بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
بسنت ، ویلنٹائن ڈے اور ہم (۲) (قرآن وحدیث کی روشنی میں)
مومن کیلئے تو خوشی کی انتہا اُس جنت میں ہے، اُسکا گھر تو وہاں ہے۔ مومن دنیا میں کام تو کرتا ہے، لیکن جیتا دنیا کیلئے نہیں ہے، اُسکے پاس جو بے پناہ صلاحیتیں ہیں، وہ صرف اس حقیر ختم ہونے والی زندگی کیلئے نہیں ہیں کہ ہم جو کچھ بنائیں صرف اس دنیا کیلئے، اور یہی پر ختم ہو جائے، اور اسکے بعد ہمارے لئے کچھ بھی نہ ہو، مومن اسلئے نہیں جیا کرتا، اُسکے مقاصد تو بہت بلند ہوتے ہیں، وہ تو ایک شکر گزار انسان ہوتا ہے، وہ تو اللہ کے احکامات کی پابندی کرتے ہوئے جیتا ہے۔ اللہ کی نافرمانی میں جینا اُسکے لئے موت ہوتا ہے۔ لیکن آج افسوس کے ہم اللہ کی نافرمانی بھی کرتے ہیں، اور پھر ہمیں اُس پر احساس بھی نہیں، اور اُس پر خوش بھی ہوتے ہیں، اور اُسکو محض تفریح کا نام دے کر اپنے لئے جائز قرار دیتے ہیں۔
آج ہمارا حال یہ ہے کہ دن بدن بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے، غربت بڑھتی جارہی ہے، تعلیم میں ہم آگے جانے کی بجائے پیچھے جارہے ہیں۔ ہزاروں لوگوں کے پاس رہنے کو چھت نہیں، لیکن دوسری طرف ہماری قوم کی عیاشی کروڑوں روپے کا زر مبادلہ محض ڈور خریدنے اور کاغذ اُڑانے پر ضائع کر دیتے ہیں۔ اللہ بھی اُس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو قوم خود کو نہ بدلے۔ دنیا میں اس وقت جو اُمت مسلمہ کا حال ہو چکا ہے، اور پھر جگہ جگہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے، یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی اگر ہم جاگے نہیں، اگر ہمیں احساس نہیں ہوتا، اور ہم اپنے لئے کوئی صحیح ڈائریکشن متعین نہیں کرتے، تو ہم اللہ کو کیا جواب دیں گے، کیا ہم اپنی واپسی کا سفر بھول گئے؟ کیا ہمیں اللہ کے سامنے کھڑے نہ ہونا ہوگا؟
ویلنٹائن ڈے کی تاریخ :۔ ۱۴ فروری کی یہ تاریخ ایک عیسائی مبلغ سینٹ ویلنٹائن کی یاد میں منائی جاتی ہے، جس نے رومن بادشاہ کلاڈئیس کے خلاف بغاوت کی تھی، کیونکہ بادشاہ کا خیال تھا کہ اُسکی فوج کی شکست کے اسباب میں یہ بات ہے کہ رومن نوجوان اور سپاہی محبت اور شادی کے چکروں میں صحیح کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ لہذا اُس نے سپاہیوں کی شادی پر پابندی لگا دی۔ ویلنٹائن نے اس کے خلاف بغاوت کی، کہا جاتا ہے اُسکو گرفتار کیا گیا اور ۱۴ فروری کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اور وہاں کے عیسائی پوپ نے ۱۴ فروری کو ویلنٹائن ڈے سے موسوم کیا۔ اسکے علاوہ رومن کے ہاں روایت تھی کہ ۱۴ فروری کو رومن خداؤں کی ملکہ جونو جو کہ عورتوں اور شادی کی دیوی تھی کی یاد میں منایا جاتا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس دن کو کیوں منائیں۔ اُن کیلئے تو کوئی اہم دن ہوگا، لیکن ہمارے لئے اس میں کیا اہمیت ہے، سب سے پہلے تو ہم اپنے آپ سے یہ پوچھیں کہ ہم ہیں کون اور ہمارے لئے پیروی کس کی، کیا ہمارے پاس کوئی تہذیب نہیں، کوئی تمدن نہیں، کوئی کلچر نہیں، کوئی تاریخ نہیں، ہمارے پاس عظمت کے کوئی نشان نہیں کہ ہم دوسری قوموں کے قدموں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ جس چیز کیلئے یہ منایا جاتا ہے، سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہئے کہ اسلام میں اس کی کیا حقیقت ہے۔ شادی کے بغیر لڑکی لڑکے کی محبت کو کوئی تصور نہیں ہے۔ قرآن حکیم میں صاف طور پر منع کیا گیا ہے ”پاکدامن رہنے والیاں، نہ بدکاری کرنے والیاں، اور نہ چھپے دوست بنانے والیاں“۔ (النسآء ۔ ۲۵) یعنی مسلمان عورتوں کی وفاداری اور محبت اپنے شوہروں کے سوا دوسروں کیلئے نہیں ہوا کرتی۔ اسکا انجام کیا ہوتا ہے بسا اوقات ساری زندگی ندامت اور اذیت میں گزرتی ہیں کہ جس میں وہ اپنے شوہر کی خیانت کی مرتکب ہوتی ہیں۔ اور بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ شوہروں کے دل میں جب بدگمانی اور شک پیدا ہو جاتا ہے کہ ہماری بیوی ہماری وفادار نہیں، اور ہم سے پہلے یہ دوسروں کی آنکھ کا تارہ بن چکی ہے، تو شوہر کے دل سے قدر، عزت اور محبت ختم ہو جاتی ہے، عورت کے پاس جو سب سے قیمتی چیز ہے وہ اسکی عزت و عصمت ہے، وہ کوئی بے کار کی چیز نہیں کہ ہر ایک کے دل لبھانے کا سامان بنے۔
بسنت کی تاریخ :۔ بسنت کے بارے میں آتا ہے کہ یہ ہندؤں کا تہوار ہے اور اس کو منانے کے ہمارے ہاں ہر سال مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں مثلاً دعوتیں کی جاتیں ہیں، بڑے بڑے ہوٹلوں میں جگہیں بک کروائی جاتی ہیں۔ مورخ ڈاکٹر بی۔ایس۔ مور اپنی کتاب Punjab Under the Later Mughals میں لکھتے ہیں کہ حقیقت رائے سیالکوٹ کے ایک کھشتری کا لڑکا تھا، اُس نے نبی ﷺ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی شان میں سخت نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ اس جرم میں حقیقت رائے کو گرفتار کر کے عدالتی کاروائی کیلئے لاہور بھیجا گیا، اُسکو سزائے موت سنائی گئی۔ اس واقعہ سے پنجاب کے سارے غیر مسلموں کو شدید دھچکا لگا، کچھ ہندو اُس وقت کے پنجاب کے گورنر کے پاس گئے کہ حقیقت رائے کو معاف کر دیا جائے، لیکن انہوں نے کوئی سفارش نہ سنی، اور سزائے موت کے حکم پر نظر ثانی کرنے سے انکار کر دیا۔ جس کے اجراء میں پہلے مجرم کو ایک ستون سے باندھ کر اُس کو کوڑوں کی سزا دی گئی، اور اُسکی گردن اُڑا دی گئی، جس پر پنجاب میں ساری غیر مسلم برادری نوحہ کناں رہی۔ حقیقت رائے کی یادگار کھوجے شاہی لاہور میں ہے۔ جو باوے دی مڑہی کے نام سے مشہور ہے۔ ایک ہندو رئیس نے اُسکی یاد میں بسنت میلے کا آغاز کیا، جسکی یادگار بھی اس علاقے میں قبرستان میں موجود ہے۔ اس کتاب کے صفحہ 299 پر لکھا ہے کہ ”پنجاب کا بسنت میلہ حقیقت رائے گستاخ رسول ﷺ کی یاد میں منایا جاتا ہے“۔
ہم کبھی بھی غور نہیں کرتے کہ کوئی کام کب شروع ہوا، یا کس وجہ سے ہوا۔ ہم صرف اسلئے کرتے ہیں کہ سب کرتے ہیں۔ اور چونکہ سب کر رہے ہیں، اسلئے ہمارا کرنا بھی درست ہو گیا۔ بہرحال سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمیں کسی کی بھی پیروی کرنے سے پہلے، کسی کہ بھی پیچھے چلنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لینا چاہئے کہ کوئی خود کہاں جا رہا ہے، اور کیوں جا رہا ہے، کوئی اور یہ کام کیوں کر رہا ہے کیونکہ قیامت کے دن انسان انہی کے ساتھ ہوگا جن کا پیروکار اور ساتھی ہوگا۔