بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ایمان بالغیب اور نماز قائم کرنا
(قرآن وحدیث کی روشنی میں)
سورۃ البقرہ ۔ آیت نمبر (۳) کا لفظی ترجمہ ، بامحاورہ ترجمہ اور تفسیر
| الَّذِيْنَ | يُؤْمِنُوْنَ | بِالْغَيْبِ | وَيُقِيْمُوْنَ | الصَّلٰوةَ |
| جو لوگ | ایمان لاتے ہیں | غیب پر | اور قائم کرتے ہیں | نماز |
| وَمِمَّا | رَزَقْنٰهُمْ | يُنْفِقُوْنَ (۳) |
| اور جو | ہم نے انہیں دیا | وہ خرچ کرتے ہیں |
بامحاورہ ترجمہ :۔ وہ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
-
تفسیر :۔ آیت میں ”وَمِمَّا“ لکھا گیا ہے جس کے معنی ہیں ”اور جو کچھ ہم نے دیا“ اور صرف یہی نہیں کہ مال بلکہ ہر وہ چیز جو ہم نے انہیں دی ہے جیسے علم، وقت، عقل وغیرہ وغیرہ۔ حضرت عبداللہ و حضرت عباس رضوان اللہ علیہم کہتے ہیں کہ ایمان کے معنی ہیں تصدیق کرنا یعنی ان چیزوں کی تصدیق کرنا جو اللہ کے رسول ﷺ لے کر آئے۔
-
يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ :۔ ایمان امن سے ہے۔ ایمان کے اصل معنی امن دینے کے ہیں۔ اگر اس کو صلہ ’ب‘ کے ساتھ لایا جائے تو اس کے معنی تصدیق کرنے اور رب کے ساتھ آئے تو یقین و اعتماد کے ہوتے ہیں۔ اس لفظ کی حقیقی روح یقین، اعتماد اور اعتقاد پر ہے۔ جو یقین و ثبات، توکل اور اعتماد کی خصوصیات کے ساتھ پایا جائے اس کو ایمان کہتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ پر، اسکی آیات پر، اسکے احکام پر ایمان لانے اور اپنا سب کچھ اسکے حوالے کر کے اس کے فیصلوں پر پوری طرح راضی اور مطمئن ہو جانے کا نام ایمان ہے۔
یہ لفظ جب اپنے مفعول کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس سے خاص اسی چیز پر ایمان لانا مراد ہوتا ہے جس کا اسکے مفعول کی حیثیت سے ذکر ہوتا ہے لیکن اگر مفعول کے بغیر آئے تو اسکے تحت وہ ساری ہی چیزیں آجاتی ہیں جن پر ایمان لانے کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے یا جن پر شرعی دلیل بن سکتی ہے۔
ایمان بالغیب ضعیف الاعتقادی یا عقل انسانی کا جوہر:
ایمان بالغیب ضعیف الاعتقادی یا کسی وہم کا ثبوت نہیں قرار پاتا مگر یہ عقل انسانی کی اعلیٰ ترین سطح پر ہونے کا ثبوت فراہم کر رہا ہے اور قرآن نے اس پہلو سے اس چیز کا یہاں ذکر بھی کیا ہے۔ ایک تو وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی تمام تگ و دو بس محسوسات تک ہی محدود ہوتی ہے، اس سے آگے کیلئے نہ ان کے اندر کوئی رغبت ہی ہوتی ہے اور نہ وہ اس سے آگے جانے کی کوئی کوشش ہی کرتے ہیں۔ وہ اپنی عقل کو بھی، جو بلند پروازی کی فطری صلاحیتیں رکھتی ہے، اور جس کا اصلی میدان محسوسات نہیں بلکہ ماورا ئے محسوسات ہے، انہی محسوسات کے اندر قید کر چھوڑتے ہیں کہ اس کو جتنا زور لگانا ہو انہی کے اندر لگائے، اس سے باہر نکلنے کا وہ بالکل ہرگز اور کوئی خیال کرتے ہیں۔
دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے نزدیک حقیقی قدر و قیمت محسوسات و مادیات کی نہیں بلکہ عقل اور اس کے ادراکات کی ہے اور عقل ہی کو اس بات کا خاصہ اور اس کا جوہر سمجھتے ہیں اسی چیز کو وہ انسان اور حیوان کے درمیان فرق کرنے والی مانتے ہیں اور ان کے دل کی تسلی و خوشی محسوسات کی فانی لذتوں میں نہیں بلکہ عقل کی ان روحانی فتوحات ہی میں ہوتی ہے جو اس کی بلند پروازیوں کا ساتھ دے سکتا ہے۔ قرآن نے اسی گروہ کی طرف یہاں يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ کے الفاظ سے اشارہ کیا ہے اس لئے کہ اسی گروہ کی اس بلند پروازی کو وہم پرستی سے تشبیہ دی ہے۔ پہلے گروہ کو تو اس نے چوپایوں سے تشبیہ دی ہے بلکہ ان کو چوپایوں سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔ فرمایا ”کیا تم گمان کرتے ہو کہ ان میں سے اکثر سنتے اور سمجھتے ہیں، یہ تو بالکل چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے“۔ (الفرقان۔ ۴۴) جب وہ اپنی عقل جیسی اعلیٰ چیز کو بھی محسوسات ہی کی چاکری میں لگائے ہوئے ہیں تو ان کو سننا سننا ہے اور نہ ان کا سمجھنا سمجھنا ہے۔ یہ تو وہ بے وقوف لوگ ہیں جو ایک انمول جوہر کو ادنیٰ کاموں کے لئے استعمال کر کے اس کو ضائع کر رہے ہیں۔
پس غیب پر درپردہ ایمان لانے کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ وہ محض محسوسات کے ڈرامہ پر رویت کے پرستار نہیں ہیں بلکہ وہ عقل کی رہنمائی میں چلتے ہیں اور اللہ کے احکام کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے اپنی جن محسوس اور مادی راحتوں اور لذتوں کو قربان کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ان کو بے دریغ قربان کر دیتے ہیں۔
ایمان بالغیب کے متعلق چند بہت ہی ایمان افروز اور وجد آفریں احادیث :۔
”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اسکو تو ایک بار مبارکباد اور جس شخص نے مجھے نہیں دیکھا اور پھر مجھ پر ایمان لایا اسکو بار بار مبارکباد“ (مسند احمد)۔ ”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے تمنا ہے میں اپنے بھائیوں سے ملتا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ۔ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم تو میرے صحابہ ہو اور میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائیں گے ۔“ (مسند احمد)
وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ : نماز کا قیام :
اقامت کے معنی کسی چیز کو کھڑے کرنے، اس طرح سیدھے کرنے کے ہیں کہ اس میں کوئی کجی نہ رہے۔ فرمایا ’دنیا کو سیدھا کرو‘۔ تو اس کا مطلب ہے کہ وہ سیدھی ہو۔ قرآن نے نماز کیلئے اقام کا لفظ استعمال کر کے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
