بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سُنتوں اور نوافل کی فضیلت (احادیث کی روشنی میں)
نماز فجر سے پہلے دو رکعت سنت، نماز ظہر سے قبل چار اور بعد میں دو، نماز مغرب کے بعد دو، نماز عشاء کے بعد دو سنت (مؤکدہ) پڑھنے والے کیلئے اللہ تعالیٰ جنت میں گھر بناتے ہیں :۔
-
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جو شخص باقاعدگی سے بارہ (۱۲) رکعت سنتیں ادا کرے اللہ اس کیلئے جنت میں گھر بناتا ہے۔ نماز ظہر سے پہلے چار رکعت، دو ظہر کے بعد، دو رکعت نماز مغرب کے بعد، دو رکعت نماز عشاء کے بعد اور دو رکعت نماز فجر سے پہلے “ ۔ (جامع ترمذی ، سُنن ابن ماجہ)
نماز فجر سے پہلے دو سنتیں دنیا جہان کی ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہیں :۔
-
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ فجر کی دو رکعت (سنت مؤکدہ) دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہیں “ ۔ (جامع ترمذی)
ظہر سے قبل چار سنت ادا کرنے والے کیلئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں :۔
-
”حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :۔ ظہر سے قبل چار رکعت (سنت) جن میں سلام نہ ہو ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں “ ۔ (سُنن ابو داؤد)
نماز عصر سے قبل چار رکعت (سنت غیر مؤکدہ) پڑھنے والے کو اللہ تعالیٰ رحم فرماتے ہیں :۔
-
”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے عصر سے قبل چار رکعتیں پڑھیں اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے ۔“ (جامع ترمذی)
نماز چاشت کی چار رکعت ادا کرنے والے کے دن بھر کے سارے کام اللہ تعالیٰ اپنے لے لیتے ہیں :۔
-
”ابو درداء اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’اے آدم کے بیٹے ! دن کے شروع میں میرے لئے چار رکعت نماز ادا کر میں تیرے سارے کاموں کیلئے کافی ہو جاؤں گا ۔‘ “ (جامع ترمذی)
نماز تراویح گذشتہ تمام صغیرہ گناہوں کی مغفرت کا باعث بنتی ہے :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کیا اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔‘ “ (صحیح بخاری)
رات کے کسی بھی حصہ میں سو کر اٹھنے کے بعد دو رکعت نماز پڑھنے والے میاں بیوی کو اللہ تعالیٰ کثرت سے یاد کرنے والوں میں شمار فرماتے ہیں :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :۔ جب آدمی رات کو اُٹھے اور اپنی بیوی کو بھی اُٹھائے اور دونوں دو رکعت نماز ادا کریں تو اللہ تعالیٰ ان کا نام کثرت سے ذکر کرنے والے مردوں اور عورتوں میں لکھ دیتے ہیں “ ۔ (سُنن ابو داؤد ، سُنن ابن ماجہ)