بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
موت کی آرزو (احادیث کی روشنی میں)
موت کی آرزو کرنا نا جائز ہے :-
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :- کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے اگر کوئی نیک آدمی ہے تو اپنی نیکیوں میں اضافہ کرے گا اور اگر گناہ گار ہے تو ممکن ہے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے“۔ (صحیح بخاری)
شدید تکلیف میں موت کی آرزو کرنے کا طریقہ :-
-
”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :- تم میں سے کوئی بھی آدمی تکلیف یا مصیبت کی وجہ سے موت کی آرزو نہ کرے اور اگر اس کے بغیر چارہ نظر نہ آئے تو یوں کہنا چاہئے یا اللہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرے زندہ رہنے میں بھلائی ہے اور مجھے اس وقت وفات دے جب وفات میں میرے لئے بھلائی ہو “۔ (صحیح بخاری)
شہادت کی موت کیلئے آرزو اور دعا کرنا مسنون ہے :-
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :- اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر (اللہ کی راہ) میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر (اللہ کی راہ) میں قتل کیا جاؤں “ ۔ (صحیح بخاری)
یہ دُنیا فقط ایک سرائے ہے، جس میں ہر مسافر کم یا زیادہ وقت کیلئے رکتا ہے اور پھر اگلے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔ سرائے میں چند گھنٹوں کے لئے ستانے والا مسافر کبھی وہاں زمین خریدنے یا مکان بنانے یا کاروبار چلانے کی فکر نہیں کرتا، اُس پر تو منزل کی فکر غالب رہتی ہے، وہ گردو پیش سے بے نیاز چند گھنٹے گزارتا ہے اور چلتا بنتا ہے۔ یہ چند گھنٹوں کی زندگی انسان کیلئے کس قدر پُر فریب ہے۔ ماہ و سال گزرتے ہیں تو انسان خوش ہوتا ہے کہ میں جوان ہو رہا ہوں حالانکہ ہر گزرنے والا لمحہ اسے اس کی منزل اسکی موت کے قریب کر رہا ہوتا ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے دنیا اور آخرت کا فرق کتنے خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے :-
-
”آج عمل کا دن ہے حساب کا نہیں اور کل حساب کا دن ہو گا عمل کا نہیں “ ۔ (صحیح بخاری)
تو دوستو! عمل تو ہم سب بھی کر رہے ہیں، محنت تو ہم سب بھی کر رہے ہیں، لیکن اس چند روزہ زندگی کیلئے، چلیں ٹھیک ہے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہاں چند سالوں کیلئے اتنی محنت کے بغیر گذارا نہیں تو پھر لا محدود زندگی کیلئے بھی اُس کے حساب سے محنت کریں کیا یہ انصاف کا تقاضا نہیں؟ لیکن افسوس صد افسوس! کہ ہم اپنے آپ کو دھوکے میں رکھ رہے ہیں۔
غالباً حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں ایک عورت کا بچہ فوت ہو گیا، اب بچے کی عمر بھی سو سال کے قریب تھی تو اُس عورت کے رونے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک اُمت آئے گی کہ اُن لوگوں کی ساری عمر بھی ساٹھ، ستر کے قریب ہو گی تو وہ عورت حیرت سے پوچھنے لگی، کیا وہ لوگ رہنے کیلئے گھر بنائیں گے؟ پھر بولی اے موسیٰ علیہ السلام اگر میری عمر اتنی ہوتی تو اللہ کی قسم میں تو یہ زندگی ایک سجدے میں گزار دیتی۔ اگلی سلائیڈ جان نکلنے کے متعلق ہوگی۔