کاروبار میں قسم اور قسم کے کفارہ کا بیان

اشاعت: 06-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
Karobar mein qasam khana aur qasam ka kaffara – Hadith mein business oath, jhooti qasam aur Islami hukm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

کاروبار میں قسم اور قسم کے کفارہ کا بیان (احادیث کی روشنی میں)

قسم کا کفارہ :-

” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ لغو (لایعنی) قسموں پر تمہارا مواخذہ نہیں فرماتا، بلکہ وہ ان قسموں پر گرفت کرتا ہے جن کو تم نے مضبوطی سے باندھا ہے، پس اسکا کفارہ دس مسکینوں کو درمیانی درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑے پہنانا ہے یا ایک گردن آزاد کرنا ہے۔ پس جو اس کی طاقت نہ رکھے، تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے، جب تم قسم کھاؤ تو اپنی قسموں کی حفاظت کرو (یعنی انہیں پورا کرو، اگر گناہ کے کام پر نہ ہوں) “۔ (المآئده - ۸۹) “

لغو قسمیں کیا ہوتی ہیں :-

” حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قرآن کریم کی آیت (اُوپر بیان ہوئی ہے، المآئده ۔ ۸۹) ایسے آدمی کے بارے میں اُتری ہے جو (بات بات پر بغیر ارادہ قسم کے) کہتا ہے، اللہ کی قسم، کیوں نہیں اللہ کی قسم“۔ “ (صحیح بخاری)

اب تک پڑھی جانے والی (قسموں کے متعلق پچھلی سلائیڈز ملا کر) آیات و احادیث سے معلوم ہوا کہ قسموں کی تین قسمیں ہیں۔ ایک جھوٹی قسم، اسکا حکم گزر چکا ہے۔ دوسری لغو قسم، اس پر نہ گناہ ہے نہ کفارہ۔ تیسری قسم، جو انسان کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی بابت دل کے پورے ارادے کے ساتھ کھاتا ہے۔ اس کے توڑنے پر کفارہ ہے جو آیت مذکورہ میں بیان ہوا ہے۔ کفارہ قسم میں دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانے کا ذکر ہے۔

کاروبار میں قسم کھانے کا بیان :-

” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ک میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قسم سودے کے زیادہ بکنے کا سبب ہے لیکن کمائی کی برکت مٹانے کا ذریعہ بھی ہے “۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

سودا بیچتے وقت جو شخص قسم کھاتا ہے اس کا سودا تو جلدی بک جاتا ہے اور زیادہ بکتا ہے‘ لیکن یہ طریقہ پسندیدہ نہیں‘ اس سے بظاہر کمائی زیادہ ہوتی ہے لیکن اس میں برکت نہیں ہوتی‘ بلکہ اس سے برکت اُٹھ جاتی ہے۔ اس لئے گاہک متاثر کرنے کے لئے قسم نہیں کھانی چاہئے چاہے وہ سچا ہی ہو۔

” حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا‘ سودا کرتے وقت زیادہ قسم اُٹھانے سے بچو‘ اس لئے اس سے سودا تو زیادہ بک جاتا ہے‘ لیکن (یہ طریقہ) برکت کو مٹا دیتا ہے “۔ (صحیح بخاری)

اس میں بھی وہی بات بیان کی گئی ہے۔ اس میں ہمارے لئے غور و فکر کی دعوت ہے کہ جب سچی قسم کھانا بھی بے برکتی کا باعث ہے تو جو لوگ جھوٹی قسمیں کھا کر لوگوں کو دھوکا دیتے اور اپنا سامان بیچتے ہیں، وہ کتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

Oaths in Business and the Expiation (Kaffarah) of Oaths — In the Light of Hadith

Expiation (Kaffarah) for an Oath:


Allah Ta‘ala has said:
”اللہ تعالیٰ لغو (لایعنی) قسموں پر تمہارا مواخذہ نہیں فرماتا، بلکہ وہ ان قسموں پر گرفت کرتا ہے جن کو تم نے مضبوطی سے باندھا ہے، پس اسکا کفارہ دس مسکینوں کو درمیانی درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑے پہنانا ہے یا ایک گردن آزاد کرنا ہے۔ پس جو اس کی طاقت نہ رکھے، تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے، جب تم قسم کھاؤ تو اپنی قسموں کی حفاظت کرو (یعنی انہیں پورا کرو، اگر گناہ کے کام پر نہ ہوں) “۔ (المآئده - ۸۹)

What Are “Laghu” (Unintentional/Vain) Oaths?


“Hazrat ‘A’ishah رضي الله عنها narrates that the Quranic verse mentioned above (المآئده ۔ ۸۹) was revealed concerning a person who, without intention, says repeatedly in conversation: ‘By Allah, yes indeed! By Allah!’” (صحیح بخاری)

From the verses and Hadith studied so far (including previous discussions on oaths), it becomes clear that oaths are of three types:

  1. A false oath — its ruling has already been explained.

  2. A laghu (unintentional/vain) oath — there is neither sin nor expiation for it.

  3. An oath taken with firm intention regarding doing or not doing something — if it is broken, expiation becomes obligatory, as mentioned in the above verse. The Kaffarah for such an oath includes feeding ten needy persons with average-quality food.

Oaths in Business Transactions:


“Hazrat Abu Hurairah رضي الله عنه narrates: I heard the Messenger of Allah say: ‘An oath may cause a sale to increase, but it removes the barakah (blessing) from the earnings.’” (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

When a person swears an oath while selling goods, the sale may increase and occur more quickly; however, this method is not پسندیدہ (approved). Outwardly, it may seem that earnings increase, but barakah is removed from them. Therefore, one should not swear oaths merely to impress customers, even if the statement is true.

“Hazrat Abu Qatadah رضي الله عنه narrates that he heard the Messenger of Allah say: ‘Avoid excessive oath-taking in business transactions, for although it may increase sales, it erases barakah.’” (صحیح بخاری)

This conveys the same message. It calls us to reflect: if even truthful oaths can lead to loss of barakah, then those who deceive people and sell their goods by swearing false oaths are committing a far greater sin.