بے نماز، جھوٹے، سودخور اور زانی کا انجام (۱)

اشاعت: 03-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
بے نماز، جھوٹے، سودخور اور زانی کا انجام  (۱)

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

بے نماز، جھوٹے، سود خور اور زانی کا انجام (۱) (احادیث کی روشنی میں)

” حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ اکثر اپنے صحابہ سے دریافت فرماتے تھے کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ پس آپ کے سامنے کوئی شخص‘ جو اللہ چاہتا بیان کرتا۔ اور ایک دن صبح کے وقت آپ نے ہمارے سامنے بیان فرمایا‘ کہ رات کو (خواب میں) میرے پاس دو آنے والے آئے‘ ان دونوں نے مجھ سے کہا ’چلئے‘ میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ (چلتے چلتے) ہمار ا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو لیٹا ہوا تھا‘ اور اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا آدمی‘ اس کے اوپر پتھر لئے کھڑا ہے‘ وہ پتھر اس کے سر پر مارتا ہے اور اس کے سر کو پاش پاش کر دیتا ہے‘ پس وہ پتھر وہاں سے لڑھک کر دور جا گرتا ہے‘ تو وہ پتھر کے پیچھے جاتا اور اسے پکڑ لاتا ہے‘ اس کے دوبارہ واپس آنے تک اس کا سر پہلے کی طرح صحیح ہو جاتا ہے‘ وہ پھر اس کی طرف لوٹتا ہے اور وہی کچھ کرتا ہے جو اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا۔ نبی کریم فرماتے ہیں‘ میں نے ان دو آدمیوں سے پوچھا ’سبحان اللہ ! یہ کیا ماجرا ہے؟‘ انہوں نے کہا ’(آگے) چلئے‘۔ پس ہم چل پڑے اور ایک ایسے آدمی کے پاس آئے جو گدی کے بل (چت) لیٹا ہوا تھا اور اس کے پاس ہی ایک دوسرا آدمی لوہے کا زنبور لئے اس کے اُوپر کھڑا ہے‘ وہ اس کے چہرے کی ایک طرف آتا ہے اور اس کے جبڑے کو اس کی گدی تک چیر دیتا ہے‘ اس کے نتھنے کو اور اس کی آنکھ کو بھی گدی تک چیر دیتا ہے۔ پھر وہ اس کے چہرے کی دوسری جانب آتا ہے اور وہی عمل کرتا ہے جو اس نے پہلی جانب میں کیا تھا۔ پس وہ اس ایک جانب سے فارغ نہیں ہو پاتا کہ دوسری جانب پہلے کی طرح صحیح ہو جاتی ہے۔ وہ پھر اس کی طرف آتا ہے اور وہی کچھ کرتا ہے جو پہلی مرتبہ میں کیا تھا۔ آپ نے فرمایا‘ میں نے پوچھا ’سبحان اللہ ! یہ دو آدمی کون ہیں؟ انہوں نے کہا ’(آگے) چلئے‘۔ پس ہم چلے تو ہم ایک تنور جیسے گڑھے پر آئے (راوی کا بیان ہے) کہ میرا گمان ہے کہ آپ نے فرمایا‘ اس میں بہت شور تھا اور آوازیں تھیں‘ پس ہم نے اس میں جھانکا تو اس میں برہنہ مرد اور عورتیں تھیں‘ اس کے نیچے سے آگ کا شعلہ اُٹھتا ہے اور جب وہ ان کو لگتا ہے تو وہ چیخیں مارتے ہیں‘ میں نے کہا ’یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے مجھ سے کہا ’(آگے) چلئے‘۔ پس ہم پھر چلے اور ایک نہر پر آئے۔ راوی کا بیان ہے‘ میرا گمان ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ‘ وہ خون کی طرح سرخ تھی۔ اس میں ایک تیراک تیر رہا ہے اور نہر کے کنارے پر ایک آدمی ہے جس نے اپنے پاس بہت سے پتھر جمع کر رکھے ہیں۔ یہ تیرنے والا جب تک تیرتا ہے تیرتا ہے‘ پھر اس شخص کے پاس آتا ہے جس نے اپنے پاس پتھر جمع کئے ہوئے ہیں‘ وہ اس کے سامنے آکر اپنا منہ کھولتا ہے اور وہ اس کے منہ میں پتھر کا لقمہ ڈال دیتا ہے۔ وہ پھر جا کر تیرنے لگتا ہے اور پھر اس کی طرف لوٹ آتا ہے جب بھی اس کی طرف لوٹ کر آتا ہے‘ جب بھی اس کی طرف لوٹ کر آتا ہے‘ اسکے سامنے اپنا منہ کھولتا ہے اور وہ پتھر کا لقمہ اسکے منہ میں ڈال دیتا ہے ۔ میں نے ان سے کہا ’یہ دو شخص کون ہیں ؟ انہوں نے مجھے کہا ’(آگے) چلئے‘۔ ہم پھر چلے‘ پس ہم ایک بہت ہی بد منظر آدمی کے پاس آئے یا (فرمایا) سب سے زیادہ بد صورت آدمی کی طرف‘ جو تم نے دیکھا ہو‘ اس کے پاس آگ ہے جسے وہ دھکاتا ہے اور اس کے گرد دوڑتا ہے۔ میں نے دونوں ساتھیوں سے پوچھا ’یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے مجھے کہا ’(آگے) چلئے‘۔ پس ہم چلے اور ایک ایسے باغ میں آئے جس میں کثرت سے درخت لگے ہوئے تھے اور اس میں بہار کے (موسم کی طرح) ہر قسم کے پھول تھے اور اس باغ کے درمیان میں ایک لمبا آدمی تھا‘ مجھے لمبائی کی وجہ سے اس کا سر آسمان میں دکھائی نہیں دیتا تھا۔۔۔ (جاری ہے) “

