ایمان بالغیب اور نماز قائم کرنا

اشاعت: 11-03-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
Iman bil Ghaib meaning - Namaz qayam aur Allah ki raah mein kharch, Surah Al-Baqarah 2:3

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ایمان بالغیب اور نماز قائم کرنا

(قرآن وحدیث کی روشنی میں)

سورۃ البقرہ ۔ آیت نمبر (۳) کا لفظی ترجمہ ، بامحاورہ ترجمہ اور تفسیر

الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ
جو لوگ ایمان لاتے ہیں غیب پر اور قائم کرتے ہیں نماز
وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ (۳)
اور جو ہم نے انہیں دیا وہ خرچ کرتے ہیں

بامحاورہ ترجمہ :۔ وہ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

  1. تفسیر :۔ آیت میں ”وَمِمَّا“ لکھا گیا ہے جس کے معنی ہیں ”اور جو کچھ ہم نے دیا“ اور صرف یہی نہیں کہ مال بلکہ ہر وہ چیز جو ہم نے انہیں دی ہے جیسے علم، وقت، عقل وغیرہ وغیرہ۔ حضرت عبداللہ و حضرت عباس رضوان اللہ علیہم کہتے ہیں کہ ایمان کے معنی ہیں تصدیق کرنا یعنی ان چیزوں کی تصدیق کرنا جو اللہ کے رسول لے کر آئے۔

  2. يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ ایمان امن سے ہے۔ ایمان کے اصل معنی امن دینے کے ہیں۔ اگر اس کو صلہ ’ب‘ کے ساتھ لایا جائے تو اس کے معنی تصدیق کرنے اور رب کے ساتھ آئے تو یقین و اعتماد کے ہوتے ہیں۔ اس لفظ کی حقیقی روح یقین، اعتماد اور اعتقاد پر ہے۔ جو یقین و ثبات، توکل اور اعتماد کی خصوصیات کے ساتھ پایا جائے اس کو ایمان کہتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ پر، اسکی آیات پر، اسکے احکام پر ایمان لانے اور اپنا سب کچھ اسکے حوالے کر کے اس کے فیصلوں پر پوری طرح راضی اور مطمئن ہو جانے کا نام ایمان ہے۔

یہ لفظ جب اپنے مفعول کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس سے خاص اسی چیز پر ایمان لانا مراد ہوتا ہے جس کا اسکے مفعول کی حیثیت سے ذکر ہوتا ہے لیکن اگر مفعول کے بغیر آئے تو اسکے تحت وہ ساری ہی چیزیں آجاتی ہیں جن پر ایمان لانے کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے یا جن پر شرعی دلیل بن سکتی ہے۔

ایمان بالغیب ضعیف الاعتقادی یا عقل انسانی کا جوہر:

ایمان بالغیب ضعیف الاعتقادی یا کسی وہم کا ثبوت نہیں قرار پاتا مگر یہ عقل انسانی کی اعلیٰ ترین سطح پر ہونے کا ثبوت فراہم کر رہا ہے اور قرآن نے اس پہلو سے اس چیز کا یہاں ذکر بھی کیا ہے۔ ایک تو وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی تمام تگ و دو بس محسوسات تک ہی محدود ہوتی ہے، اس سے آگے کیلئے نہ ان کے اندر کوئی رغبت ہی ہوتی ہے اور نہ وہ اس سے آگے جانے کی کوئی کوشش ہی کرتے ہیں۔ وہ اپنی عقل کو بھی، جو بلند پروازی کی فطری صلاحیتیں رکھتی ہے، اور جس کا اصلی میدان محسوسات نہیں بلکہ ماورا ئے محسوسات ہے، انہی محسوسات کے اندر قید کر چھوڑتے ہیں کہ اس کو جتنا زور لگانا ہو انہی کے اندر لگائے، اس سے باہر نکلنے کا وہ بالکل ہرگز اور کوئی خیال کرتے ہیں۔

دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے نزدیک حقیقی قدر و قیمت محسوسات و مادیات کی نہیں بلکہ عقل اور اس کے ادراکات کی ہے اور عقل ہی کو اس بات کا خاصہ اور اس کا جوہر سمجھتے ہیں اسی چیز کو وہ انسان اور حیوان کے درمیان فرق کرنے والی مانتے ہیں اور ان کے دل کی تسلی و خوشی محسوسات کی فانی لذتوں میں نہیں بلکہ عقل کی ان روحانی فتوحات ہی میں ہوتی ہے جو اس کی بلند پروازیوں کا ساتھ دے سکتا ہے۔ قرآن نے اسی گروہ کی طرف یہاں يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ کے الفاظ سے اشارہ کیا ہے اس لئے کہ اسی گروہ کی اس بلند پروازی کو وہم پرستی سے تشبیہ دی ہے۔ پہلے گروہ کو تو اس نے چوپایوں سے تشبیہ دی ہے بلکہ ان کو چوپایوں سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔ فرمایا ”کیا تم گمان کرتے ہو کہ ان میں سے اکثر سنتے اور سمجھتے ہیں، یہ تو بالکل چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے“۔ (الفرقان۔ ۴۴) جب وہ اپنی عقل جیسی اعلیٰ چیز کو بھی محسوسات ہی کی چاکری میں لگائے ہوئے ہیں تو ان کو سننا سننا ہے اور نہ ان کا سمجھنا سمجھنا ہے۔ یہ تو وہ بے وقوف لوگ ہیں جو ایک انمول جوہر کو ادنیٰ کاموں کے لئے استعمال کر کے اس کو ضائع کر رہے ہیں۔

پس غیب پر درپردہ ایمان لانے کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ وہ محض محسوسات کے ڈرامہ پر رویت کے پرستار نہیں ہیں بلکہ وہ عقل کی رہنمائی میں چلتے ہیں اور اللہ کے احکام کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے اپنی جن محسوس اور مادی راحتوں اور لذتوں کو قربان کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ان کو بے دریغ قربان کر دیتے ہیں۔

ایمان بالغیب کے متعلق چند بہت ہی ایمان افروز اور وجد آفریں احادیث :۔

”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جس شخص نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اسکو تو ایک بار مبارکباد اور جس شخص نے مجھے نہیں دیکھا اور پھر مجھ پر ایمان لایا اسکو بار بار مبارکباد“ (مسند احمد)۔ ”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: مجھے تمنا ہے میں اپنے بھائیوں سے ملتا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ۔ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: تم تو میرے صحابہ ہو اور میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائیں گے ۔“ (مسند احمد)

وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ : نماز کا قیام :

اقامت کے معنی کسی چیز کو کھڑے کرنے، اس طرح سیدھے کرنے کے ہیں کہ اس میں کوئی کجی نہ رہے۔ فرمایا ’دنیا کو سیدھا کرو‘۔ تو اس کا مطلب ہے کہ وہ سیدھی ہو۔ قرآن نے نماز کیلئے اقام کا لفظ استعمال کر کے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔

پہلی چیز جس کی طرف یہ لفظ متوجہ کرتا ہے وہ نماز میں اخلاص ہے، یعنی نماز صرف اللہ کی کیلئے پڑھی جائے کسی اور کو اس میں شریک نہ کیا جائے۔ اس کے اندر جو سیدھے کھڑے ہونے کا صلہ ہے، یہ اس کا تقاضا اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک یہ پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ ہی کیلئے نہ پڑھی جائے۔ دوسرے مقام پر یہ حقیقت واضح لفظوں میں بیان بھی کر دی ہے ”اور کہیے کہ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور یہ کہ تم ہر مسجد میں اپنی توجہ کو درست رکھا کرو اور اس کی خالص بندگی کرو“ (الاعراف۔ ۲۹) دوسری چیز جس کی طرف یہ لفظ اشارہ کرتا ہے وہ نماز کے اصل مقصد کو پورا کرنا ہے۔ نماز کا اصل مقصد تو ذکر الٰہی میں خشوع و خضوع ہے۔ اگر آدمی اس چیز سے غافل ہو کر نماز پڑھے تو یہ نماز کا قیام نہیں بلکہ اس کو بگاڑنا ہے۔ اس حقیقت کی طرف بھی قرآن نے بعض مقامات کی طرف توجہ دلائی ہے۔ مثلاً ”اور نماز کو میرے ذکر کیلئے قائم کرو“ (طٰہ۔ ۱۴) دوسری جگہ فرمایا ”ان مومنوں نے فلاح پائی جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع سے کام کرتے ہیں“ (المومنون۔ ۱، ۲) تیسری چیز یہ ہے کہ نماز، بغیر کسی کمی بیشی کے اس طریقہ کے مطابق ادا کی جائے جس طریقہ پر اللہ تعالیٰ نے اس کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ چوتھی چیز پابندی ہے، جب تم امن میں ہو جاؤ تو اس طریقہ پر اللہ کو یاد کرو جو طریقہ اس نے تم کو سکھایا ہے“۔ (البقرہ۔ ۲۳۹)

