بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
زکوٰۃ نہ دینے والوں کا انجام (احادیث کی روشنی میں)
” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ جس شخص کو اللہ نے مال عطا کیا (لیکن) اُس نے زکوٰۃ ادا نہ کی تو قیامت کے دن اُس کا مال زہریلے گنجے سانپ کی شکل اختیار کرے گا جس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے (اور) وہ اسکے گلے کا ہار ہوگا، وہ اسکے دونوں جبڑوں کو پکڑے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے تلاوت کی (جس کا ترجمہ ہے) وہ لوگ خیال نہ کریں جو بخل کرتے ہیں، مکمل آیت کا ذکر کیا “۔ (صحیح بخاری)
” حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:۔ جس شخص کی ملکیت میں اونٹ گائے یا بکریاں ہیں وہ اُن کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اُن کو لایا جائے گا۔ وہ (پہلے سے) زیادہ فربہ ہوں گے اپنے گھروں (پاؤں) کے ساتھ اُسکو روندیں گے اور اپنے سینگوں کے ساتھ اُسکو ماریں گے، جب اُن کا آخری دستہ گزر جائے گا تو پہلے دستے کو پھر لوٹایا جائے گا۔ لوگوں میں فیصلہ ہونے تک یہ سلسلہ جاری رہے گا “۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کے پاس بھی سونا چاندی ہے اور وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اُس کیلئے سونے چاندی کے پترے آگ سے بنائے جائیں گے دوزخ کی آگ میں اُن کو گرم کیا جائے گا پھر اُن پتروں سے اسکے پہلوؤں اسکی پیشانی اور اسکی کمر کو داغا جائے گا۔ پچاس ہزار سال کے دن میں بندوں میں فیصلے ہونے تک جب بھی اُن پتروں کو (اسکے بدن سے) دوزخ کی جانب پھیرا جائیگا۔ اُسکو اُس (کے جسم) کی طرف (تسلسل کے ساتھ) لوٹانے کا عمل جاری رہے گا، آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! اونٹوں کا (حکم) کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا‘ جو اونٹوں والا اونٹوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا‘ جبکہ اونٹوں کے بارے میں یہ حکم بھی (مستحب) ہے کہ جس دن ان کو پانی پلانے کیلئے لے جایا جائے ان کا دودھ دھو کر (فقرا و مساکین میں) تقسیم کیا جائے تو جب قیامت کا دن ہوگا تو زکوٰۃ نہ دینے والے اونٹوں کے مالک کو (چہرے کے بل) اونٹوں کے (پامال کرنے کے) لئے چٹیل کھلے میدان میں گرا دیا جائے گا، اونٹ پہلے سے زیادہ موٹے تازے اور کثیر تعداد میں ہوں گے اور اُن میں سے کوئی بچہ بھی غائب نہیں ہوگا۔ چنانچہ اونٹ اپنے مالک کو اپنے پاؤں سے روندیں گے اور اپنے دانتوں کے ساتھ کاٹیں گے۔ جب اُس پر سے پہلا دستہ گزر جائے گا تو پھر اُس پر سے دوسرا دستہ گزرے گا (یہ تسلسل اُس روز تک قائم رہے گا) جس کی مدت پچاس ہزار سال کے برابر ہے یہاں تک کے بندوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا اور ہر شخص اپنے مقام کو دیکھ لے گا کہ وہ جنت میں ہے یا دوزخ میں ہے۔ دریافت کیا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! گائے اور بکریوں کا کیا (حکم) ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا گائے بکریوں کا جو مالک بھی ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اُس کو اُن کیلئے چٹیل وسیع میدان میں (منہ کے بل) گرایا جائے گا، جانوروں میں سے کوئی جانور غائب نہیں ہوگا، اُن میں خم دار سینگوں والا، بغیر سینگوں والا اور ٹوٹے ہوئے سینگوں والا کوئی جانور نہ ہوگا، جانور اُس کو سینگ ماریں گے اور کھروں کے ساتھ اُسے پامال کریں گے۔ جب اُس پر پہلا دستہ گزر جائے گا تو اُس پر آخری دستہ (اُس روز تک تسلسل کے ساتھ) گزرتا رہے گا جس کی مدت پچاس ہزار سال ہے، یہاں تک کے بندوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا اور ہر شخص اپنے ٹھکانہ دیکھ لے گا کہ جنت میں ہے یا دوزخ میں ہے “۔ (صحیح مسلم)