بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
میت کے بارے میں اظہار خیال (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:۔ ایک جنازہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گزرا، اس کی تعریف ہوئی (بہت سارے صحابہ رضی اللہ عنہم نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے خیال میں وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت رکھتا تھا) رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: ’واجب ہوگئی‘۔ ایک دوسرا جنازہ گزرا، اس کے متعلق سخت الفاظ میں رائے بیان ہوئی۔ (بہت سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ وہ دین کے معاملے میں بُرا آدمی تھا) رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا: ’واجب ہوگئی‘۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے ماں باپ قربان، ایک جنازہ گزرا اس کی تعریف ہوئی، آپ ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی، دوسرا جنازہ گزرا جس کے متعلق رائے درشت الفاظ میں بیان ہوئی تو بھی آپ ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی؟۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کی تم نے تعریف کی اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جسے تم نے سخت الفاظ سے یاد کیا اس کے لئے آگ واجب ہوگئی۔ مزید فرمایا (فرشتے آسمانوں میں اللہ کے گواہ ہیں اور) تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو“۔ (صحیح مسلم)
جو لوگ مر گئے اُن کو بُرا نہ کہو :-
-
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ جو لوگ مر گئے ان کو بُرا نہ کہو، کیونکہ انہوں نے جیسے عمل کئے تھے ویسا بدلہ پا چکے “ ۔ (صحیح بخاری)
مومن زمین میں اللہ کے گواہ ہیں :-
-
”حضرت ابوالاسود الدیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:۔ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا اور وہاں ایک وبائی مرض تھا جس سے بہت لوگ مر رہے تھے۔ میں حضرت عمر بن عبدالخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ گیا، ایک جنازہ گزرا، لوگوں نے اس کی تعریف کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واجب ہوگئی۔ میں نے دریافت کیا: اے امیر المومنین ! کیا واجب ہوگئی؟ انہوں نے فرمایا میں نے بھی اس طرح کہا ہے جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا:۔ جس مسلمان کے حق میں چار مسلمان بھلائی کی گواہی دے دیں اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا۔ میں نے پوچھا اور تین کا کیا حکم ہے؟ آپ نے کہا ہاں تین آدمیوں کی گواہی بھی معتبر ہے۔ ہم نے پوچھا اگر دو گواہی دیں تو؟ آپ نے فرمایا ہاں دو کی گواہی بھی معتبر ہے۔ پھر ہم نے ایک کے بارے میں نہیں پوچھا “۔ (صحیح بخاری)
کم از کم دو سچے صاحبان علم و تقویٰ کی کسی میت کے متعلق اچھی رائے اس کیلئے موجب جنت ہے، بشرطیکہ وہ اس کے پڑوسی اور جاننے والے ہوں۔ اگر پڑوسی نہیں بھی تو کم از کم میت کو اچھی طرح جاننے والے ضرور ہوں۔