نماز کی صفوں کا ٹھیک کرنا اور ارکان نماز کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ اس وجہ سے حدیث میں آیا کہ ”صفوں کو برابر کرنا بھی اقامت صلوٰۃ کا ایک جزو ہے“۔ چوتھی چیز یہ ہے کہ نماز کی پوری پوری پابندی ہے۔ فرمایا ہے ”نماز پڑھو (جس طرح امن کی حالت میں پڑھتے ہو) کہ بے شک نماز کو مومنوں پر اوقاتِ (مقررہ) میں ادا کرنا فرض ہے“۔ (النساء۔ ۱۰۳) اسی چیز کو دوسرے مقامات میں نمازوں کی نگرانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یا پھر یہ کہ نماز قائم کرنا یہ ہے کہ اس کا اثر اور غلبہ (برائیوں سے بچانا) ظاہر ہوتا رہے۔ (المعارج۔ ۲۳)۔

اقامۃ صلوٰۃ کی حقیقت:

صلوٰۃ کا لفظ اصل لغت میں کسی شے کی طرف متوجہ ہونے کیلئے آیا ہے۔ پھر یہیں سے یہ لفظ رجوع کے معنی میں اور پھر تعظیم و تضرع اور دعا کے معنوں میں استعمال ہوا۔ قرآن میں یہ لفظ اپنے ان سبھی معنوں میں استعمال ہوا ہے جس کی وضاحت قرآن نے بھی کر دی ہے اور سنت نے بھی اس کی پوری پوری وضاحت کی ہے۔

وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ :

یہ جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے، یہ ان کا اپنا پیدا کیا ہوا نہیں ہے بلکہ ہمارا دیا ہوا ہے، بہتر یہ ہے کہ جو ہم نے دیا ہے اس کو ہماری راہ میں لگاؤ۔ اور پھر فرمایا کہ ہم نے دیا ہے بہتر یہی ہے کہ ہماری راہ میں خرچ کرو۔ اپنی زندگی میں اسے اللہ کی راہ میں لگاؤ۔ جب آپ اپنی وقت، محنت، مال کو کسی کی بھلائی میں خرچ کر رہے ہیں گویا آپ اسے اللہ کی راہ میں لگا رہے ہیں۔ وہ بتاتا ہے کہ یہ تمہارا پیدا کیا ہوا تو ہے ہی نہیں یہ تو ہم نے دیا ہے۔ وہ جو ہم نے تم کو دیا ہے اسے خرچ کرو جہاں تم کو خرچ کرنے کے لئے ہم نے کہا ہے۔ یہ ایک مکمل نظام عمل بن رہا ہے۔

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Faith in the Unseen and Establishing Prayer

(In the Light of the Qur’an and Hadith)

Translation of Sūrah al-Baqarah (Verse 3)

Arabic:
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ
وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ

Transliteration:
Alladhīna yuʾminūna bil-ghaybi wa yuqīmūna al-ṣalāh
Wa mimmā razaqnāhum yunfiqūn

Literal Translation:

Those who | believe | in the unseen | and establish | the prayer
And from what | We provided them | they spend

Idiomatic Translation:

“Those who believe in the unseen, establish prayer, and spend out of what We have provided them.” (Al-Baqarah 3)

The Meaning of Spending from What Allah Has Provided

The verse states “from what We have provided them.” This wording indicates that spending is not limited to wealth alone. Rather, it includes everything that Allah has granted to a person—such as knowledge, time, intellect, ability, and resources.

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās (may Allah be pleased with him) explained that faith (īmān) means affirmation and acceptance of the truths brought by the Messenger of Allah .

Belief in the Unseen (Īmān bil-Ghayb)

The word īmān is derived from a root meaning security and assurance. In its essential sense it conveys certainty, trust, and conviction. When a person possesses certainty accompanied by steadfastness, reliance, and trust, this state is called īmān.

