نبی کریم ﷺ کے معجزات (۲)

اشاعت: 15-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
Nabi Kareem ﷺ ke mojzat – Jang e Badr, Khandaq aur pani mein barkat hadith ki roshni mein

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نبی کریم کے معجزات (۲) (احادیث کی روشنی میں)

  • ”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہمیں ابوسفیان (کے قافلے) کے آنے کی خبر پہنچی تو رسول اللہ نے (مدینہ منورہ والوں سے) مشورہ کیا تو سعد بن عبادہؓ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کیا ’اے اللہ کے رسول ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں (چار پایوں کو) سمندر میں داخل کرنے کا حکم دیں تو ہم سمندر میں داخل کر دیں گے اور اگر ہمیں حکم دیں کہ ہم چار پایوں کے پہلوؤں پر مارتے ہوئے ’برک غِمَاد‘ (یمن کی آخری بستی) میں پہنچیں تو ہم ایسا ہی کریں گے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ نے صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ کو بلایا وہ نکلے یہاں تک کہ بدر (مقام) میں اترے۔ رسول اللہ نے (صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا ’اس جگہ فلاں فلاں شخص ہلاک ہو گا‘۔ آپ نے نشاندہی کرتے ہوئے زمین پر اپنا ہاتھ مبارک رکھا کہ یہاں اور یہاں۔۔۔۔۔۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان میں سے کوئی شخص بھی اس جگہ سے دور نہیں (مرا) تھا جہاں جہاں آپ نے ہاتھ رکھا تھا‘۔“ (صحیح مسلم)

  • ”حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم (صحابہ اکرامؓ) جنگ خندق کے موقعہ پر کھدائی کر رہے تھے کہ ایک مضبوط چٹان سے واسطہ پڑا۔ صحابہ اکرامؓ نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کیا کہ مضبوط چٹان سامنے آگئی ہے۔ آپ نے فرمایا میں اترتا ہوں۔ آپ کھڑے ہوئے اور آپ کے پیٹ مبارک پر (بھوک کی شدت کی وجہ سے) ایک پتھر بندھا ہوا تھا۔ ہم نے تین روز سے کچھ کھایا پیا نہ تھا۔ نبی کریم نے کدال پکڑی اور اسے مارا تو چٹان ایسی ریت کی مانند ہو گئی جو آسانی سے گرتی ہے۔ (جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) چنانچہ میں اپنی بیوی کے پاس گیا، میں نے (اس سے) دریافت کیا کہ تیرے پاس کچھ (کھانے پینے کیلئے) ہے؟ اسلئے کہ میں نے نبی کریم کو دیکھا ہے آپ شدید بھوک سے دوچار ہیں۔ اس نے ایک تھیلا نکالا جس میں ایک صاع (کے بقدر) جو تھے اور ہمارے پاس ایک چھوٹا سا فربہ مینڈھا بھی تھا میں نے اسے ذبح کیا اور (میری) بیوی نے جو پیس لئے۔ ہم نے گوشت کو پتھر کی ہنڈیا میں ڈالا اس کے بعد میں نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ سے پوشیدہ بات کی۔ میں نے عرض کیا ’اے اللہ کے رسول ! ہم نے اپنے فربہ مینڈھے کو ذبح کیا ہے اور (میری) بیوی نے جو کے ایک صاع کا آٹا بنایا ہے۔ آپ اور آپ کے ساتھ چند رفقاء تشریف لائیں۔ (یہ بات سن کر) نبی کریم نے بلند آواز کے ساتھ فرمایا ’خندق کھودنے والو! بلاشبہ جابرؓ نے (آپ سب کی) ضیافت کی ہے‘ آپ جلدی سے آئیں، رسول اللہ نے فرمایا ’جب تک میں نہ آجاؤں ہنڈیا کو نہ اتارنا اور نہ ہی آٹے کی روٹیاں بنانا۔ آپ تشریف لائے تو میں آپ کی خدمت میں آٹا پیش کر دیا آپ نے اس میں (اپنا) لعاب ڈالا اور برکت کی دعا کی بعدازاں آپ ہنڈیا کی جانب آئے آپ نے اس میں بھی (اپنا) لعاب ڈالا اور برکت کی دعا کی۔ اسکے بعد آپ نے فرمایا، روٹی پکانے والی کو بلاؤ کہ وہ تمہارے ساتھ روٹیاں پکائے اور ہنڈیا سے سالن نکالتے رہو اور تم اسے اتارنا مت اور وہ ایک ہزار (افراد) تھے۔ جابرؓ کہتے ہیں کہ میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ ان سب نے (سیر ہو کر) کھایا حتیٰ کہ باقی چھوڑ اور واپس چلے گئے اور ہماری ہنڈیا اسی طرح بھری ہوئی تھی جیسے کہ پہلے تھی اور ہمارا آٹا جسے پکایا جا رہا تھا اسی طرح ہی تھا‘۔“ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