یہ حدیث چونکہ بہت لمبی تھی اسلئے بقیہ آئندہ سلائیڈ میں بھیجی جائے گی ، انشاء اللہ۔ تفسیر کی سلائیڈ بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

The Fate of the One Who Neglects Salah, the Liar, the Usurer, and the Adulterer (1) — In the Light of Hadith

“Hazrat Samurah ibn Jundub رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah would often ask his Companions: ‘Has any one of you seen a dream?’ Whoever Allah willed would then relate something before him. One morning, the Prophet said to us: ‘Last night, two visitors came to me (in a dream) and said: “Come with us.” So I went along with them.

As we walked, we came upon a man who was lying down, and another man stood over him holding a stone. He struck the lying man on the head with the stone, crushing his head completely. The stone would roll away, and he would go after it and bring it back. By the time he returned, the man’s head would be restored as it was before, and he would strike him again, repeating what he had done the first time.

The Prophet said: I asked the two men, “SubhanAllah! What is this matter?” They said, “Proceed onward.”

So we moved on and came to a man lying on his back, and another man stood over him holding an iron hook. He approached one side of his face and tore his jaw back to the nape of his neck, ripped his nostril, and split his eye back to the nape. Then he went to the other side of his face and did the same. Before he could finish with one side, it would return to its original state, and he would repeat the same action again.

I asked, “SubhanAllah! Who are these two men?” They said, “Proceed onward.”

We continued and came upon something like an oven. (The narrator says:) I think the Prophet said that there was much noise and clamoring inside it. When we looked into it, there were naked men and women inside. A flame of fire rose from beneath them, and when it reached them, they screamed loudly. I asked, “Who are these people?” They said, “Proceed onward.”

We then moved on and came to a river. (The narrator says:) I think the Prophet said that it was red like blood. In it was a man swimming, and on the bank stood another man who had gathered many stones. The swimmer kept swimming until he came to the one who had collected stones. He opened his mouth, and the man placed a stone into it. Then he went back to swim again and returned, and each time he returned, he opened his mouth and the man put another stone into it.

I asked them, “Who are these two people?” They replied, “Proceed onward.”

We then went further and came upon a man of the most unpleasant and terrifying appearance you could imagine. He had a fire before him, which he was kindling and circling around. I asked my two companions, “What is this?” They said, “Proceed onward.”

Then we went on and reached a garden filled with abundant trees and all kinds of spring blossoms. In the middle of the garden stood a very tall man whose head I could not see, as it seemed to reach the sky… (continued).’”

This Hadith is very lengthy; therefore, the remaining portion will be presented in the next slide, إن شاء الله. Tafseer slides are also continuing alongside.