واقعہ ہجرت

اشاعت: 15-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
Hijrat e Madina ka waqia – Safar e Hijrat Hadith Bukhari aur Muslim
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

واقعہ ہجرت (احادیث کی روشنی میں)

”حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ’اے ابوبکرؓ! آپ مجھے یہ بتائیں کہ جب آپ رسول اللہ کی معیت میں اپنے والد سے (مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرما کر) گئے تھے تو آپ نے کیا کیا تھا؟ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا ’ہم (غار سے نکل کر) رات بھر اور دن کا کچھ حصہ چلتے رہے یہاں تک کہ زوال کا وقت آگیا اور راستہ (بالکل) خالی تھا‘ وہاں سے کوئی شخص گزر نہیں رہا تھا‘ ہمیں ایک اونچا پتھر دکھائی دیا جس کا سایہ تھا وہاں دھوپ نہیں تھی ہم اس پتھر کے پاس اترے اور میں نے اپنے ہاتھ کے ساتھ نبی کے لئے ایک جگہ ہموار کی کہ جس پر آپ آرام کرسکیں‘ میں نے وہاں چمڑا بچھا دیا اور میں نے عرض کیا ’اے اللہ کے رسول! آپ محو خواب ہو جائیں اور میں آپ کے اردگرد کا جائزہ لیتا رہوں گا یعنی پہرے داری کے فرائض انجام دوں گا۔ چنانچہ آپ محو خواب ہو گئے اور میں (وہاں سے) نکلا تاکہ آپ کے اردگرد کا جائزہ لوں۔ اچانک میں ایک چرواہے سے ملا جو آرہا تھا‘ میں نے دریافت کیا ’کیا تمہاری بکریاں دودھ دینے والی ہیں؟ اس نے اثبات میں جواب دیا۔ میں نے کہا ’تم ہمیں دودھ نکالنے دو گے؟ اس نے اثبات میں جواب دیا چنانچہ اس نے ایک بکری کو پکڑا اور لکڑی کے پیالے میں تھوڑا سا دودھ نکال دیا اور میرے پاس پینے کے پانی کا ایک برتن تھا میں نے اسے نبی کے لئے (خاص طور پر) اٹھایا تھا کہ آپ اس سے سیراب ہوسکیں اور وضو کرسکیں چنانچہ میں (دودھ لے کر) نبی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے مناسب نہ سمجھا کہ آپ کو بیدار کروں میں منتظر رہا یہاں تک آپ (ازخود) بیدار ہوئے تو میں نے دودھ میں تھوڑا سا پانی ملایا تو وہ کافی ٹھنڈا ہو گیا۔ میں نے عرض کیا ’اے اللہ کے رسول! آپ نوش فرمائیں۔ آپ نے پیا یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا۔ بعدازاں آپ نے فرمایا ’کیا ابھی روانگی کا وقت نہیں ہوا؟ میں نے عرض کیا ’ضرور! (ہو گیا ہے) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سورج ڈھلنے کے بعد چلے جبکہ ہمارے تعاقب میں سراقہ بن مالک تھا۔ میں نے عرض کیا ’اے اللہ کے رسول! ہمارا دشمن آن پہنچا ہے۔ آپ نے فرمایا ’تم گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ نبی کریم نے اس کے لئے بددعا کی تو اس کے گھوڑے کی ٹانگیں اس کے پیٹ تک سخت زمین میں دھنس گئیں۔ اس نے کہا ’تمہارے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ تم نے میرے لئے بددعا کی ہے (اب) تم ہی میری نجات کے لئے دعا کرو۔ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی ضمانت دیتا ہوں کہ میں تم سے ان لوگوں کو واپس کروں گا جو تمہاری تلاش میں ہیں۔ پھر آپ نے اس کے لئے دعا کی‘ وہ نجات پا گیا۔ وہ جس شخص کو بھی ملتا تو اسے کہتا کہ تم اس کی تلاش سے بے پرواہ ہو جاؤ‘ یہاں کوئی شخص نہیں ہے وہ جس شخص کو بھی ملتا اسے واپس کرتا جاتا۔“ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

The Event of Hijrah (In the Light of Hadith)

The Journey with Abu Bakr رضي الله عنه

Al-Bara ibn ʿAzib رضي الله عنه narrated that he asked Abu Bakr رضي الله عنه:
“O Abu Bakr! Tell me what happened when you accompanied the Messenger of Allah while migrating from Makkah to Madinah?”

Abu Bakr al-Siddiq رضي الله عنه replied:
“We travelled through the night and part of the day until the time of noon came, and the road was completely deserted; no one was passing by. Then we saw a high rock that had shade where the sun did not reach. We stopped there, and I prepared a place for the Prophet with my hands so that he could rest. I spread a leather cloth for him and said: ‘O Messenger of Allah , please rest, and I will keep watch around you.’

So the Prophet slept, and I went out to look around. Suddenly I came across a shepherd who was approaching. I asked him, ‘Do your goats give milk?’ He replied in the affirmative. I said, ‘Will you allow us to milk one?’ He agreed. He held a goat and milked a small amount into a wooden bowl. I had a container of drinking water which I had brought especially for the Prophet so that he could drink and perform ablution. I then went to the Prophet with the milk. I did not wish to wake him, so I waited until he woke up on his own. I mixed a little water into the milk so that it became cool and then said: ‘O Messenger of Allah , please drink.’ He drank until I felt pleased.”

Then the Prophet asked:
“Is it not yet time for departure?”

I replied: “Indeed, it is.”

Abu Bakr رضي الله عنه said:
“We then set out after the sun had declined, while Suraqah ibn Malik was pursuing us. I said: ‘O Messenger of Allah, our pursuer has caught up with us.’ The Prophet said: ‘Do not be afraid; indeed Allah is with us.’

The Prophet supplicated against him, and the legs of his horse sank into the hard ground up to its belly. He said: ‘I realize that you have supplicated against me; now pray for my deliverance. I pledge by Allah that I will turn back those who are searching for you.’

So the Prophet prayed for him, and he was released. Thereafter, whenever he met anyone on the way, he would say: ‘You need not search here; there is no one here,’ and he kept turning people back.”
(Sahih al-Bukhari; Sahih Muslim)