ایصال ثواب کے مسائل (۱)

اشاعت: 17-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
isaal e sawab mayyat ke liye dua roze aur qarz hadith

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ایصال ثواب کے مسائل (۱) (احادیث کی روشنی میں)

کسی مسلمان کا میت کے حق میں دُعا کرنا :-

  • ”رسول اللہ نے مُردوں کے حق میں خود دُعا فرمائی اور دوسروں کو بھی دُعا کا حکم دیتے ہوئے فرمایا :- ایک مسلمان جب اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کیلئے دُعا کرتا ہے تو وہ قبول ہوتی ہے۔ اس آدمی کے پاس ایک نگران فرشتہ ہوتا ہے۔ جب بھی آدمی اپنے بھائی کے حق میں دُعا کرتا ہے تو نگران فرشتہ آمین کہتا ہے (نیز کہتا ہے) کہ تجھے بھی ایسا ہی ملے“۔ (صحیح مسلم)

اسکے علاوہ نماز جنازہ کا بڑا حصہ اس بات کی دلیل ہے کیونکہ زیادہ تر حصے میں میت کے لئے دُعا اور استغفار ہوتا ہے۔

میت کے رشتہ دار کا میت کی طرف سے روزے کی قضا دینا :-

  • ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :- جو شخص فوت ہو جائے اور اس پر روزے رکھنے باقی ہوں، تو اس کا وارث روزے رکھے “۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، سنن ابو دائود)

اس سلسلے میں احادیث کی کچھ کتابوں میں ہے کہ صرف نذر والے روزے رکھے جا سکتے ہیں جبکہ کچھ کچھ کتابوں میں ہے کہ فرض روزے بھی رکھے جا سکتے ہیں۔ علامہ البانی نے کافی دلائل اور احادیث کی روشنی میں یہ بات ثابت کی ہے کہ صرف نذر یا منت والے روزے ہی رکھے جا سکتے ہیں فرض روزے نہیں رکھے جا سکتے۔ واللہ اعلم

  • ”ایک عورت نے سمندری سفر پر روانہ ہوتے ہوئے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے باسلامت پار لگا دیا تو ایک ماہ کے روزے رکھوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے تو باسلامت پار لگا دیا لیکن مرتے دم تک وہ روزے نہ رکھ سکی۔ اس کی کسی قریبی رشتے دار (بہن یا بیٹی) نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تیرا کیا خیال ہے۔ اگر اسکے ذمے قرض ہوتا تو تو اسے ادا کرتی یا نہیں؟ کہنے لگی ہاں کرتی۔ تو آپ نے فرمایا :- اللہ تعالیٰ کا قرض تو ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔ لہذا اپنی والدہ کے روزوں کو ادا کرو “۔ (سنن ابو دائود)

میت کی طرف سے قرض ادا کرے تو ہو جائے گا :-

  • ”حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری کا جنازہ لایا گیا تا کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں نبی اکرم نے فرمایا اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو، اس پر قرض ہے (لہذا میں نماز نہیں پڑھوں گا) حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا قرض میرے ذمے رہا۔ نبی اکرم نے فرمایا اپنا وعدہ وفا کرو گے؟ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا پورا کروں گا۔ تب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی“۔ (سنن نسائی)

میت کی طرف سے مانی ہوئی شرعی نذر اولاد پوری کر دے تو اسے ثواب ملے گا :-

  • ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ سے اپنی ماں کی نذر کے بارے میں سوال کیا جسے پورا کرنے سے پہلے وہ فوت ہو گئی تھی۔ آپ نے فرمایا اپنی ماں کی طرف سے تم (اپنی ماں کی نذر) پوری کرو“۔ (صحیح مسلم)

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Issues Related to Conveying Reward (Isāl-e-Thawāb) (1) (In the Light of Hadith)

Supplicating for the Deceased Muslim

“The Messenger of Allah himself supplicated for the deceased and also instructed others to supplicate, saying: When a Muslim makes du‘ā’ for his brother in his absence, it is accepted. An angel is appointed over him; whenever he supplicates for his brother, the angel says ‘Āmīn’ and (also says) ‘May you receive the same.’” (Sahih Muslim)

In addition, a major portion of the Janāzah (funeral) prayer serves as evidence of this, since most of it consists of du‘ā’ and istighfār (seeking forgiveness) for the deceased.

A Relative Making Up Missed Fasts on Behalf of the Deceased

“Sayyidah ‘Ā’ishah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah said: ‘Whoever dies while having missed fasts, his heir should fast on his behalf.’” (Sahih Bukhari, Sahih Muslim, Sunan Abu Dawud)

In this regard, some books of Hadith mention that only vowed (nadhr) fasts may be made up, while others state that obligatory fasts may also be made up. ‘Allāmah al-Albānī, on the basis of extensive evidences and Hadith, established that only vowed fasts may be made up, not obligatory fasts. والله أعلم

“A woman, before setting out on a sea journey, made a vow that if Allah granted her safe passage, she would fast for one month. Allah granted her safety, but she was unable to observe those fasts until her death. One of her close relatives (a sister or daughter) came to the Messenger of Allah and narrated the entire incident. He said: ‘What do you think—if she had a debt, would you repay it?’ She replied, ‘Yes.’ He said: ‘The debt owed to Allah has more right to be fulfilled. Therefore, complete your mother’s fasts on her behalf.’” (Sunan Abu Dawud)

Repaying the Debt of the Deceased

“Sayyiduna Abu Qatādah رضي الله عنه narrated that an Anṣārī man’s funeral was brought so that the Prophet might perform his Janāzah prayer. The Prophet said: ‘Pray over your companion yourselves; he has a debt (therefore I will not lead the prayer).’ Sayyiduna Abu Qatādah رضي الله عنه said: ‘The debt is upon me.’ The Prophet asked: ‘Will you fulfill your commitment?’ He replied: ‘I will fulfill it.’ Then the Prophet performed his Janāzah prayer.” (Sunan al-Nasā’ī)

Fulfilling a Lawful Vow Made by the Deceased

“Sayyiduna ‘Abdullah ibn ‘Abbās رضي الله عنه narrated that Sayyiduna Sa‘d ibn ‘Ubādah رضي الله عنه asked the Messenger of Allah regarding his mother’s vow, which she had died before fulfilling. The Prophet said: ‘Fulfill your mother’s vow on her behalf.’” (Sahih Muslim)