  • ”حضرت عوف، ابورجاء سے وہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں انہوں نے بتایا کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم کے ساتھ تھے، لوگوں نے آپ سے بہت زیادہ پیاس کی شکایت کی۔ آپ اترے، آپ نے ایک (معروف) شخص کو بلایا۔ ابورجاء نے اس کا نام لیا ہے (البتہ) عرف بھول گئے نیز آپ نے علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلایا اور فرمایا، ’آپ دونوں جائیں اور پانی تلاش کریں۔ چنانچہ وہ دونوں گئے وہ ایک عورت سے ملے جو پانی کے دو مشکیزوں کے درمیان (سوار) تھی۔ دونوں صحابی اس عورت کو نبی کے پاس لے آئے۔ اس کو اس کے اونٹ سے اتارا اور آپ نے ایک برتن طلب کیا آپ نے اس برتن میں دونوں مشکیزوں کا پانی گرایا اور لوگوں میں منادی کی گئی کہ ضرورت کے مطابق پانی لے لو۔ چنانچہ لوگوں نے پانی لیا۔ راوی نے بیان کیا کہ ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے پانی پیا یہاں تک کہ ہم سیراب ہو گئے‘ ہم نے اپنے مشکیزے اور ڈول بھر لئے اور اللہ کی قسم! لوگ اس برتن سے پانی لے کر واپس لوٹے اور ہمیں محسوس ہو رہا تھا کہ مشکیزے پہلے سے کہیں زیادہ بھرا ہوا ہے“۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Miracles of the Prophet (2) (In the Light of Hadith)

Anas رضي الله عنه reported:
When we received news of the arrival of Abu Sufyan’s caravan, the Messenger of Allah consulted the people of Madinah. Sa‘d ibn ‘Ubadah رضي الله عنه stood and said: “O Messenger of Allah ! By the One in whose Hand is my soul, if you command us to drive our mounts into the sea, we will do so; and if you command us to strike the sides of our mounts until we reach Bark al-Ghimad, we will do so.”
Anas رضي الله عنه said: The Messenger of Allah then called the Companions and they set out until they camped at Badr. The Messenger of Allah said, “So-and-so will be killed here.” He placed his blessed hand on the ground indicating the spots. Anas رضي الله عنه reported that none of them fell except exactly at the places where the Messenger of Allah had indicated.
(Sahih Muslim)

Jabir رضي الله عنه reported:
During the digging of the trench on the day of Khandaq, we encountered a very hard rock. The Companions came to the Messenger of Allah and informed him. He descended and struck it with a pickaxe, and it crumbled like soft sand. The Messenger of Allah had tied a stone to his stomach due to severe hunger, and we had not eaten for three days.
Jabir رضي الله عنه said: I went to my wife and asked if she had anything to eat, for I had seen the Prophet in severe hunger. She brought out a measure of barley and we had a small lamb. I slaughtered it and she ground the barley and we cooked the meat in a pot. I then secretly invited the Messenger of Allah along with a few companions.
But the Messenger of Allah announced loudly: “O people of the trench! Jabir has prepared a meal for you; come quickly.” He instructed not to remove the pot or bake the bread until he arrived. He then placed his blessed saliva in the dough and the pot and supplicated for blessing. About one thousand people ate until they were satisfied, yet the food remained as it was, and the dough remained as it was being baked.
(Sahih al-Bukhari, Sahih Muslim)

‘Imran ibn Husayn رضي الله عنه reported:
During a journey with the Messenger of Allah , the people complained of severe thirst. The Prophet called a man and ‘Ali رضي الله عنه and sent them to search for water. They found a woman riding between two water skins and brought her to the Prophet . He poured some water from both skins into a vessel and announced for the people to take water according to their need. About forty thirsty men drank until they were fully satisfied and filled their containers. By Allah, when they returned, it seemed that the water skins were even fuller than before.
(Sahih al-Bukhari, Sahih Muslim)

May Allah grant us the ability to believe in, appreciate, and convey the authentic teachings and miracles of the Messenger of Allah . Ameen.