بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وقت کی پکار
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب مال غنیمت کو اپنی ذاتی دولت سمجھا جانے لگے امانت کو مال غنیمت سمجھا جانے لگے یعنی امانت کو ادا کرنے کے بجائے خود استعمال کر لیا جائے، زکوٰۃ کو تاوان سمجھا جانے لگے یعنی خوشی سے دینے کی بجائے ناگواری سے دی جائے۔ علم، دین کیلئے نہیں بلکہ دُنیا کیلئے حاصل کیا جانے لگے، آدمی بیوی کی فرمانبرداری اور ماں کی نافرمانی کرنے لگے، دوست کو قریب اور باپ کو دور کرے، مسجدوں میں کھلم کھلا شور مچایا جانے لگے، قوم کی سرداری فاسق کرنے لگے، قوم کا سربراہ قوم کا سب سے ذلیل آدمی بن جائے، آدمی کا اکرام اسکے شر سے بچنے کیلئے کیا جانے لگے، گانے والی عورتوں کا اور ساز و باجے کا رواج ہو جائے، شراب عام پی جانے لگے اور اُمت کے بعد والے لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کو بُرا کہنے لگیں اس وقت سُرخ آندھی، زلزلے، زمین میں دھنس جانے، آدمیوں کی صورت بگڑ جانے اور آسمانوں سے پتھروں کے برسنے کا انتظار کرنا چاہئے اور ایسے ہی مسلسل آفات کے آنے کا انتظار کرو جس طرح کسی ہار کا دھاگہ ٹوٹ جائے اور اسکے موتی پے درپے جلدی گرنے لگیں “۔ (جامع ترمذی)
یہ تمام باتیں تقریباً ہو چکی ہیں اسی لئے مصائب آفات اُمت مسلمہ کو گھیرے ہوئے ہیں آج گانا بجانا عام ہے ناچنے گانے والیوں کو قابل عزت سمجھا جاتا ہے۔ آج گانا سننا، فلمیں دیکھنا باعث سکون ہو گیا، ذکر اللہ مشکل ہو گیا ؟ musical concerts میں جانا خوشی کا باعث اور مسجد میں جانا دشوار ہو گیا۔ کیا ہم آسمان سے پتھر برسنے کا انتظار کر رہے ہیں؟
آج مشرق سے مغرب تک مقتل گاہیں سجی ہوئی ہیں قاتلوں کا تعلق مختلف مذاہب سے ہے ان کے نام مختلف ہیں لیکن مقتول کا صرف ایک نام ہے۔ غلام محمد ﷺ ۔ آج اُمت مسلمہ پر جو وقت ہے وہ کسی کا ظلم نہیں بلکہ یہ اُمت خود اپنے اُوپر ظلم کر رہی ہے۔ ہماری طاقت تو اللہ کریم کی مد د تھی جسکو ہم نے چھوڑ دیا۔ آج گانے بجانے، ناچنے گانے والے، والیاں عام ہیں اُن کے پرستاروں کا شمار نہیں۔ سینما گھروں میں ہاؤس فل ہوتا ہے اور کسی مسجد میں جماعت پوری کرنے کیلئے تین بندے بھی نہیں ہوتے؟ ایک رقاصہ ناراض ہو جائے تو عالم پریشان ہو جاتا ہے۔ یہاں خالق کائنات ناراض ہے کسی کو فکر نہیں؟ کوئی اسے ماننے کی بھی تو ترکیب سوچو۔ کوئی اسے منانے کیلئے بھی تو اکٹھے ہو۔ کیوں ہم اتنے ظالم ہو گئے؟ تو یہ مشرق تا مغرب خون مسلم کی ہولی یقیناً عذاب الہی کی نشان دہی ہے۔ وہ خالق کائنات جس کے حکم کے بغیر ایک پتا نہیں ہلتا۔ اُس کے حکم کے بغیر اُسکے نام لیوا کو آگ لگائی جا سکتی ہے؟ اُسے گولیوں سے چھلنی کیا جا سکتا ہے؟ قطعاً نہیں۔ یہ صریحاً ہمارے اپنے اعمال کی سزا ہے
-
” (اے آدم زاد) تجھکو جو فائدہ پہنچے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال کی) وجہ سے ہے “۔ (النساء ۔ ۷۹)
تو اب بھی وقت ہے کہ ہم اللہ کریم سے توبہ کریں کہ ہماری مدد کا واحد راستہ وہی ہے، یہ عذاب اسی لئے ہے کہ شاید ہم توبہ کریں لیکن افسوس تو اس بات پر ہے کہ آج بھی وہ مسلمان جو اللہ کے فضل سے کسی کے ظلم کا نشانہ نہیں وہ ابھی بھی غفلت میں مبتلا ہیں
-
”تو کیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو گڑگڑائے ہوتے لیکن ان کے دل تو سخت ہو گئے اور شیطان نے ان کے کام ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے “ (انعام ۔ ۴۳)