بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حُب رسول ﷺ، جُزِ ایمان (قرآن احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کی مٹھی میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں“۔
-
”حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں“۔ (صحیح بخاری)
وضاحت :- ان روایات میں آنحضرت ﷺ پر ایمان کا تقاضا یہ بتایا گیا ہے کہ آدمی کے اندر آپ ﷺ کیلئے محبت ماں باپ، اولاد، اور تمام مخلوق کے مقابلے میں زیادہ ہو۔ اس سے مراد وہ جذباتی محبت نہیں جو آدمی کو اپنی بیوی یا اولاد سے ہوتی ہے۔ جذبات اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں اور ان میں مداخلت نہیں ہوسکتی۔ یہاں مراد عقلی اور اختیاری محبت ہے۔ یہ سب سے زیادہ نبی ﷺ کیساتھ ہونی چاہئے۔ اس محبت کا معیار قرآن وحدیث دونوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر آدمی کے سامنے کوئی ایسا موڑ آجائے جہاں اس کو یہ فیصلہ کرنا ہو کہ ماں باپ اور بیوی بچوں کی محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ کام کروں لیکن نبی ﷺ کا حکم اس کے خلاف ہے۔ اگر آدمی اس موڑ پر اس چیز کو اختیار کر لے جو نبی ﷺ کا حکم ہے اور بیوی بچوں یا ماں باپ کی خواہش کو نظر انداز کر دے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمام خلق سے زیادہ نبی ﷺ سے محبت کرتا ہے۔ یہ ایمان کا بدیہی اور عقلی تقاضا ہے۔ ماں باپ اور اولاد کے علاوہ اس میں دوسری سب چیزیں شامل ہو جائیں گی۔ جیسے خاندان، برادری، قوم، وطن وغیرہ۔ حقیقی ایمان وہی ہے جو اس کسوٹی پر پورا اترے۔ باقی رہا قانونی ایمان تو وہ یہ ہے کہ جب تک آدمی لا الہ الا اللہ کا انکار نہ کر دے یا کسی ایسی چیز کا اعلان نہ کر دے جو اس کلمے کے منافی ہے تب تک اس پر لفظ مسلمان کا اطلاق ہو گا اور اس پر مسلمانوں کا قانون لاگو رہے گا۔ مردم شماری میں وہ مسلمان ہی شمار ہو گا اگرچہ یہ حقیقی ایمان سے خالی ہو۔
-
”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تین چیزیں جس کے اندر ہیں اس کو ایمان کا مزہ حاصل ہوا۔ ایک یہ کہ اللہ اور رسول اس کو ان کے ماسوا سے زیادہ محبوب ہو جائیں۔ دوسری یہ کہ وہ کسی شخص سے محبت کرے محض اللہ کیلئے۔ اور تیسری یہ کہ وہ کفر کی طرف لوٹنے کو ایسا ناگوار سمجھے جیسے وہ آگ میں پھینکے جانے کو ناگوار سمجھتا ہے“۔ (صحیح بخاری)
وضاحت :- اس حدیث میں نبی ﷺ نے تین چیزیں ایسی بتائی ہیں جو اگر کسی کو حاصل ہوں تو ایسا مسلمان اپنے ایمان کی چاشنی محسوس کرتا ہے۔ اس میں پہلی چیز اللہ اور اسکے رسول کی محبت کو قرار دیا گیا ہے جس سے ایمانی محبت مراد ہے۔ اللہ کی محبت کا مطلب یہ ہے کہ توحید الوہیت میں اسے وحدہ لا شریک لہ یقین کر کے عبادت کی جملہ اقسام صرف اسکے لئے عمل میں لائی جائیں اور کسی بھی نبی، ولی، فرشتے، دیوی، دیوتا، انسان وغیرہ وغیرہ کو اس کے کاموں میں شریک نہ کیا جائے۔ کیونکہ کلمہ لا الہ الا اللہ کا یہی تقاضا ہے۔ یعنی ”بیشک اللہ شرک کو نہیں بخشے گا اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہے گا بخش دے گا“۔ (النساء ۔ ۴۸)
”رسول ﷺ“ کی محبت سے ان کی اطاعت اور فرمانبرداری مراد ہے اس کے بغیر محبت رسول ﷺ کا دعویٰ غلط ہے۔ نیز محبت رسول کا تقاضا ہے کہ آپ کا ہر فرمان بلند و بالا تسلیم کیا جائے۔ اور اس کے مقابلہ پر کسی کا کوئی حکم نہ مانا جائے۔
اس حدیث میں دوسری خصلت بھی بہت اہم بیان کی گئی ہے کہ مومن کامل وہ ہے جس کی لوگوں سے محبت خالص اللہ کیلئے ہو اور دشمنی بھی خالص اللہ کیلئے ہو۔ نفسانی اغراض کا شائبہ بھی نہ ہو۔ جیسا کہ حضرت علی مرتضیٰ کی بابت مروی ہے کہ ایک کافر نے جس کی چھاتی پر آپ چڑھے ہوئے تھے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔ تو آپ فوراً ہٹ کر اس کے قتل سے رک گئے اور یہ فرمایا کہ اب میرا یہ قتل کرنا اللہ کیلئے نہ ہوتا۔ بلکہ اس کے تھوکنے کی وجہ سے اپنے نفس کیلئے ہوتا اور مومن صادق کا یہ شیوہ نہیں کہ اپنے نفس کیلئے کسی سے عداوت یا محبت رکھے۔
تیسری خصلت میں اسلام و ایمان پر استقامت مراد ہے۔ حالات کتنے بھی ناسازگار ہوں ایک سچا مومن دولت ایمان کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ بلاشک جس میں یہ تینوں خصلتیں جمع ہوں گی اس نے درحقیقت ایمان کی لذت حاصل کی پھر وہ کسی حال میں ایمان سے محرومی پسند نہ کرے گا اور مرتد ہونے کیلئے کبھی بھی تیار نہ ہو سکے گا۔ خواہ وہ شہید کر دیا جائے‘ اسلامی تاریخ کی ماضی و حال میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ بہت سے مخلص بندگان مسلمین نے جام شہادت پی لیا مگر ارتداد کیلئے تیار نہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان مرد اور عورت کے اندر ایسی ہی استقامت پیدا فرمائے۔ آمین۔