بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جہنم کی آگ کی شدت (قرآن کی روشنی میں)
جہنم کی آگ کا پہلا شعلہ ہی کافر کے جسم کا سارا گوشت پوست ہڈیوں سے الگ کر دے گا :-
-
”آگ ان کے چہروں کو چاٹ جائے گی اور انکے جبڑے باہر نکل آئے گے“۔ (المومنون ۔ ۱۰۴)
-
”ہرگز نہیں وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی“۔ (المعارج ۔ ۱۵ ، ۱۶)
نار جہنم کے شعلے کی ایک معمولی چنگاری بہت بڑے قلعہ کے برابر ہوگی :-
-
”چلو (اس دھوئیں کے) سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے نہ ٹھنڈک پہنچانے والا نہ آگ کی لپیٹ سے بچانے والا وہ آگ قلعہ جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی (ان چنگاریوں کے ٹکڑے ایسے ہوں گے) جیسے زرد رنگ کے اونٹ“۔ (المرسلات ۔ ۳۰ ، ۳۳)
نار جہنم مسلسل بھڑکنے والی آگ ہے جو کبھی سرد نہ ہوگی :-
-
”پس میں نے تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ سے خبردار کر دیا ہے“۔ (اللیل ۔ ۱۴)
-
”کا فر بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے“۔ (غاشیہ ۔ ۴)
-
”اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے اس کی جگہ گہری کھائی ہوگی تم کیا جانو وہ گہری کھائی کیا ہے؟ وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے“۔ (قارعه ۔ ۸ ، ۱۱)
نار جہنم جیسے ہی سرد ہونے لگے گی، جہنم کے دارو غے اسے فوراً بھڑکا دیں گے :-
-
”جب کبھی جہنم کی آگ دھیمی ہونے لگے گی تو ہم اسے اور بھڑکا دیں گے“۔ (بنی اسرائیل ۔ ۹۷)
نار جہنم اپنے اندر آنے والے ہر انسان کو چکنا چور کر دے گی :-
-
”ہرگز نہیں بلکہ (حرام مال اکٹھا کرنے والا شخص) چکنا چور کر دینے والی جگہ میں پھینک دیا جائے گا۔ تم کیا جانو وہ چکنا چور کر دینے والی جگہ کیا ہے؟ اللہ کی آگ ہے، بھڑکائی ہوئی جو دلوں پر چڑھتی چلی جائے گی مجرموں کو بڑے بڑے ستونوں میں (باندھ کر) اوپر سے بندھ کر دی جائے گی“۔ (همزه ۔ ۴، ۹)
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تمہاری یہ (دنیا کی) آگ جسے ابن آدم جلاتا ہے جہنم کی آگ کی گرمی کا سترہواں حصہ ہے“۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ”واللہ یا رسول اللہ ﷺ! (انسانوں کو جلانے کیلئے تو یہی دنیا کی) آگ کافی تھی“۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لیکن وہ دنیا کی آگ سے انہتر (۶۹) درجہ گرم ہے اور اس کا ہر حصہ اس دنیا کی آگ کے برابر گرم ہے“۔ (صحیح مسلم)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی تلاوت کے دوران آگ کے عذاب کی آیت پر پہنچتے تو بے ہوش ہو جاتے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جہنم کی آگ کو یاد کر کے اسقدر روتے کے ہچکی بندھ جاتی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا لوہار کی دوکان سے گزر ہوا آگ سے دہکتی بھٹی دیکھی تو جہنم کی آگ یاد کر کے رونے لگے۔ حضرت عطا سلیمی رحمتہ اللہ علیہ کے ہمسائے میں روٹیاں لگانے کیلئے تنور جلایا انہوں نے دیکھا تو بے ہوش ہو گئے۔ حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے جب بھی جہنم کا ذکر ہوتا تو انہیں خون کا پیشاب آنے لگتا۔ حضرت ربیع ساری ساری رات بستر پر پہلو بدلتے رہتے۔ بیٹی نے پوچھا ”ابا جان ساری دنیا آرام سے سوتی ہے آپ کیوں جاگتے رہتے ہیں؟“ فرمانے لگے ”بیٹا! جہنم کی آگ تیرے باپ کو سونے نہیں دیتی“۔
”سچ فرمایا اللہ پاک نے ”بے شک تیرے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق“۔ (بنی اسرائیل ۔ ۵۷)
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اپنے فضل و کرم سے جہنم کی آگ سے پناہ دے۔ آمین۔