performed this duty and he compensated me, and when I said the same thing, he told me:
‘When something is given to you without asking, take it, benefit from it, and give charity from it.’”
(Sunan Abu Dawud)

Zakat may be given to those afflicted by calamity, debt, or financial burden:

Hazrat Qabisa bin Mukhariq (RA) narrated that he had taken financial responsibility (as a guarantor) and came to the Prophet seeking help. The Prophet said:

“Stay until charity comes, then we will give you from it.”

He further said:
“Begging is not permissible except for three types of people…”

  1. One who has taken financial liability

  2. One struck by calamity that destroyed his wealth

  3. One in severe poverty confirmed by reliable people
    (Sahih Muslim)


Hazrat Abu Sa‘id Khudri (RA) narrated that during the time of the Prophet , a man suffered heavy losses in trade and became deeply indebted. The Prophet said:

“Give him charity.”

People gave charity, but it was not enough to cover his debt. The Prophet then told his creditors:

“Take what you receive; you have no claim beyond this.”
(Sahih Muslim)