بے نماز، جھوٹے، سودخور اور زانی کا انجام (2)

اشاعت: 03-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
بے نماز، جھوٹے، سودخور اور زانی کا انجام

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

بے نماز، جھوٹے، سود خور اور زانی کا انجام (۲) (احادیث کی روشنی میں)

حدیث کا دوسرا حصہ ہے:- ” اس آدمی کے ارد گرد زیادہ بچے ہیں ایسے بچے میں نے کبھی نہیں دیکھے۔ میں نے پوچھا ’یہ کیا ہے؟ اور یہ بچے کون ہیں؟ انہوں نے کہا ’(آگے) چلئے۔ پس ہم چلے اور ایک بہت بڑے درخت پر آئے۔ اس سے زیادہ بڑا اور اس سے زیادہ اچھا درخت میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ دونوں ساتھیوں نے مجھے سے کہا ’اس پر چڑھئے‘ پس ہم اس پر چڑھے تو ایک ایسا شہر ہمیں نظر آیا جو سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا ہوا تھا‘ پس ہم اس شہر کے دروازے پر آئے اور اسے کھولنے کا مطالبہ کیا‘ پس وہ دروازہ ہمارے لئے کھول دیا گیا اور ہم اس میں داخل ہو گئے۔ پس ہمیں بہت سے آدمی ملے‘ ان کا آدھا جسم تو اس خوبصورت ترین آدمی کی طرح ہے جو تم نے دیکھا ہو اور آدھا جسم اس بدترین آدمی کی طرح ہے جو تم نے دیکھا ہو۔ دونوں ساتھیوں نے ان آدمیوں سے کہا ’جاؤ اور اس نہر میں کود جاؤ۔ وہاں عرضاً ایک نہر بہہ رہی تھی اُسکا پانی سفیدی میں گویا دودھ تھا‘ پس وہ لوگ گئے اور اس میں کود گئے۔ پھر وہ ہماری طرف واپس آئے تو ان کے آدھے جسم کی بدصورتی دور ہو چکی تھی اور بہترین صورت والے ہو گئے تھے‘ آپ نے فرمایا ’ان دونوں نے مجھے کہا ’یہ جنت عدن ہے اور یہ آپ کا مقام ہے۔ میری نگاہ جو اوپر اُٹھی تو سفید بادل کی طرح ایک محل نظر آیا۔ دونوں ساتھیوں نے مجھے کہا ‘ یہ ہے آپ کا مقام۔ میں نے ان سے کہا ’اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا کرے‘ تم مجھے چھوڑو‘ میں اندر جاؤں۔ انہوں نے کہا ’لیکن ابھی نہیں۔ البتہ آپ ہی اس میں داخل ہوں گے (نہ کہ کوئی اور)۔ میں نے ان سے کہا ’میں نے رات کو عجیب چیزیں دیکھی ہیں‘ میں نے جو کچھ دیکھا ہے یہ کیا ہے؟ دونوں نے کہا ’ہم ابھی آپ کو بتلائے دیتے ہیں۔ وہ پہلا آدمی‘ جس کے پاس سے آپ گزرے اور اس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا‘ وہ شخص ہے جو قرآن حاصل کرے اور پھر اسے چھوڑ دے (حفظ کر کے بھول جائے‘ یا قرآن کا علم حاصل کر کے بے عمل ہو جائے) اور فرض نماز پڑھے بغیر سو جائے۔ اور وہ آدمی‘ جس کے پاس سے آپ گزرے جس کے جبڑے کو اسکے نتھنے کو اور اس کی آنکھ کو اس کی گدی تک چیرا جا رہا تھا یہ وہ شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا اور جھوٹ بولتا جو (دنیا کے) کناروں تک پھیل جاتا، اور وہ برہنہ مرد اور عورتیں جو تنور جیسے گڑھے میں تھیں‘ وہ بدکار مرد اور بدکار عورتیں تھیں۔ اور وہ آدمی‘ جس کے پاس آپ آئے‘ وہ نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر کا لقمہ دیا جاتا تھا‘ وہ سود خور شخص تھا۔ اور وہ نہایت بدمنظر آدمی جو آگ کے پاس تھا‘ اسے دہکا رہا تھا اور اس کے گرد دوڑتا تھا‘ وہ داروغہ جہنم‘ مالک ہے۔ اور وہ دراز قد آدمی‘ جو باغ میں تھا‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے اور وہ بچے جو ان کے ارد گرد تھے‘ یہ تمام وہ بچے تھے جو فطرت (صحیح دین) پر فوت ہوئے۔ اور برقانی کی روایت میں ہے‘ وہ بچے ہیں جو فطرت پر پیدا ہوئے۔ مسلمانوں میں سے ایک نے سوال کیا ’یا رسول اللہ ! اور مشرکین کے بچے (بھی وہیں تھے)؟ تو رسول اللہ نے فرمایا ‘مشرکین کے بچے بھی۔ لیکن وہ لوگ‘ جن کا آدھا جسم خوبصورت اور آدھا جسم بدصورت تھا‘ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملے جلے عمل کئے‘ کچھ عمل نیک کئے اور دوسرے کچھ برے بھی‘ اللہ نے ان سے درگزر فرمایا “۔ (صحیح بخاری)

