بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نبی کریم ﷺ کے معجزات (۳) (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں چلے یہاں تک کہ ہم ایک وسیع وادی میں اترے۔ رسول اللہ ﷺ قضاء حاجت کے لئے چلے گئے۔ آپ ﷺ نے پردہ کی کسی چیز کو نہ پایا البتہ وادی کے کنارے پر دو درخت تھے۔ رسول اللہ ﷺ ان میں سے ایک کی جانب گئے آپ ﷺ نے اس کی ایک شاخ کو پکڑا اور کہا تو اللہ کے حکم کے ساتھ مجھ پر پردہ کر۔ وہ آپ ﷺ کے حکم کی جانب اس طرح تابعدار ہوئی جیسا کہ وہ اونٹ جس کے ناک میں نکیل ہو (تابعدار ہوتا ہے) وہ اس شخص کی اطاعت کرتا ہے جو اس کا قائد ہوتا ہے۔ پھر آپ ﷺ دوسرے درخت کے پاس گئے آپ ﷺ نے اس کی ایک شاخ کو پکڑا اور کہا کہ اللہ کے حکم کے ساتھ میری اطاعت کر۔ دوسری شاخ کی طرح اس نے بھی آپ ﷺ کی اطاعت کی اور جب آپ ﷺ ان کے درمیان ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے حکم کے ساتھ میرے قریب ہو جاؤ وہ دونوں آپ ﷺ کے قریب ہوگئیں۔ (جابرؓ کہتے ہیں کہ) میں بیٹھا اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا اچانک میرا دھیان (آپ ﷺ کی جانب) ہوا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لا رہے ہیں اور دونوں درخت الگ الگ ہو گئے ہیں ہر درخت اپنے تنے پر کھڑا ہے۔“ (صحیح مسلم)
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ مشرکہ تھیں اور میں انہیں اسلام کی دعوت دیا کرتا تھا۔ (ایک روز) میں نے انہیں دعوت دی تو انہوں نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ایسے کلمات کہے جنہیں میں ناپسند جانتا تھا۔ میں روتا ہوا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت فرمائے۔ آپ ﷺ نے دعا کی ’اے اللہ! ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت فرما‘۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ کے دعا فرمانے کے سبب میں خوشی خوشی (وہاں سے) نکلا جب میں دروازے پر پہنچا تو دروازہ بند تھا چنانچہ جب میری والدہ نے میرے پاؤں کی آہٹ سنی تو انہوں نے کہا ’اے ابوہریرہ! رک جا اور میں نے پانی کی حرکت کی آواز کو سنا‘ انہوں نے غسل کیا اپنا لباس زیب تن کیا اور جلدی میں اپنا ڈوپٹہ لینا بھول گئیں۔ پھر دروازہ کھولا اور کہا ’اے ابوہریرہ! میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے اور میں یہ بھی گواہی دیتی ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ تعالیٰ کے بندے اور اسکے رسول ہیں‘۔ چنانچہ میں خوشی سے روتا ہوا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے الحمدللہ کے کلمات کہے اور فرمایا ’بہتر ہوا ہے‘۔“ (صحیح مسلم)
-
”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے لئے کتابت کے فرائض انجام دیا کرتا تھا وہ اسلام سے مرتد ہو گیا اور مشرکین کے ساتھ مل گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’بلاشبہ اس شخص کو زمین قبول نہیں کرے گی‘۔ (انسؓ کہتے ہیں) ابوطلحہؓ نے مجھے بتایا کہ وہ اس علاقہ میں آیا جس میں وہ شخص فوت ہوا تھا، انہوں نے اس کو زمین پر گرا ہوا پایا۔ انہوں نے دریافت کیا ’اسے کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ہم نے اس کو کئی بار دفنایا ہے لیکن زمین اسے قبول نہیں کر رہی‘۔“ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
-
”حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سفر سے واپس آئے جب آپ ﷺ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو زبردست آندھی چلی قریب تھا کہ وہ سوار انسان کو چھپا دے۔ نبی ﷺ نے فرمایا ’آندھی کسی منافق آدمی کی وفات پر چلی ہے‘۔ جب مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں ایک بہت بڑا منافق فوت ہوا تھا“۔ (صحیح مسلم)
-
”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگ قحط میں مبتلا ہو گئے۔ نبی کریم ﷺ جمعہ کے روز خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ایک بدوی کھڑا ہوا اس نے عرض کیا ’اے اللہ کے رسول! مال مویشی ہلاک ہو گئے ہیں اور اہل و عیال بھوک سے دو چار ہیں۔ آپ ﷺ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور ہمیں آسمان میں کوئی بادل نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آپ ﷺ نے ابھی اپنے ہاتھ نیچے نہیں کئے تھے کہ پہاڑوں کی مانند بادل اُمڈ آئے‘ آپ ﷺ ابھی منبر سے نیچے نہ اترے تھے’میں نے دیکھا کہ بارش آپ ﷺ کی داڑھی مبارک پر گر رہی ہے۔ چنانچہ اس روز اگلے دن اور اس سے اگلے دن بلکہ دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ پھر وہی دیہاتی یا کوئی اور کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا ’اے اللہ کے رسول ﷺ! مکانات گر گئے ہیں اور مویشی ڈوب گئے ہیں آپ ﷺ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی ’اے اللہ ہمارے اردگرد (بارش) ہو اور ہم پر نہ ہو اے اللہ! ٹیلوں پہاڑوں وادیوں اور جہاں جہاں درخت اگتے ہیں (بارش فرما)‘۔ آپ ﷺ کسی جانب اشارہ نہیں کر رہے تھے مگر بادل کھل رہا تھا اور مدینہ منورہ حوض کی مانند ہو گیا اور ”قناۃ“ وادی ایک ماہ تک بہتی رہی اور ہر جانب سے آنے والا شخص بارش ہی کی خبر دیتا تھا۔ انسؓ بیان کرتے ہیں کہ بادل چھٹ گئے اور ہم نکلے تو دھوپ میں چل رہے تھے‘۔“ (صحیح مسلم)