بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
زکوٰۃ کے مصارف (۳) (احادیث کی روشنی میں)
زکوٰۃ صرف مسلمانوں کو دینی جائز ہے :-
” حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا: تم اہل کتاب کے پاس جا رہے ہو انہیں توحید و رسالت کی دعوت دو اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر دن رات میں پنجگانہ نماز فرض کی ہے۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر زکاۃ فرض کی ہے جو کہ تمہارے مال داروں سے لی جائے گی اور تمہارے محتاجوں کو دی جائے گی۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو خبردار ان کے نفیس مال نہ لینا‘ اور مظلوم کی بد دعا سے ڈرتے رہنا‘ کیوں کہ اس کی بد دُعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا ہے“۔ (صحیح مسلم)
زکوٰۃ کو تمام مصارف میں تقسیم کرنا ضروری نہیں :-
” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک صحابی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ میں ہلاک ہو گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے پوچھا کیا بات ہے ۔؟ اس نے کہا :۔ میں روزے کی حالت میں بیوی سے صحبت کر بیٹھا ہوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا ۔ کیا تو ایک غلام آزاد کر سکتا ہے ۔؟ اس نے کہا ‘ نہیں نبی اکرم ﷺ نے پھر دریافت فرمایا : کیا دو ماہ مسلسل روزے رکھ سکتے ہو ۔؟ اس نے عرض کیا نہیں نبی اکرم ﷺ نے پھر پوچھا :۔ کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو ۔؟ اس نے عرض کیا نہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :۔ اچھا بیٹھ جاؤ ۔ نبی اکرم ﷺ تھوڑی دیر کے ‘ ہم ابھی اسی حالت میں بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ کی خدمت میں (زکوۃ ) کی کھجوروں کا ایک عرق لایا گیا ‘ عرق بڑے ٹوکرے کو کہا جاتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ کھجوروں کا صدقہ کر دے ۔؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا صدقہ اپنے سے زیادہ محتاج لوگوں کو دوں ۔؟ واللہ مدینہ کی ساری آبادی میں کوئی گھر میرے گھر سے زیادہ محتاج نہیں ۔ رسول اللہ ﷺ ہنس دیئے یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کی داڑھیں نظر آنے لگیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ۔ اچھا جاؤ اپنے گھر والوں کو ہی کھلا دو“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)