ظلم کے حرام ہونے کا بیان (۱)

اشاعت: 06-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
🟢 Alt Text  Zulm ke haram hone ka bayan – Hadees mein injustice ki saza, haqooq ul ibad aur insaf ka Islami paigham

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

ظلم کے حرام ہونے کا بیان (۱) (احادیث کی روشنی میں)

” حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ نے فرمایا، ظلم کرنے سے بچو! اسلئے کے ظلم قیامت والے دن اندھیروں کا باعث ہوگا اور بخل سے بچو! اسلئے کہ بخل نے ہی ان لوگوں کو ہلاک کیا ہے جو تم سے پہلے تھے۔ اس بخل نے انہیں اپنوں کا خون بہانے پر اور حرام چیزوں کو حلال سمجھنے پر آمادہ کیا۔ “ (صحیح مسلم)

فوائد:۔ شُحّ مال کی شدید محبت کو کہتے ہیں‘ جب انسان کے دل میں دنیا اور دنیا کے مال واسباب کی محبت حد سے تجاوز کر کے شدید ہو جائے تو پھر انسان حرام حلال کے درمیان تمیز بھی نہیں کرتا اور دوسرے انسانوں کا خون بہانے سے گریز بھی نہیں کرتا۔ جیسے آج ہمارے معاشرے کی بقاء کی کوئی ضمانت نہیں ہے‘ یہ دیر یا سویر ہلاکت سے دوچار ہو کر ہی رہے گا۔

” حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:۔ جس نے ایک بالشت کے برابر زمین ہتھیا کر کسی پر ظلم کیا تو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے قیامت والے دن) اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ “ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

فوائد:۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں تھوڑا سا ظلم بھی اور کسی کا معمولی سا حق بھی مار لینا قیامت والے دن عذاب شدید کا باعث ہوگا۔ لیکن مقام افسوس ہے کہ ہمیں آخرت کی کوئی فکر نہیں۔

ظالم کو مہلت :۔

” حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ نے فرمایا:۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن پھر جب اسکی گرفت فرماتا ہے پھر اسکو نہیں چھوڑتا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ’اور اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہے جب وہ بستیوں (والوں) کو پکڑتا ہے جبکہ وہ ظلم کا ارتکاب کرتی ہیں یقیناً اسکی پکڑ نہایت دردناک ہے (ہود ، ۱۰۲)‘۔ “ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

فوائد:۔ اللہ تعالیٰ اپنی حسب مشیت و مصلحت‘ ظالم اور گناہ گار کو مہلت دیتا ہے لیکن جب مواخذہ فرماتا ہے تو پھر اس کی گرفت سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔ اس لئے ہر شخص کو ظلم و معصیت سے اپنا دامن بچا کر رکھنا چاہئے۔ اسی طرح اس کی مہلت سے دھوکے کا شکار نہیں ہونا چاہئے‘ کیونکہ پتہ نہیں کب اس کی مدت مہلت ختم اور گرفت کا آغاز ہو جائے۔

” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا:۔ جس آدمی پر بھی اپنے (مسلمان) بھائی کا‘ اس کی عزت و آبرو سے متعلق کوئی حق ہو (یعنی اس کی بے عزتی کر کے یا کوئی اور زیادتی کر کے اس پر ظلم کیا ہو) تو اس کو چاہئے کہ آج ہی (دنیا میں) اس کا ازالہ کر کے اس حق سے عہدہ برآ ہو جائے۔ قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں (ازالے کیلئے) کسی کے پاس دینار و درہم نہیں ہوں گے۔ (اور وہاں ازالے کی صورت پھر یہ ہوگی کہ) اگر اس کے پاس عمل صالح ہوں گے تو وہ اس کے ظلم کے بہ قدر لے لئے جائیں گے (اور مظلومین میں تقسیم کر دیئے جائیں گے) اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہیں ہوں گی‘ تو اس کے ساتھی (صاحب حق) کی برائیاں لے کر اس پر لاد دی جائیں گی۔ “ (صحیح بخاری)

فوائد:۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کی گئی دست درازیاں اگر انہیں دنیا میں ہی معاف نہیں کروایا گیا یا ان کی تلافی نہ کی گئی تو آخرت میں اس کا معاملہ نہایت خطرناک ہوگا‘ جیسا کہ اس کی تفصیل اس حدیث میں ہے۔ اس لئے حقوق العباد میں کوتاہی‘ جس کی انسان پروا نہیں کرتا‘ سخت ہلاکت کا باعث ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

The Prohibition of Oppression (Zulm) (1) — In the Light of Hadith

“Hazrat Jabir رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah said: ‘Beware of committing ظلم (oppression/injustice), for indeed oppression will be a cause of darkness on the Day of Judgment. And beware of بخل (miserliness), for miserliness destroyed those who came before you. It incited them to shed one another’s blood and to regard unlawful things as lawful.’” (صحیح مسلم)

Benefits:
شُحّ refers to an intense love of wealth. When the love of the world and its possessions exceeds all limits in a person’s heart, he no longer distinguishes between lawful and unlawful, nor does he refrain from shedding the blood of others. As we see today, our society itself has no guarantee of survival; sooner or later it is bound to face destruction.

“Hazrat ‘A’ishah رضي الله عنها narrates that the Messenger of Allah said: ‘Whoever usurps even a handspan of land unjustly, on the Day of Judgment he will be made to wear around his neck a collar made from seven earths.’” (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

Benefits:
From this it is understood that even a small act of oppression in this world, or usurping someone’s minor right, will become a cause of severe punishment on the Day of Judgment. Yet it is a matter of great regret that we show little concern for the Hereafter.

Respite Granted to the Oppressor:


“Hazrat Abu Musa رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah said: ‘Indeed Allah grants respite to the oppressor, but when He seizes him, He does not let him go.’ Then the Prophet recited the verse:
’اور اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہے جب وہ بستیوں (والوں) کو پکڑتا ہے جبکہ وہ ظلم کا ارتکاب کرتی ہیں یقیناً اسکی پکڑ نہایت دردناک ہے (ہود ، ۱۰۲)
” (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

Benefits:
Allah, according to His wisdom and will, grants respite to the oppressor and the sinner; however, when He holds them accountable, there is no escape from His grasp. Therefore, every person must safeguard himself from oppression and disobedience. Likewise, one should not be deceived by this respite, for no one knows when the period of allowance will end and the seizure will begin.

“Hazrat Abu Hurairah رضي الله عنه narrates that the Noble Prophet said: ‘Whoever has wronged his (Muslim) brother concerning his honor or any of his rights should seek to settle it today (in this world), before the Day arrives when there will be neither dinar nor dirham. (On that Day,) if he has righteous deeds, they will be taken from him in proportion to his ظلم and given to the oppressed; and if he has no good deeds, the sins of the one wronged will be placed upon him.’” (صحیح بخاری)

Benefits:
This shows that if acts of transgression committed in this world are neither forgiven nor compensated for here, then the matter in the Hereafter will be extremely dangerous, as detailed in this Hadith. Negligence regarding حقوق العباد (rights of people), which people often take lightly, becomes a cause of severe ruin.