بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ایمان کی شاخیں (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مسلمان وہ ہے کہ دوسرے مسلمان اس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ اور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا“۔ (صحیح بخاری)
وضاحت :- اس حدیث کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصہ میں حقیقی مسلمان اور دوسرے حصہ میں حقیقی مہاجر کی صفات بیان فرمائی گئی ہیں۔ پہلے حصے کی رو سے صحیح مسلمان وہ ہے جو کسی پر تہمت نہ لگائے، کسی پر جھوٹ نہ باندھے، کسی کی غیبت نہ کرے یعنی زبان سے جو جرائم کئے جاتے ہیں ان میں ملوث نہ ہو۔ کسی پر اس طرح کا کوئی حملہ نہ کرے جو زبان درازی کی نوعیت کا ہو۔ زبان میں قلم بھی شامل ہے کیونکہ قلم زبان کا بڑا خطرناک ترجمان ہے۔ اخبار نویسوں کے کالموں کے اثرات قلم کی خطرناک شہادت دیتے ہیں۔ زبان کے علاوہ ایک صحیح مسلمان کے ہاتھ کی شرارت سے بھی دوسرے مسلمان محفوظ ہوتے ہیں۔ ہاتھ کی شرارت میں چوری، ڈکیتی، رہزنی، اور اس قبیل کی ساری چیزیں شامل ہیں۔ گویا دوسرے مسلمان جس شخص کے ہاتھ اور زبان سے محفوظ نہیں تو وہ مسلمان نہیں اگرچہ وہ شخص اپنا شمار مسلمانوں میں کرتا ہو۔ روایت کے الفاظ کے لحاظ سے زبان درازی اور دست درازی سے حفاظت مسلمانوں کیلئے ہے۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا غیر مسلموں پر تعدی کی جاسکتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ دوسری روایت میں المرء یا انسان کا لفظ آیا ہے جو مفہوم کو سب انسانوں پر ہاوی کر دیتا ہے۔ روایت کے دوسرے حصے میں حقیقی مہاجر کی تعریف آنحضرت ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ ایسا شخص جو ان سب چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ ایک شہر کو چھوڑ کر دوسری جگہ چلے گئے تو اس سے مہاجر نہیں ہو جائیں گے بلکہ ہجرت یہ ہے کہ ایک ماحول کو شریعت کے خلاف پا کر اور اس کے اندر اصلاح کیلئے جو کچھ کر سکتے ہوں اس میں ناکام ہو کر اپنے دین اور ایمان کو بچانے کیلئے آپ دوسری جگہ چلے جائیں اور یہ گوارہ نہ کریں کہ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے گھر بار اور ملک سے وابستہ رہیں۔ اگر مقصد یہ ہے تو یہ ہجرت ہے ورنہ ہر گھر چھوڑنے والا شخص مہاجر نہیں ہوتا۔
-
”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور (ﷺ) سے سوال کیا کہ کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور سلام کرو ہر شخص کو جس کو تم پہچانتے ہو اور جس کو نہیں پہچانتے ہو“۔ (صحیح بخاری)
وضاحت :- اس حدیث میں سوال وہی ہے جو پچھلی حدیث میں تھا لیکن آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کے سوال کے جواب میں ایک بات کہی اور دوسرے کے جواب میں دوسری۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جواب میں کہی گئی سب چیزیں اسلام کا حصہ ہیں۔ سوال میں لفظ اسلام آیا ہے، ایمان نہیں۔ اور یہ بات قرین قیاس ہے کیونکہ اسلام اور ایمان میں فرق ہے۔ ایمان میں عقائدی پہلو ملحوظ ہوتا ہے اور اسلام میں عملی پہلو۔ یہ دونوں توام ہیں۔ اسلئے دونوں کا ہونا لازم ہے۔ یہ ضروری ہے کہ عقیدہ بھی ہو اور عمل بھی اس کی شہادت دے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بہتر مسلمان وہ ہے جو غریبوں کو کھانا کھلائے۔ یہاں زکوٰۃ کا ذکر نہیں بلکہ کھانا کھلانے کا ہے غریبوں کو کھانا کھلانا انفاق کی ایک عام شکل ہے۔ ہر اچھے مسلمان میں یہ فیاضی ہونی چاہئے۔ دوسری چیز یہ بتائی کہ سلام کرے اس کو بھی جس کو جانتا ہے اور اس کو بھی جس کو نہیں جانتا۔ آپ جن کے ہاں جائیں ان کو سلام بلا امتیاز کرنا ضروری ہے۔ کسی مجلس میں جائیں، مسجد میں جائیں، کسی پلیٹ فارم پر جائیں، ہوٹل میں جائیں، وہاں موجود افراد کو سلام کرنا آداب میں سے ہے۔ یہ بات سلام کے آداب کے خلاف ہے کہ آپ وہاں صرف شناسا آدمی کو سلام کریں اور دوسروں کو چھوڑ دیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ بلا امتیاز سب کو سلام کریں۔ پھر واقف آدمی سے مصافحہ کرلیں۔ اس میں آپ مسلم اور غیر مسلم کی بھی تمیز نہیں کر سکتے۔ حدیث میں اسی بات پر زور ہے کہ تمام لوگوں کو سلام کرو۔ صحابہ کرام کا طریقہ یہ تھا کہ جب کسی مجلس میں جاتے تو وہاں ان کا سلام عام ہوتا، پھر خاص لوگوں کیساتھ خاص بھی۔ الفاظ سے بھی یہی بات نکلتی ہے کہ موقع اور محل کے لحاظ سے عام سلام بھی کرو اور خاص بھی۔
-
”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص حقیقی مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کیلئے وہی کچھ نہ پسند کرے جو اپنے نفس کیلئے پسند کرتا ہے“۔ (صحیح بخاری)
چونکہ روایت میں بات ایمان کے حوالے سے ہے اس لیے ناجائز کام از خود اس سے باہر ہو جاتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی جائز چیزوں میں اپنے لیے وہی پسند کرے جو اللہ اور رسول کی پسند ہے۔ اسکے بعد دوسروں کیلئے بھی ایسا ہی خیر خواہی کا جذبہ ہونا چاہئے۔ وہ اپنے لئے فلاح چاہتا ہے تو دوسروں کیلئے بھی اسکو پسند کرے۔ اپنے لئے مال و عزت چاہتا ہے تو دوسروں کیلئے بھی وہی چاہے۔ اس میں خواہ مخواہ تنگ دل نہیں ہونا چاہئے۔ یہ کردار نہ ہو کہ اپنے لئے تو سب کچھ ہے اور دوسروں کیلئے کچھ نہیں۔ اپنے لئے تو یہ پسند ہو کہ ہر شخص آپ کیساتھ سچ بولے لیکن آپ دوسروں سے جھوٹ بولیں۔ خود تو یہ چاہیں کہ ہر شخص آپ کا حق ادا کر دے لیکن آپ دوسروں کا حق ادا کرنے میں بخیل ہوں۔ یہ کردار بہت بڑی اخلاقی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