بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قسمیں کھانے کا بیان (۱)
(احادیث کی روشنی میں)
اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی قسم کھانے کی ممانعت :-
-
”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے جو چند سواروں کے ساتھ تھے۔ اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے والد کی قسم کھا رہے تھے۔ اس پر رسول کریم ﷺ نے انہیں پکار کر کہا، آگاہ ہو، یقیناً اللہ تمہیں منع کرتا ہے کہ تم اپنے باپ داداؤں کی قسم کھاؤ پس اگر کسی کو قسم ہی کھانی ہے تو وہ اللہ کی قسم کھائے، ورنہ چپ رہے“۔ (صحیح بخاری)
-
”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا:۔ جس شخص نے اللہ کے سوا کسی کے نام کی قسم کھائی، اُس نے شرک کیا“۔ (جامع ترمذی)
غیر اللہ کی قسم کھانا منع ہے۔ اگر کسی کی زبان سے غیر اللہ کی قسم نکل گئی تو اسے کلمہ توحید پڑھ کر پھر ایمان کی تجدید کرنی چاہئے۔ اگر کوئی عمداً کسی بت کی یا بندے کی عظمت مثل عظمت الہی کے جان کر ان کے نام کی قسم کھائے گا تو وہ یقیناً مشرک ہو جائے گا۔
اگر کوئی لات و عزیٰ کی قسم کھائے تو اسے تجدید ایمان کرنا چاہئے :-
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص قسم کھائے اور کہے کہ قسم ہے لات اور عزیٰ کی تو اسے تجدید ایمان کیلئے کہنا چاہئے (لا الہ الا اللہ) اور جو شخص اپنے ساتھی سے یہ کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اُسے صدقہ دینا چاہئے“۔ (صحیح بخاری)
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ والدین کے نام کی قسمیں نہ کھاؤ، نیز بتوں کی قسمیں نہ کھاؤ۔ اور اللہ تعالیٰ کی قسم تب کھاؤ جب تم سچے ہو“۔ (سنن ابو دائود)
نبی کریم ﷺ کس طرح قسم کھاتے تھے :-
-
”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی قسم بس اتنی تھی کہ (ایسے) نہیں، اس ذات کی قسم جو دلوں کا پھیرنے والا ہے“۔ (صحیح بخاری)
-
”جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:۔ جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی قیصر نہیں پیدا ہوگا اور جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسری نہیں پیدا ہو گا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستہ میں خرچ کرو گے“۔ (صحیح بخاری)
-
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:۔ اے اُمت محمد (ﷺ)! واللہ، اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو زیادہ روتے اور کم ہنستے “۔ (صحیح بخاری)
-
”حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہدیہ کے طور پر آیا تو لوگ اسے دست بدست اپنے ہاتھوں میں لینے لگے اور اُس کی خوبصورتی اور نرمی پر حیرت کرنے لگے۔ آنحضرت ﷺ نے اس پر فرمایا کہ تمھیں اس پر حیرت ہے؟ صحابہ نے عرض کی، جی ہاں، یا رسول اللہ ﷺ ! آنحضرت ﷺ نے فرمایا:۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، سعد رضی اللہ عنہ کے رومال جنت میں اس سے بھی اچھے ہیں“۔ (صحیح بخاری)