ایصال ثواب کے مسائل (۲)

اشاعت: 17-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
isaal e sawab mayyat ke liye qurbani hajj istighfar sadaqah hadith

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ایصال ثواب کے مسائل (۲) (احادیث کی روشنی میں)

میت کی طرف سے قربانی کی جائے تو اس کا ثواب میت کو پہنچ جاتا ہے :-

  • ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم نے جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو مینڈھے خریدتے موٹے تازے، سینگ والے، چتکبرے اور خصی۔ ان میں سے ایک اپنی اُمت کے ہر اس آدمی کی طرف سے کرتے جو اللہ کی توحید اور رسول اللہ کی رسالت کی گواہی دیتا ہو اور دوسرا محمد اور آل محمد کی طرف سے ذبح فرماتے“۔ (سنن ابن ماجہ)

میت کی طرف سے حج یا عمرہ کیا جائے تو ثواب میت کو پہنچ جاتا ہے :-

  • ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا میری ماں نے حج کی نذر مانی تھی، لیکن حج کرنے سے پہلے ہی فوت ہوگئی، کیا میں اس کی طرف سے حج ادا کروں ؟ نبی اکرم نے فرمایا :- ہاں ! اس کی طرف سے حج ادا کرو (یعنی اسے ثواب مل جائے گا) اور ہاں سنو ! اگر تمھاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں؟ اس نے عرض کیا ہاں ! پھر نبی اکرم نے فرمایا اللہ کا قرض (یعنی نذر) ادا کرو، کیونکہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے“۔ (صحیح بخاری)

میت کے لئے زندوں کی طرف سے بہترین تحفہ استغفار ہے :-

  • ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ بقیع (مدینہ کا قبرستان) تشریف لے گئے اور اہل بقیع کے لئے دعا فرمائی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم نے فرمایا :- مجھے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) اہل بقیع کے لئے دعا کرنے کا حکم دیا گیا تھا “۔ (مسند احمد)

نیک اولاد اور صدقہ جاریہ کا ثواب بعد میں بھی ملتا رہتا ہے :-

  • ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا :- مومن آدمی کے مرنے کے بعد جن اعمال اور نیکیوں کا ثواب اسے ملتا رہتا ہے اس میں (۱) وہ علم ہے، جو اس نے لوگوں کو سکھایا اور پھیلایا (۲) نیک اولاد ہے جو اس نے اپنے پیچھے چھوڑی (۳) قرآن کی تعلیم ہے جو لوگوں کو سکھائی (۴) مسجد ہے جو تعمیر کرائی (۵) مسافر خانہ ہے جو بنوایا اور (۶) وہ صدقہ ہے جو اپنے مال سے بحالت صحت اپنی زندگی میں نکالا ان سب اعمال کا ثواب انسان کو مرنے کے بعد (از خود) ملتا رہتا ہے “۔ (سنن ابن ماجہ)

احادیث کے مطابق مرنے والے کا سوگ تین دن تک منایا جا سکتا ہے اس کے بعد نہیں۔ اسی طرح رسم چہلم وغیرہ کی مجھے کوئی حدیث نہیں ملی اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہما اور تابعین کے دور سے کوئی واقعہ ملا ہے یا کم از کم میری نظر سے نہیں گزرا۔ یوں بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ رسم چہلم میں افسوس نام کی چیز تو اکثر نہیں ہوتی، یہ تو ایک خوشی کی تقریب کی مانند معلوم ہوتی ہے دوسرا اس میں بے جا اسراف دیکھنے کو ملتا ہے جو کہ اسلام کی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے، آجکل کے مہنگائی کے دور میں اکثر لوگ اسے Afford نہیں کر سکتے، دوسرا ہم لوگ بنیادی دین تو پورا کرتے نہیں لیکن Extra کام بڑے محنت سے کرتے ہیں، یہ جتنے پیسے چہلم پر لگائے جاتے ہیں اتنے میت کی جانب سے صدقہ کیا جائے اور جتنے لوگ چہلم پر بلائے جاتے ہیں ان سے میت کیلئے کم از کم چار چار روزے رکھوائے جائیں کیونکہ یہ تو حدیث سے ثابت ہے اور جانے اللہ اپنی نبی کے حکم کی تکمیل کی وجہ سے میت کو درجوں بلند فرما دیں مگر ہمیں تو دنیا کو بھی تو دکھانا ہے کہ اتنا پیسہ خرچ کیا مرنے والا بھلے جہاں مرضی جائے، میرا تعلق کسی فرقے سے نہیں ہمارے بھی یہ رسوم ہوتی ہیں، چہلم سے دنیا داری تو خوب ہو جاتی ہے میت سے پتا نہیں کیا ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Issues Related to Conveying Reward (Isāl-e-Thawāb) (2) (In the Light of Hadith)

Offering Sacrifice on Behalf of the Deceased

“Sayyiduna Abu Hurayrah رضي الله عنه narrated that when the Prophet intended to offer sacrifice, he would purchase two strong, well-built, horned, spotted, castrated rams. He would sacrifice one on behalf of every person of his Ummah who testified to the Oneness of Allah and the Messengership of the Prophet , and the other on behalf of Muhammad and the family of Muhammad .” (Sunan Ibn Majah)

Performing Hajj or ‘Umrah on Behalf of the Deceased

“Sayyiduna ‘Abdullah ibn ‘Abbās رضي الله عنه narrated that a woman from the tribe of Juhaynah came to the Prophet and said: ‘My mother vowed to perform Hajj, but she died before performing it. Should I perform Hajj on her behalf?’ The Prophet said: ‘Yes, perform Hajj on her behalf.’ He further said: ‘If your mother had a debt, would you repay it?’ She replied: ‘Yes.’ The Prophet said: ‘Fulfill the debt owed to Allah, for Allah has more right that His debt be fulfilled.’” (Sahih Bukhari)

Seeking Forgiveness Is the Best Gift for the Deceased

“Sayyidah ‘Ā’ishah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah went to al-Baqī‘ (the graveyard of Madinah) and supplicated for its inhabitants. When she asked him about it, the Prophet said: ‘I have been commanded (by Allah) to supplicate for the people of al-Baqī‘.’” (Musnad Ahmad)

Ongoing Reward Through Righteous Offspring and Continuous Charity

“Sayyiduna Abu Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah said: ‘After a believer dies, the reward of his deeds continues to reach him through: (1) knowledge he taught and spread, (2) a righteous child he left behind, (3) teaching of the Qur’an he imparted, (4) a mosque he built, (5) a lodging place he constructed for travelers, and (6) charity he gave from his wealth during his lifetime while in good health. The reward of these deeds continues to reach him after death.’” (Sunan Ibn Majah)

According to Hadith, mourning for the deceased is permitted for up to three days; beyond this, it is not prescribed. Likewise, regarding practices such as the fortieth-day gathering (chehlum), no explicit Hadith is found, nor any established precedent from the era of the Companions or the Tābi‘īn—at least none encountered by the author. In practice, such gatherings often resemble social events rather than occasions of grief, and they may involve unnecessary expenditure, which conflicts with Islamic teachings. Especially in times of financial hardship, many people cannot afford such practices.

It would be more beneficial if, instead of spending on such customs, the same resources were directed toward charity on behalf of the deceased and sincere acts such as fasting and supplication for them—matters supported by authentic Hadith—so that, by the fulfillment of the Prophet’s guidance, Allah may elevate the ranks of the deceased. والله أعلم