بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سلام کرنے کی فضیلت کا بیان (۱) (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتے جب تک تم ایمان نہیں لاتے اور تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں‘ جب تک تم آپس میں محبت نہیں کرتے۔ بھلا کیا میں تمہیں ایسی عادت نہ بتاؤں کہ جب تم وہ عادت پختہ کرلو گے تو تم ایک دوسرے سے محبت کرو گے؟ وہ یہ ہے کہ اسلام علیکم کہنے کو عام کرو“۔ (صحیح مسلم)
کون کس کو سلام کرے :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھوٹی عمر والے شخص بڑی عمر والے شخص کو‘ گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو سلام کہنے میں پہل کریں“۔ (صحیح بخاری)
-
”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ چند لڑکوں کے قریب سے گزرے تو آپ ﷺ نے انہیں سلام کہا“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
سلام کا طریقہ اور کیفیت :۔
-
”حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: السلام علیکم۔ آپ نے اسکے سلام کا جواب دیا‘ پھر وہ شخص بیٹھ گیا۔ پس نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (اس کیلئے) دس نیکیاں ہیں۔ پھر ایک دوسرا آدمی آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔ آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا‘ پھر وہ بیٹھ گیا۔ پس آپ ﷺ نے فرمایا: (اس کیلئے) بیس نیکیاں ہیں۔ پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔ آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ پس وہ بیٹھ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اس کیلئے) تیس نیکیاں ہیں“۔ (سنن ابو دائود ، جامع ترمذی)
-
”حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز مسجد سے گزرے اور وہاں عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی۔ پس آپ ﷺ نے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا“۔ (جامع ترمذی)
یہ اس صورت پر محمول ہے کہ آپ نے الفاظ اور اشارہ دونوں کو جمع فرمالیا۔ یعنی منہ سے الفاظ ادا فرمائے اور ہاتھ کے ساتھ اشارہ بھی کیا۔ دور سے صرف ہاتھ کے اشارے سے سلام کرنا ممنوع ہے کیونکہ یہ طریقہ غیر مسلموں میں رائج ہے البتہ زبان سے الفاظ کی ادائیگی کیساتھ ساتھ سے اشارہ کرنا جائز ہے نبی ﷺ کیلئے عورتوں کا سلام کہنا جائز تھا۔ کیونکہ آپ ﷺ تو مغفور اور اللہ کی حفاظت میں رہنے والے تھے۔ تاہم دوسروں کیلئے ایسا کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں اندیشہ فتنہ ہے۔ ہاں جہاں فتنے اور دیگر خرابیوں کا خطرہ نہ ہو تو وہاں حدیث پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔ جیسے محترم اور عمر رسیدہ قسم کی عورتوں کو سلام کرنا یہ جائز ہے تاہم جوان عورتوں کو سلام کرنا فتنے کا باعث بن سکتا ہے اسلئے جہاں فتنے کا خوف ہو سلام نہ کیا جائے۔
-
”حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اپنی طویل حدیث میں فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے لئے ان کے حصے کا دودھ اٹھا کر رکھ دیا کرتے تھے‘ پس آپ ﷺ رات کے تشریف لاتے اور اسی طرح سلام کرتے کہ سوئے ہوئے کو بیدار نہ کرتے اور بیدار کو سنا دیتے۔ پس نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور اسی طرح سلام کیا جس طرح آپ ﷺ کیا کرتے تھے“۔ (صحیح مسلم)
اس میں مسلئے کی وضاحت ہے جہ جہاں کچھ لوگ سوئے ہوئے اور کچھ بیدار ہوں تو کسی طرح سلام کیا جائے؟ اسطرح کے سوئے ہوئے بیدار نہ ہوں اور جو بیدار ہوں وہ سلام کی آواز سن کر جواب دے دیں۔