بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
میت پر چیخنا، چلانا، نوحہ کرنا (۱) (احادیث کی روشنی میں)
نوحہ پر لعنت :-
-
”حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نوحہ کرنے والی اور برضا نوحہ سننے والی عورت پر لعنت کی ہے “۔ (سنن ابو دائود)
نوحہ سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے :-
-
”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کچھ بیمار ہوئے تو آنحضرت ﷺ عیادت کیلئے تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ کے ہمراہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم تھے ۔ جب آپ ﷺ ان کے پاس پہنچے تو انہیں غشی میں پایا۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیا انتقال ہو گیا ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ نہیں۔ آنحضرت ﷺ اشکبار ہو گئے۔ جب لوگوں نے آنحضرت ﷺ کو روتے دیکھا تو وہ بھی رونے لگے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ عذاب نہیں دیتا، آنکھوں کے آنسوں اور دل کے غم کے سبب۔ ہاں اللہ تعالیٰ عذاب دیتا ہے یا رحمت فرماتا ہے اس کے سبب (زبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا)۔ اور میت کو اس کے اعزاء کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے “ ۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
نوحہ کرنے والے گریبان پھاڑنے والے ہم میں سے نہیں :-
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بے ہوش ہو گئے۔ ان کی بیوی اُم عبداللہ آئی وہ چیخ چیخ کر رونے لگی کچھ عرصے بعد وہ ہوش میں آگئے۔ انہوں نے کہا تجھے معلوم نہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ میں اس شخص سے برات (بری ہوں) کا اظہار کرتا ہوں، جو (مصیبت کے وقت) سر منڈواتا ہے، چیختا چلاتا ہے اور کپڑے پھاڑتا ہے “ ۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
نوحہ کرنے والی کی سزا :-
-
”حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ نوحہ گر عورت اگر وفات سے پہلے توبہ نہ کرے گی تو قیامت کے دن اسکو کھڑا کیا جائے گا اس کا لباس کھجلی کی وجہ سے گندھک کا ہوگا “۔ (صحیح مسلم)
نوحہ شیطان کے داخلے کا سبب :-
-
”حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کے جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں نے دل میں کہا مسافر تھے، پردیس میں انتقال ہوا ہے۔ انہیں ایسا روؤں گی کہ لوگ یاد کیا کریں گے۔ میں نے ان پر رونے کی تیاری کی۔ ایک عورت میری مدد کیلئے آنے لگی۔ اسے آنحضرت ﷺ ملے اور آپ ﷺ نے فرمایا :۔ کیا اس گھر میں دوبارہ شیطان کو داخل کرنا چاہتی ہے، جہاں سے اللہ تعالیٰ نے دو بار نکالا ہے، پس میں رونے سے رک گئی اور نہ روئی “۔ (صحیح مسلم)