پہلی چیز جس کی طرف یہ لفظ متوجہ کرتا ہے وہ نماز میں اخلاص ہے، یعنی نماز صرف اللہ کی کیلئے پڑھی جائے کسی اور کو اس میں شریک نہ کیا جائے۔ اس کے اندر جو سیدھے کھڑے ہونے کا صلہ ہے، یہ اس کا تقاضا اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک یہ پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ ہی کیلئے نہ پڑھی جائے۔ دوسرے مقام پر یہ حقیقت واضح لفظوں میں بیان بھی کر دی ہے ”اور کہیے کہ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور یہ کہ تم ہر مسجد میں اپنی توجہ کو درست رکھا کرو اور اس کی خالص بندگی کرو“ (الاعراف۔ ۲۹) دوسری چیز جس کی طرف یہ لفظ اشارہ کرتا ہے وہ نماز کے اصل مقصد کو پورا کرنا ہے۔ نماز کا اصل مقصد تو ذکر الٰہی میں خشوع و خضوع ہے۔ اگر آدمی اس چیز سے غافل ہو کر نماز پڑھے تو یہ نماز کا قیام نہیں بلکہ اس کو بگاڑنا ہے۔ اس حقیقت کی طرف بھی قرآن نے بعض مقامات کی طرف توجہ دلائی ہے۔ مثلاً ”اور نماز کو میرے ذکر کیلئے قائم کرو“ (طٰہ۔ ۱۴) دوسری جگہ فرمایا ”ان مومنوں نے فلاح پائی جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع سے کام کرتے ہیں“ (المومنون۔ ۱، ۲) تیسری چیز یہ ہے کہ نماز، بغیر کسی کمی بیشی کے اس طریقہ کے مطابق ادا کی جائے جس طریقہ پر اللہ تعالیٰ نے اس کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ چوتھی چیز پابندی ہے، جب تم امن میں ہو جاؤ تو اس طریقہ پر اللہ کو یاد کرو جو طریقہ اس نے تم کو سکھایا ہے“۔ (البقرہ۔ ۲۳۹)
نماز کی صفوں کا ٹھیک کرنا اور ارکان نماز کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ اس وجہ سے حدیث میں آیا کہ ”صفوں کو برابر کرنا بھی اقامت صلوٰۃ کا ایک جزو ہے“۔ چوتھی چیز یہ ہے کہ نماز کی پوری پوری پابندی ہے۔ فرمایا ہے ”نماز پڑھو (جس طرح امن کی حالت میں پڑھتے ہو) کہ بے شک نماز کو مومنوں پر اوقاتِ (مقررہ) میں ادا کرنا فرض ہے“۔ (النساء۔ ۱۰۳) اسی چیز کو دوسرے مقامات میں نمازوں کی نگرانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یا پھر یہ کہ نماز قائم کرنا یہ ہے کہ اس کا اثر اور غلبہ (برائیوں سے بچانا) ظاہر ہوتا رہے۔ (المعارج۔ ۲۳)۔
اقامۃ صلوٰۃ کی حقیقت:
صلوٰۃ کا لفظ اصل لغت میں کسی شے کی طرف متوجہ ہونے کیلئے آیا ہے۔ پھر یہیں سے یہ لفظ رجوع کے معنی میں اور پھر تعظیم و تضرع اور دعا کے معنوں میں استعمال ہوا۔ قرآن میں یہ لفظ اپنے ان سبھی معنوں میں استعمال ہوا ہے جس کی وضاحت قرآن نے بھی کر دی ہے اور سنت نے بھی اس کی پوری پوری وضاحت کی ہے۔
وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ :
یہ جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے، یہ ان کا اپنا پیدا کیا ہوا نہیں ہے بلکہ ہمارا دیا ہوا ہے، بہتر یہ ہے کہ جو ہم نے دیا ہے اس کو ہماری راہ میں لگاؤ۔ اور پھر فرمایا کہ ہم نے دیا ہے بہتر یہی ہے کہ ہماری راہ میں خرچ کرو۔ اپنی زندگی میں اسے اللہ کی راہ میں لگاؤ۔ جب آپ اپنی وقت، محنت، مال کو کسی کی بھلائی میں خرچ کر رہے ہیں گویا آپ اسے اللہ کی راہ میں لگا رہے ہیں۔ وہ بتاتا ہے کہ یہ تمہارا پیدا کیا ہوا تو ہے ہی نہیں یہ تو ہم نے دیا ہے۔ وہ جو ہم نے تم کو دیا ہے اسے خرچ کرو جہاں تم کو خرچ کرنے کے لئے ہم نے کہا ہے۔ یہ ایک مکمل نظام عمل بن رہا ہے۔