اللہ کا فرمان

اشاعت: 17-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
hadith qudsi allah ka farman zulm se bachne aur istighfar ki talqeen

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کا فرمان (احادیث کی روشنی میں)

  • ”حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نبی کریم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: میرے بندو! میں نے اپنے ظلم کو حرام قرار دیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام کیا ہے لہذا تم ایک دوسرے پر ظلم مت کرو۔ میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوائے اسکے جسے میں ہدایت دوں لہذا مجھ سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اسکے جس کو میں کھانا کھلاؤں لہذا تم مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھلاؤں گا۔ میرے بندو! تم سب برہنہ ہو سوائے اسکے جسے کو میں پہناؤں لہذا تم مجھ سے لباس مانگو، میں تمہیں پہناؤں گا میرے بندو! تم رات دن گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں لہذا مجھ سے بخشش طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا۔ میرے بندو! تم مجھے نقصان پہنچانا چاہو تو ہرگز نہیں پہنچا سکتے اور تم مجھے نفع پہنچانا چاہو تو ہرگز نفع نہیں پہنچا سکتے۔ میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان اور جنات، سب اُس شخص کی طرح ہو جائیں جس کے دل میں تم میں سے سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے تو یہ بات میری بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتی۔ میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان اور جنات، سب اُس شخص کی طرح ہو جائیں جو تم میں سے سب سے زیادہ فاجر و فاسق ہے تو یہ چیز میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں کر سکتی۔ میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان اور جنات، سب ایک کھلے میدان میں جمع ہو کر مجھ سے سوال کریں، اور میں ہر ایک کو اسکے سوال کے مطابق ادا کر دوں تو اس سے میرے خزانوں میں اتنی کمی ہوگی، جتنی کی سوئی کو سمندر میں ڈال کر نکالنے سے سمندر کے پانی میں ہوتی ہے، (اور یہ کوئی کمی نہیں ہے، اسی طرح اللہ کے خزانوں میں بھی سب کو دے دینے سے کچھ کمی نہیں آتی)۔ میرے بندو! تمہارے اعمال ہی ہیں جن کو میں تمہارے لئے محفوظ کر رہا ہوں، پھر تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔ لہذا جو شخص (اللہ تعالیٰ کی توفیق سے) نیک عمل کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرے، اور جس شخص سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے وہ اپنے نفس کو ملامت کرے (کیونکہ اس کے گناہ کا سرزد ہونا نفس ہی کے تقاضے سے ہوا)“۔ (صحیح مسلم)

انسان کو بار بار عبادت کا حکم دیا جاتا ہے، عبادت کا اللہ کو کوئی فائدہ نہیں ہے درحقیقت انسان کے فائدے ہی کی بات ہے۔ اگر کوئی انسان صحیح طریقہ سے پانچ وقت نماز ادا کرتا ہے تو ایسے شخص کو شیطان آسانی سے اپنے جال میں نہیں پھنسا سکتا۔ اللہ کی عبادت اس کے دل کو مردہ ہونے سے بچاتی ہے، بندے اور رب کے درمیان تعلق کو مضبوط کرتی ہے، اسلئے اللہ تعالیٰ کی عبادت دراصل ہمارے ہی فائدے کیلئے ہے۔ ذکر اللہ سے دلوں کو روشن رکھیں، آپ کے کمرے کی لائٹ خراب ہو جائے تو آپ فورا کچھ انتظام کرتے ہیں۔ تو یہاں تو مدت ہو گئی دل ویران پڑے ہیں، ان پر گناہوں کا اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ ان کی روشنی زیادہ ضروری ہے۔

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Allah ka Farman

(In the Light of Hadith)

حضرت ابوذر رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah reported that Allah Almighty said:

“My servants! I have forbidden ظلم (oppression) for Myself and have made it forbidden among you, so do not wrong one another.
My servants! All of you are astray except those whom I guide, so seek guidance from Me and I shall guide you.
My servants! All of you are hungry except those whom I feed, so ask Me for food and I shall feed you.
My servants! All of you are unclothed except those whom I clothe, so ask Me for clothing and I shall clothe you.
My servants! You commit sins by night and day, and I forgive all sins, so seek forgiveness from Me and I shall forgive you.
My servants! You can neither harm Me nor benefit Me.
My servants! If the first of you and the last of you, among humans and jinn, were to become as pious as the most pious heart among you, that would not increase My dominion in the least.
My servants! If the first of you and the last of you, among humans and jinn, were to become as wicked as the most wicked heart among you, that would not decrease My dominion in the least.
My servants! If the first of you and the last of you, among humans and jinn, were to gather in one open place and ask of Me, and I were to give each person what he asked, that would not decrease what I possess except as much as a needle dipped into the sea reduces its water.
My servants! These are but your deeds that I record for you; then I shall recompense you for them in full. So whoever finds good, let him praise Allah; and whoever finds otherwise, let him blame none but himself.” (Sahih Muslim)

Human beings are repeatedly commanded to worship, yet worship brings no benefit to Allah; in reality, it is entirely for the benefit of the human being. If a person performs the five daily prayers properly, Shaytan cannot easily ensnare such a person in his traps. Worship of Allah protects the heart from spiritual death and strengthens the bond between the servant and his Lord. Thus, the عبادت (worship) of Allah is in fact for our own benefit.

Keep your hearts illuminated with the remembrance of Allah. If the light in your room fails, you immediately arrange to fix it. Yet here, the heart has remained desolate for long, covered by the darkness of sins — and its illumination is far more necessary.