نبی کریم ﷺ کے معجزات (۱)

اشاعت: 15-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
Mojzat e Nabvi ﷺ hadith ki roshni mein – Prophet Muhammad ﷺ ke mojzat aur karamat

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نبی کریم کے معجزات (۱) (احادیث کی روشنی میں)

  • ”حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے (جنگ) اُحد کے دن رسول اللہ کے دائیں اور بائیں جانب دو شخص دیکھے ان دونوں نے سفید لباس پہنا ہوا تھا، وہ زبردست لڑائی کر رہے تھے میں نے ان دونوں کو نہ کبھی پہلے اور نہ ہی کبھی بعد میں دیکھا اور وہ جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام فرشتے تھے“۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

  • ”براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی نے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ابورافع (یہودی) کے قتل کیلئے بھیجا، چنانچہ عبداللہ رضی اللہ عنہ رات کے وقت ان کے گھر میں داخل ہوئے، ابورافع اس وقت سویا ہوا تھا، عبداللہ بن عتیکؓ نے اسے قتل کر دیا۔ عبداللہ بن عتیکؓ کہتے ہیں کہ میں نے اسکے پیٹ میں تلوار گھونپ دی یہاں تک کہ اسکی کمر کے پار ہو گئی، مجھے یقین ہو گیا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے، پھر میں نے دروازے کھولنے شروع کئے یہاں تک کہ میں سیڑھی کے قریب پہنچ گیا، میں نے اپنا پاؤں رکھا تو میں چاندنی رات میں سیڑھی سے گر پڑا جس سے میری پنڈلی (کی ہڈی) ٹوٹ گئی، میں نے اسکو (اپنی) پگڑی کے ساتھ مضبوط باندھا اور میں اپنے رفقاء کی جانب چلا جو قلعے کے نیچے کھڑے تھے، پھر میں اپنے رفقاء کے ساتھ نبی کریم کی خدمت میں پہنچا۔ میں نے آپ سے تمام واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا، اپنا پاؤں پھیلا، میں نے اپنا پاؤں پھیلایا تو آپ نے اپنا ہاتھ پھیرا تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے میری پنڈلی میں کبھی تکلیف ہوئی ہی نہ تھی“۔ (صحیح بخاری)

  • ”جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن لوگوں نے پیاس کی شدت کو محسوس کیا جبکہ رسول اللہ کے آگے وضو کا برتن تھا، آپ نے اس سے وضو کیا بعد ازاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ آپ کی جانب آئے انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس (اتنا بھی) پانی نہیں ہے کہ ہم وضو کر سکیں اور پی سکیں صرف وہی ہے جو آپ کے برتن میں ہے۔ نبی نے اپنا ہاتھ برتن میں رکھا تو آپ کی انگلیوں سے پانی چشمے کی مانند جوش مارنے لگا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے پانی پیا اور اس سے وضو کیا۔ جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم پندرہ سو تھے لیکن اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو پانی ہمیں کافی ہوتا“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

  • ”جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُم مالک رضی اللہ عنہا نبی کی جانب چھوٹا سا مشکیزہ تحفہ بھیجتیں جس میں گھی ہوتا تھا، اُم مالکؓ کے پاس ان کے بچے آتے اور ان سے سالن کا مطالبہ کرتے، ان کے گھر میں سالن نہ ہوتا تو وہ اس مشکیزے کی جانب متوجہ ہوتیں جس میں نبی کیلئے ہدیتاً گھی بھیجتی تھیں۔ چنانچہ وہ اس میں گھی موجود پاتیں، مشکیزہ ہمیشہ انکے لئے ان کے گھر کا سالن رہا حتیٰ کہ انہوں نے (ایک دن) مشکیزے کو بالکل نچوڑ دیا۔ وہ نبی کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپ نے دریافت کیا، کیا تو نے مشکیزے کو بالکل نچوڑ دیا؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ آپ نے فرمایا، اگر تو اسے نہ نچوڑتی تو گھی ہمیشہ (اس میں) موجود رہتا“۔ (صحیح مسلم)

  • ”انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مدینہ منورہ کے مکین (دشمن کے آنے سے) خوفزدہ ہوئے تو نبی ابوطلحہؓ کے گھوڑے پر سوار ہوئے جو سست رفتار تھا اور اسکا چلنا کمزور تھا، جب آپ واپس تشریف لائے تو آپ نے فرمایا، ہم نے تمہارے اس گھوڑے کو تیز رفتار پایا ہے، اس واقعہ کے بعد اس گھوڑے کیساتھ (دوڑنے میں) کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا تھا، اور ایک روایت میں ہے کہ اس دن کے بعد سے کوئی گھوڑا اس سے آگے نہ بڑھ سکا“۔ (صحیح بخاری)

 قرآن و احادیث کی تعلیمات کو تمام انسانوں تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں۔ جزاک اللہ۔ www.islamic-portal.org

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Miracles of the Prophet (1) (In the Light of Hadith)

Sa‘d ibn Abi Waqqas رضي الله عنه reported:
On the day of Uhud, I saw two men on the right and left of the Messenger of Allah wearing white garments and fighting fiercely. I had never seen them before nor after that day. They were Jibril عليه السلام and Mika’il عليه السلام.
(Sahih al-Bukhari, Sahih Muslim)

Al-Bara’ ibn ‘Azib رضي الله عنه reported:
The Prophet sent some Companions to kill Abu Rafi‘. ‘Abdullah ibn ‘Atik رضي الله عنه entered his house at night and killed him. While returning, he fell from the stairs and his ساق broke. He tied it with his turban and later came to the Messenger of Allah and informed him. The Prophet said, “Stretch out your leg.” I stretched it out, and he passed his hand over it, and it was as though I had never felt any pain in it.
(Sahih al-Bukhari)

Jabir رضي الله عنه reported:
On the day of Hudaybiyah, the people were extremely thirsty. The Messenger of Allah had a vessel of water for ablution. He performed ablution from it, then the people came to him and said they had no water except what was in that vessel. The Prophet placed his hand in the vessel, and water began to gush forth from between his fingers like a spring. We drank from it and performed ablution. When asked how many they were, Jabir رضي الله عنه said: We were fifteen hundred, and even if we had been one hundred thousand, it would have sufficed us.
(Sahih al-Bukhari, Sahih Muslim)

Jabir رضي الله عنه reported:
Umm Malik رضي الله عنها used to send a small waterskin filled with ghee as a gift to the Prophet . Her children would come asking for food, and when there was nothing in the house, she would go to that waterskin and find ghee in it. It remained a continual source of food for them until one day she squeezed it completely empty. She then came to the Prophet . He asked, “Did you squeeze it?” She replied yes. He said, “Had you not squeezed it, it would have continued to provide ghee.”
(Sahih Muslim)

Anas رضي الله عنه reported:
The people of Madinah once became frightened due to news of an approaching enemy. The Prophet mounted the horse of Abu Talhah رضي الله عنه, which was known to be slow. When he returned, he said, “We found your horse very swift.” After that day, no horse could outrun it.
(Sahih al-Bukhari)

May Allah grant us the ability to understand and spread the teachings of the Quran and authentic Hadith. Ameen.