بخشش کے فیصلے ۔ یوم عرفہ و عاشورہ کا روزہ

اشاعت: 18-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
yom e arafah aur ashura ke roze ki fazilat hadith

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

بخشش کے فیصلے ۔ یوم عرفہ و عاشورہ کا روزہ (احادیث کی روشنی میں)

  • ”حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا :- یوم عرفہ (۹ ذوالحجہ) کے روزہ (کے ثواب) کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے اُمید رکھتا ہوں کہ وہ (اسکے ذریعے) گذشتہ ایک سال اور آنے والے ایک سال کے گناہ معاف فرما دے گا اور یوم عاشورہ (۱۰ محرم) کے روزے (کے ثواب) کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے اُمید رکھتا ہوں کہ (اسکے ذریعے) وہ گذشتہ ایک سال کے گناہ معاف فرما دے گا“۔ (صحیح مسلم)

  • ”ایک اور روایت میں آپ نے فرمایا کہ تم عاشورے کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت بھی کرو اور (اسکے ساتھ) ایک دن قبل یا بعد کا بھی روزہ رکھو “۔ (مسند احمد)

جب انسان گناہ کرتا ہے تو سمندر پوچھتے ہیں یا اللہ اجازت دے تو ہم ان کو غرق کر دیں، زمین پوچھتی ہے یا اللہ تعالیٰ اجازت دے میں پھٹ جاؤں، آسمان کے فرشتے پوچھتے ہیں یا اللہ تعالیٰ اجازت دے ہم ان سب کو ختم کر دیں۔ یہ تیرا کھا کر تجھ ہی سے ٹکراتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں چھوڑ دو میرے بندے کو، میں اپنے بندے کو تم سے بہتر جانتا ہوں، پھر اللہ تعالیٰ بندے سے کہتا ہے، میرے بندے تجھے کس نے اپنے رب سے دور کر دیا؟ کیوں تو مجھ سے بیگانہ ہو گیا کیوں تو دھوکہ کھا گیا کوئی ہے میرے جیسا تجھ سے پیار کرنے والا کوئی ہے میرے جیسا تیری پکار سننے والا؟ دنیا کے بادشاہوں سے تعلق جوڑنے کیلئے انسان کیا کیا نہیں کرتا، کوئی کتنا بھی جاننے والا ہو جائے تو اس سے کام کروانے کیلئے اُسکے گھر یا دفتر تو جانا پڑتا ہے؟ فون تو کرنا پڑتا ہے؟ اللہ کو پکارنے کیلئے تو قدم بھی نہیں اُٹھانا پڑتا، زبان تک نہیں ہلانی پڑتی، بندے کا دل بولے، اللہ فوراً کہتا ہے لبیک یا عبدی۔ اسلئے اللہ کا گلہ بجا ہے کہ میں تجھے اپنی طرف بلا رہا ہوں تو مجھے چھوڑ کر کیوں جا رہا ہے اور اسکے باوجود کہ تو مجھے چھوڑ کر چلا جائے میں تجھے بلاتا ضرور رہتا ہوں، کبھی واقعات، کبھی آفات، کبھی قدم قدم پر عبرتیں، حکمتیں، شاید کسی قدم کی ٹھوکر تمہیں اللہ کی طرف لوٹا دے۔ کبھی تنگی لے آیا، کبھی بیماری لے آیا، کبھی حادثہ لے آیا، کبھی کسی اور پر لے آیا کہ شاید اُسے دیکھ کر تو میری طرف آجائے، تو اتنی اعلیٰ درجے کی محبت ہے اللہ کو اپنے بندے کیساتھ۔ آفات لا رہا ہے تو اس میں بھی محبت چھپی ہوئی ہے، دنیا میں تکلیف دے دیتا ہے آگے کے عذاب سے بچانے کیلئے۔ اللہ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے بندہ ہی ہے نافرمان، غدار۔ واپڈا کا بل نہ دو، فوراً کنکشن کاٹ دیتے ہیں، دو آنکھوں میں چھبیس کروڑ بلب لگا دیئے جو آپ کو شکلیں دے رہے ہیں اور صرف ایک بل مانگا کہ ان دو آنکھوں سے حرام نہ دیکھنا۔ کونسی آنکھ ہے جو حرام سے بچی ہوئی ہے۔ بے حیا ہو گئی نظریں، کبھی اللہ نے بھی کنکشن کاٹا ایسا ہو بھی جاتا ہے اسلئے ہمیں اللہ سے ڈرنا چاہئے۔

اتنی غلطیوں کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسے پیکیج دیئے ہوئے ہیں کہ کوئی بندہ اس کے ذریعے ہی بچ جائے، اُن میں سے ہی ایک ۹ ذوالحجہ کا روزہ ہے، جیسا کہ اُوپر حدیث میں ہے کہ اُس شخص کے پچھلے اور اگلے سال کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں تو اب بھی اس موقع سے فائدہ نہ اُٹھانا بڑی بدبختی اور کم نصیبی ہے۔ تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ ضرور روزہ رکھیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آگے بھیجیں ۔ یہ روزہ منگل کے دن کا بنتا ہے، بہر حال آپ جس علاقے میں بھی ہوں ذوالحجہ کی ۹ تاریخ کے مطابق روزہ رکھیں۔ یاد رکھیں! آپ جتنے لوگوں کو آگے بھیجیں گے اور وہ اس پر عمل کریں گے تو اُسکا ثواب آپ کو بھی ملے گا اور اُنکے ثواب میں بھی کمی نہیں ہوگی۔ اللہ ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دے۔ آمین۔

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Decisions of Forgiveness — Fasting of the Day of Arafah and Ashura

(In the light of Hadith)

Hazrat Abu Qatadah (RA) reported that the Messenger of Allah said:
“I hope from Allah that fasting on the Day of Arafah (9 Dhul-Hijjah) will expiate the sins of the previous year and the coming year, and I hope from Allah that fasting on the Day of Ashura (10 Muharram) will expiate the sins of the previous year.” (Sahih Muslim)

In another narration, the Prophet said:
“Observe the fast of Ashura and oppose the Jews by fasting a day before it or a day after it.” (Musnad Ahmad)

When a person commits sins, it is as though the seas seek permission to drown him, the earth seeks permission to swallow him, and the angels of the heavens seek permission to destroy him for opposing his Lord while benefiting from His provisions. Yet Allah Almighty says: Leave My servant; I know My servant better than you. Then Allah calls out to His servant: O My servant, who has distanced you from your Lord? Why have you become heedless of Me? Who loves you more than I do? Who listens to your call more than I do?

To gain access to worldly kings, people go to great lengths—visiting their homes, offices, and making repeated calls. But to call upon Allah, one does not even need to take a step or move the tongue; when the servant’s heart calls, Allah responds immediately: “Here I am, O My servant.” Such is the immense love of Allah for His servants.

Allah continues to call His servants back—sometimes through events, sometimes through hardships, illnesses, or trials—so that a person may return to Him. Even worldly difficulties may contain hidden mercy, protecting a person from a far greater punishment in the Hereafter. Allah loves His servants, yet it is the servant who turns away in disobedience.

Despite countless mistakes, Allah has granted special opportunities for forgiveness through which a person may be saved. Among them is the fast of 9 Dhul-Hijjah (Day of Arafah), as mentioned in the hadith—through which the sins of the previous and the coming year are forgiven. Failing to benefit from such an opportunity would indeed be a great misfortune.

Everyone is encouraged to observe this fast and to share its importance with others. Whoever acts upon it and inspires others to do so will also share in the reward, without any reduction in the reward of those who practice it. May Allah guide us to the straight path. Ameen.