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

The Fate of the One Who Neglects Salah, the Liar, the Usurer, and the Adulterer (2) — In the Light of Hadith

The second part of the Hadith:

“…Around that man were many children—the like of whom I had never seen before. I asked, ‘What is this, and who are these children?’ They said, ‘Proceed onward.’

So we continued until we came to a huge tree. I had never seen a tree larger or more beautiful than it. My two companions said to me, ‘Climb it.’ So we climbed it and came upon a city built with bricks of gold and silver. We reached its gate, requested it to be opened, and it was opened for us. We entered it and encountered many people: half of their bodies resembled the most beautiful persons you have ever seen, while the other half resembled the ugliest persons you have ever seen.

My two companions said to them, ‘Go and plunge into that river.’ A river was flowing across there whose water was white like milk. They went and plunged into it, then returned to us, and the ugliness of half their bodies had disappeared; they had become entirely beautiful.

The Prophet said: My two companions told me, ‘This is Jannah ‘Adn, and this is your place.’ When I raised my gaze upward, I saw a palace like a white cloud. They said, ‘This is your abode.’ I said to them, ‘May Allah bless you both—allow me to enter it.’ They replied, ‘Not now; you will indeed enter it (later).’

I then said to them, ‘I have seen astonishing things tonight. What are all these that I have witnessed?’ They replied, ‘We will explain them to you:

  • The first man whom you saw, whose head was being crushed with a stone, is the person who learns the Quran and then abandons it (forgets it after memorizing it, or gains knowledge of it but does not act upon it), and who sleeps neglecting the obligatory Salah (prayer).

  • The man whose jaw, nostril, and eye were being torn back to his neck is the one who leaves his home in the morning and spreads lies that reach the horizons of the world.

  • The naked men and women in the oven-like pit are adulterers and adulteresses.

  • The man whom you saw swimming in the river, being made to swallow stones, is the one who consumed riba (usury/interest).

  • The hideous man near the fire, kindling it and circling around it, is Malik, the keeper of Hell.

  • The tall man in the garden is Ibrahim عليه السلام (peace be upon him), and the children around him are those who died upon fitrah (the natural, pure faith).

And in another narration it is stated: they are the children who were born upon fitrah. One of the Muslims asked: ‘O Messenger of Allah ! Are the children of the polytheists also there?’ The Messenger of Allah replied: ‘The children of the polytheists are also there.’

  • As for the people whose bodies were half beautiful and half ugly, they are those who performed mixed deeds—some righteous and others evil; Allah pardoned them.’” (صحیح بخاری)