بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
زکوٰۃ کے مصارف (۲) (احادیث کی روشنی میں)
زکوٰۃ صرف مسلمانوں کو دینی جائز ہے :-
” حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا: تم اہل کتاب کے پاس جا رہے ہو انہیں توحید و رسالت کی دعوت دو اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر دن رات میں پنجگانہ نماز فرض کی ہے۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر زکاۃ فرض کی ہے جو کہ تمہارے مال داروں سے لی جائے گی اور تمہارے محتاجوں کو دی جائے گی۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو خبردار ان کے نفیس مال نہ لینا‘ اور مظلوم کی بد دعا سے ڈرتے رہنا‘ کیوں کہ اس کی بد دُعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا ہے“۔ (صحیح مسلم)
نومسلموں یا اسلام کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھنے والے غیر مسلموں کو تالیف قلب کے لئے زکاۃ دینا جائز ہے :-
” حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے مٹی میں ملا ہوا کچھ سونا (یعنی کان سے نکلا ہوا ) نبی اکرم ﷺ کے پاس بھیجا ۔ آپ ﷺ نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم فرما دیا۔ (۱) اقرع بن حابس حنظلی ۔ (۲) عیینہ بن بدر قراری ۔ (۳) علقمہ بن علاقہ عامری۔ (۴) ایک آدمی بنی کلاب سے ۔ زید خیر الطائی یا پھر بنی نبہان سے‘ اس پر قریش بہت غضبناک ہوئے اور کہنے لگے آپ ﷺ نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں۔ اور ہم کو نہیں دیتے ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ میں ان کو اس لئے دیتا ہوں کہ ان کے دلوں میں اسلام کی محبت پیدا ہو“۔ (صحیح مسلم)
غلاموں کی آزادی یا قیدیوں کی رہائی کیلئے زکاۃ صرف کرنا جائز ہے :-
” حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت سے قریب کر دے اور دوزخ سے دور ہٹا دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جان کو آزاد کر۔ اور غلام کو نجات دلا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا یہ دونوں ایک ہی نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں‘ جان آزاد کرنا یہ ہے کہ تو اکیلا آزاد کرے غلام کو نجات دلانا یہ ہے کہ تو اس کی قیمت ادا کرنے میں مدد کرے“۔ (مسند احمد)
اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو زکوٰۃ دینا جائز ہے :-
” عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غنی آدمی کے لئے زکاۃ حلال نہیں‘ مگر پانچ صورتوں میں (۱) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لئے۔ (۲) عامل زکاۃ کے لئے۔ (۳) تاوان بھرنے والے کے لئے۔ (۴) اس غنی آدمی کے لئے جو اپنے مال سے کسی غریب کو زکوٰۃ میں دی گئی کوئی چیز خریدنا چاہے۔ (۵) اس غنی آدمی کے لئے جس کا ہمسایہ محتاج تھا کسی نے اس مسکین کو زکوٰۃ میں کوئی چیز دی اور اس مسکین نے غنی (ہمسائے) کو ہدیہ کے طور پر دے دی“۔ (سنن ابوداؤد)
وضاحت :۔ ۱۔ جہاد فی سبیل اللہ میں میدان جنگ کی لڑائی کے علاوہ حج اور عمرہ بھی شامل ہیں۔ ۲۔ بعض علماء کے نزدیک دین کی سربلندی‘ دین کی تیاری اور اشاعت کے جملہ کام مثلاً دینی مدارس کی تعمیر ان کی دیکھ بھال‘ دینی کتب کی اشاعت اور تقسیم وغیرہ بھی فی سبیل اللہ میں شامل ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ۳۔ جہاد فی سبیل اللہ کی مد میں جمع شدہ رقوم پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
دوران سفر میں ضرورت پڑنے پر مسافر کو زکاۃ دینی جائز ہے خواہ اپنے گھر میں غنی ہی ہو :-
” حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ صدقہ آدمی کے لئے حلال نہیں مگر اس آدمی کے لئے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکلا ہوا ہو یا مسافر کے لئے یا فقیر پر صدقہ کیا گیا اور اس نے کسی غنی آدمی کو ہدیہ کے طور پر دے دیا یا اس کی دعوت کی۔ (یعنی غنی کو فقیر کا ہدیہ یا دعوت قبول کرنا جائز ہے خواہ وہ ہدیہ اور دعوت زکاۃ کے مال سے کی گئی ہو)“۔ (سنن ابوداؤد)