بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حسن خاتمہ کی علامات (۱) (احادیث کی روشنی میں)
حضور اکرم ﷺ نے اچھی اور عمدہ خاتمے کی نشانیاں واضح طور پر بتا دی ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی نصیب فرمائے آمین۔ اگر مرنے والے میں ایک بھی نشانی پائی جائے تو یہ خوشخبری سے کم نہیں۔ اے کاش یہ خوشخبری ہمارے حصے میں بھی آجائے۔
۱- آخری سانسوں کے ساتھ کلمے کی ادائیگی :-
-
”حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ :- جس شخص کا آخری کلام لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللہ ہو وہ جنت میں جائے گا “۔ (سنن ابو دائود)
۲- موت کے وقت پیشانی پر پسینہ آنا :-
-
”حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :- مومن فوت ہوتا ہے تو اس کی پیشانی عرق آلود ہوتی ہے“۔ (جامع ترمذی ، سنن نسائی ، سنن ابن ماجہ)
۳- جمعہ کی رات یا جمعہ کی دن موت آنا :-
-
”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :- جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات فوت ہوا اللہ تعالیٰ اسے قبر کے فتنے سے بچا لے گا“۔ (جامع ترمذی)
۴- میدان جہاد میں شہادت پانا :-
-
”رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ کے ہاں شہید کی چھ خصوصیتیں ہیں :- (۱) پہلا قطرہ گرتے ہی بخشش ہو جاتی ہے ۔ (۲) جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھ لیتا ہے اور عذاب قبر سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ (۳) قیامت کی گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا۔ (۴) زیور ایمان سے آراستہ کر دیا جاتا ہے۔ (۵) خوبصورت آنکھوں والی حوروں سے نکاح ہو گا۔ (۶) ستر قریبی رشتہ داروں کے حق میں اسکی سفارش قبول ہو گی“۔ (جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ)
۵- فی سبیل اللہ مجاہد کی موت :-
-
”رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم کسے شہید شمار کرتے ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے قتل ہو جائے وہ شہید ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا :- تب تو میری امت کے شہدا کی تعداد کم رہے گی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تفصیل پوچھتے ہوئے عرض کیا :- کن کن لوگوں کا شمار شہداء میں ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :- جو راہ جہاد میں قتل ہوا وہ شہید ہے، جو اللہ کی راہ میں مر گیا وہ بھی شہید ہے، جو طاعون کی بیماری سے مرا وہ بھی شہید ہے، جو پیٹ کی بیماری سے مرا وہ بھی شہید ہے، اور غرق ہونے والا بھی شہید ہے“۔ (صحیح مسلم)
بقیہ کی تفصیل انشاء اللہ آئندہ سلائیڈ میں بیان کی جائے گی۔