Thus, believing in Allah, His signs, and His commands—and entrusting one’s affairs to Him while being fully content with His decrees—is the essence of faith.

When the term īmān appears with an object, it refers specifically to belief in the matter mentioned. When it appears without specification, it includes all the matters that the Qur’an and Islamic law require believers to accept.

Faith in the Unseen and the Excellence of Human Intellect

Belief in the unseen is not a sign of weak conviction or irrational imagination. Rather, it represents the highest functioning of the human intellect.

Some people restrict all their effort and understanding to what is physically perceptible. They have neither the desire nor the inclination to look beyond sensory experience. Although the human intellect possesses the natural capacity to explore realities beyond the visible world, such individuals confine it entirely within the boundaries of physical perception.

Another group of people, however, recognizes that the true worth of the human being lies not merely in material perception but in the intellect and its higher understanding. They regard the intellect as the defining distinction between human beings and animals. Their satisfaction and fulfillment lie not in fleeting sensory pleasures but in the intellectual and spiritual discoveries that transcend material reality.

The Qur’an refers to this second group with the expression “those who believe in the unseen.” Their belief does not arise from superstition but from a higher awareness guided by reason and revelation.

Regarding those who confine themselves only to sensory perception, the Qur’an describes them as resembling animals, or even more misguided:

“Do you think that most of them hear or understand? They are only like cattle; rather, they are even more astray.” (Al-Furqān 44)

Thus, belief in the unseen means that a person does not become enslaved to the visible world alone. Instead, he follows the guidance of intellect and revelation, and when necessary he sacrifices material comforts and pleasures in order to fulfill the commands of Allah.

Inspiring Hadith about Belief in the Unseen

Anas ibn Mālik (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah said:

“Blessed is the one who saw me and believed in me. And blessed many times over is the one who did not see me yet believed in me.” (Musnad Aḥmad)

In another narration, Anas ibn Mālik reported that the Messenger of Allah said:

“I wish that I could meet my brothers.”
The Companions said, “Are we not your brothers?”
He replied, “You are my companions. My brothers are those who will believe in me without having seen me.”
(Musnad Aḥmad)

Establishing the Prayer (Iqāmat al-Ṣalāh)

The Qur’an uses the expression “establishing the prayer” rather than merely “performing prayer.” The word iqāmah literally means to set something upright and maintain it properly so that no distortion remains.

This expression highlights several essential aspects of prayer.

The first aspect is sincerity. Prayer must be offered purely for Allah alone, without associating any partner with Him. Only when prayer is performed with complete devotion and focus upon Allah can it truly be considered established.

The Qur’an states:

“Say: My Lord has commanded justice, and that you direct yourselves toward Him at every place of worship and worship Him sincerely.” (Al-Aʿrāf 29)

The second aspect is fulfilling the true purpose of prayer. The fundamental purpose of prayer is remembrance of Allah with humility and devotion. If a person performs prayer while neglecting this purpose, the prayer loses its true meaning.

Allah says:

“Establish prayer for My remembrance.” (Ṭā Hā 14)

And He says:

“Successful indeed are the believers—those who are humble in their prayers.” (Al-Muʾminūn 1–2)

The third aspect is performing the prayer according to the method prescribed by Allah. This includes observing its pillars, conditions, and proper form.

The fourth aspect is consistency and regularity in observing prayer. Allah says:

“Indeed, prayer has been prescribed upon the believers at fixed times.” (Al-Nisāʾ 103)

Maintaining orderly rows and performing each component of prayer properly are also part of establishing prayer. The Prophet said:

“Straightening the rows is part of establishing prayer.”

Thus, establishing prayer includes sincerity, humility, correct performance, and regular observance.

The Meaning of Spending from What Allah Has Provided

The verse concludes with the statement:

“And from what We have provided them they spend.”

This reminds believers that whatever they possess is not truly self-created wealth but provision granted by Allah. Therefore, it should be used in the way He commands.

Spending in the path of Allah includes charity, helping others, supporting good causes, and using one’s resources, time, effort, and abilities for the welfare of others.

When a person dedicates his wealth, time, or effort for the benefit of others in accordance with Allah’s guidance, he is in reality spending in the path of Allah.

In this way, the verse establishes a comprehensive system of faith and action: belief in the unseen, devotion through prayer, and generosity through spending from the provisions granted by Allah.