بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
واقعہ ہجرت (احادیث کی روشنی میں)
”حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ’اے ابوبکرؓ! آپ مجھے یہ بتائیں کہ جب آپ رسول اللہ ﷺ کی معیت میں اپنے والد سے (مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرما کر) گئے تھے تو آپ نے کیا کیا تھا؟ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا ’ہم (غار سے نکل کر) رات بھر اور دن کا کچھ حصہ چلتے رہے یہاں تک کہ زوال کا وقت آگیا اور راستہ (بالکل) خالی تھا‘ وہاں سے کوئی شخص گزر نہیں رہا تھا‘ ہمیں ایک اونچا پتھر دکھائی دیا جس کا سایہ تھا وہاں دھوپ نہیں تھی ہم اس پتھر کے پاس اترے اور میں نے اپنے ہاتھ کے ساتھ نبی ﷺ کے لئے ایک جگہ ہموار کی کہ جس پر آپ ﷺ آرام کرسکیں‘ میں نے وہاں چمڑا بچھا دیا اور میں نے عرض کیا ’اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ محو خواب ہو جائیں اور میں آپ ﷺ کے اردگرد کا جائزہ لیتا رہوں گا یعنی پہرے داری کے فرائض انجام دوں گا۔ چنانچہ آپ ﷺ محو خواب ہو گئے اور میں (وہاں سے) نکلا تاکہ آپ ﷺ کے اردگرد کا جائزہ لوں۔ اچانک میں ایک چرواہے سے ملا جو آرہا تھا‘ میں نے دریافت کیا ’کیا تمہاری بکریاں دودھ دینے والی ہیں؟ اس نے اثبات میں جواب دیا۔ میں نے کہا ’تم ہمیں دودھ نکالنے دو گے؟ اس نے اثبات میں جواب دیا چنانچہ اس نے ایک بکری کو پکڑا اور لکڑی کے پیالے میں تھوڑا سا دودھ نکال دیا اور میرے پاس پینے کے پانی کا ایک برتن تھا میں نے اسے نبی ﷺ کے لئے (خاص طور پر) اٹھایا تھا کہ آپ ﷺ اس سے سیراب ہوسکیں اور وضو کرسکیں چنانچہ میں (دودھ لے کر) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے مناسب نہ سمجھا کہ آپ ﷺ کو بیدار کروں میں منتظر رہا یہاں تک آپ ﷺ (ازخود) بیدار ہوئے تو میں نے دودھ میں تھوڑا سا پانی ملایا تو وہ کافی ٹھنڈا ہو گیا۔ میں نے عرض کیا ’اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نوش فرمائیں۔ آپ ﷺ نے پیا یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا۔ بعدازاں آپ ﷺ نے فرمایا ’کیا ابھی روانگی کا وقت نہیں ہوا؟ میں نے عرض کیا ’ضرور! (ہو گیا ہے) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سورج ڈھلنے کے بعد چلے جبکہ ہمارے تعاقب میں سراقہ بن مالک تھا۔ میں نے عرض کیا ’اے اللہ کے رسول! ہمارا دشمن آن پہنچا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’تم گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے لئے بددعا کی تو اس کے گھوڑے کی ٹانگیں اس کے پیٹ تک سخت زمین میں دھنس گئیں۔ اس نے کہا ’تمہارے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ تم نے میرے لئے بددعا کی ہے (اب) تم ہی میری نجات کے لئے دعا کرو۔ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی ضمانت دیتا ہوں کہ میں تم سے ان لوگوں کو واپس کروں گا جو تمہاری تلاش میں ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے اس کے لئے دعا کی‘ وہ نجات پا گیا۔ وہ جس شخص کو بھی ملتا تو اسے کہتا کہ تم اس کی تلاش سے بے پرواہ ہو جاؤ‘ یہاں کوئی شخص نہیں ہے وہ جس شخص کو بھی ملتا اسے واپس کرتا جاتا۔“ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)