بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
معراج النبی ﷺ (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو معراج کرایا گیا تو آپ ﷺ کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا اور سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے جو چیز زمین سے اوپر لے جائی جاتی ہے تو اسے وہاں روک دیا جاتا ہے اور اس کے اوپر سے جو کچھ بھی نیچے آتا ہے اور اسے بھی وہیں روک لیا جاتا ہے (اس کے بعد) ابن مسعود رضی اللہ عنہ یہ آیت تلاوت کی (جس کا ترجمہ ہے) ’جب سدرۃ المنتہیٰ کو ڈھانپ لیا‘ جس چیز سے ڈھانپ لیا‘، اور کہا اس سے مقصود سونے کے پتنگے ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (معراج کی رات) نبی ﷺ کو تین چیزیں عطا کی گئیں :- (۱) آپ ﷺ کو پانچ نمازیں عطا کی گئیں۔ (۲) سورۃ بقرہ کی آخری آیت عطا کی گئیں۔ (۳) اور آپ ﷺ کی امت میں سے اس شخص کے کبیرہ گناہ معاف (کرنے کے احکامات صادر) کئے گئے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔“ (صحیح مسلم)
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’میں نے اپنے آپ کو اس حال میں ”حِجْر“ یعنی حَطِیم میں دیکھا کہ قریش مجھ سے میرے اسراء کے بارے میں دریافت کر رہے تھے اور بیت المقدس کی ان بہت سی چیزوں کے بارے میں دریافت کر رہے تھے جو مجھے یاد نہیں رہی تھیں۔ چنانچہ میں بہت غمگین ہوا کہ اس سے پہلے میں کبھی اتنا غمگین نہیں ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا میں اسے دیکھ رہا تھا وہ جس چیز کے بارے میں بھی مجھ سے دریافت کرتے تو میں انہیں اس کے بارے میں بتا دیتا نیز یہ حقیقت ہے کہ میں نے خود انبیاء علیہم اصلوۃ والسلام کی جماعت میں دیکھا کہ موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے‘ وہ ہلکے ہلکے مضبوط جسم والے شخص تھے گویا کہ وہ شنوء قبیلہ کے آدمیوں میں سے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے‘ ان سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود ثقفی ہیں اور ابراہیم علیہ السلام بھی کھڑے نماز ادا کر رہے تھے‘ ان سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والا تمہارا دوست ہے‘ آپ ﷺ کا اشارہ اپنے آپ کی طرف تھا۔ جب نماز کا وقت ہوا تو میں نے ان سب کی امامت کرائی جب میں نماز سے فارغ ہوا تو مجھے کسی کہنے والے نے کہا کہ اے محمد! (ﷺ) یہ دوزخ کا نگران فرشتہ مالک ہے‘ آپ ﷺ اسے سلام کہیں (آپ ﷺ نے فرمایا) میں اس کی جانب متوجہ ہوا لیکن اس نے مجھے سلام کہنے میں پہل کی۔“ (صحیح مسلم)
-
”حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا ’جب قریش نے (معراج کے واقعہ کے بارے میں) مجھے جھٹلایا تو ”حِجْر“ یعنی حَطِیم میں کھڑا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بیتُ الْمُقَدس کو میرے لئے نمایاں کر دیا تو میں (بیتُ الْمُقَدس) کی طرف دیکھ دیکھ کر اس کی علامات ان لوگوں کو بتاتا رہا۔‘“ (صحیح مسلم ، صحیح بخاری)