بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ایصال ثواب کے مسائل (۱) (احادیث کی روشنی میں)
کسی مسلمان کا میت کے حق میں دُعا کرنا :-
-
”رسول اللہ ﷺ نے مُردوں کے حق میں خود دُعا فرمائی اور دوسروں کو بھی دُعا کا حکم دیتے ہوئے فرمایا :- ایک مسلمان جب اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کیلئے دُعا کرتا ہے تو وہ قبول ہوتی ہے۔ اس آدمی کے پاس ایک نگران فرشتہ ہوتا ہے۔ جب بھی آدمی اپنے بھائی کے حق میں دُعا کرتا ہے تو نگران فرشتہ آمین کہتا ہے (نیز کہتا ہے) کہ تجھے بھی ایسا ہی ملے“۔ (صحیح مسلم)
اسکے علاوہ نماز جنازہ کا بڑا حصہ اس بات کی دلیل ہے کیونکہ زیادہ تر حصے میں میت کے لئے دُعا اور استغفار ہوتا ہے۔
میت کے رشتہ دار کا میت کی طرف سے روزے کی قضا دینا :-
-
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :- جو شخص فوت ہو جائے اور اس پر روزے رکھنے باقی ہوں، تو اس کا وارث روزے رکھے “۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، سنن ابو دائود)
اس سلسلے میں احادیث کی کچھ کتابوں میں ہے کہ صرف نذر والے روزے رکھے جا سکتے ہیں جبکہ کچھ کچھ کتابوں میں ہے کہ فرض روزے بھی رکھے جا سکتے ہیں۔ علامہ البانی نے کافی دلائل اور احادیث کی روشنی میں یہ بات ثابت کی ہے کہ صرف نذر یا منت والے روزے ہی رکھے جا سکتے ہیں فرض روزے نہیں رکھے جا سکتے۔ واللہ اعلم
-
”ایک عورت نے سمندری سفر پر روانہ ہوتے ہوئے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے باسلامت پار لگا دیا تو ایک ماہ کے روزے رکھوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے تو باسلامت پار لگا دیا لیکن مرتے دم تک وہ روزے نہ رکھ سکی۔ اس کی کسی قریبی رشتے دار (بہن یا بیٹی) نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تیرا کیا خیال ہے۔ اگر اسکے ذمے قرض ہوتا تو تو اسے ادا کرتی یا نہیں؟ کہنے لگی ہاں کرتی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :- اللہ تعالیٰ کا قرض تو ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔ لہذا اپنی والدہ کے روزوں کو ادا کرو “۔ (سنن ابو دائود)
میت کی طرف سے قرض ادا کرے تو ہو جائے گا :-
-
”حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری کا جنازہ لایا گیا تا کہ آپ ﷺ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو، اس پر قرض ہے (لہذا میں نماز نہیں پڑھوں گا) حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا قرض میرے ذمے رہا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اپنا وعدہ وفا کرو گے؟ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا پورا کروں گا۔ تب آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی“۔ (سنن نسائی)
میت کی طرف سے مانی ہوئی شرعی نذر اولاد پوری کر دے تو اسے ثواب ملے گا :-
-
”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی ماں کی نذر کے بارے میں سوال کیا جسے پورا کرنے سے پہلے وہ فوت ہو گئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا اپنی ماں کی طرف سے تم (اپنی ماں کی نذر) پوری کرو“۔ (صحیح مسلم)