بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نماز کا مسنون طریقہ (۲) (احادیث کی روشنی میں)
حالت رکوع میں کمر سیدھی اور سر کمر کے برابر ہونا چاہئے، اونچا ہو نہ نیچا:-
-
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع فرماتے تو اپنا سر (کمر سے) نہ اونچا کرتے نہ نیچا کرتے بلکہ سر اور کمر برابر رکھتے۔“ (صحیح مسلم)
رکوع اور سجود اطمینان سے نہ کرنے والا نماز کا چور ہے:-
-
”حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’بدترین چور نماز کا چور ہے‘ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! نماز کی چوری کیسے؟ فرمایا: نماز کا چور وہ ہے جو رکوع اور سجود پورا نہیں کرتا “۔ (مسند احمد)
رکوع کے بعد اطمینان سے سیدھا کھڑا ہونا ضروری ہے:-
-
”حضرت ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے رسول اللہ ﷺ کی نماز بیان کرتے تو پڑھ کر وضاحت فرماتے، رکوع سے جب سر اُٹھا کر، قومہ کیلئے کھڑے ہوتے تو اتنی دیر کھڑے ہوتے کہ ہمیں گمان ہونے لگتا شاید حضرت انس رضی اللہ عنہ سجدے میں جانا بھول گئے ہیں “۔ (صحیح بخاری)
حالت رکوع کے بعد سجدے کھڑے ہونے کو ”قومہ“ کہتے ہیں۔ دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے کو ”جلسہ“ کہتے ہیں۔
-
”حضرت ابو حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ رکوع سے سر اُٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہوجاتے، یہاں تک کہ ہر جوڑ اپنی جگہ پر آجاتا “۔ (صحیح بخاری)
سجدے میں کہنیاں پیٹ سے علیحدہ اور کھول کر رکھنی چاہئیں:-
-
”حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرتے تو بکری کا بچہ آپ ﷺ کے ہاتھ کے درمیان سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا “۔ (صحیح مسلم)
سجدے میں دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اور پہلوؤں سے علیحدہ رہنے چاہئے:-
-
”حضرت ابو حمید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سجدہ میں اپنی ناک اور پیشانی زمین کے ساتھ لگاتے اور ہاتھ اپنے پہلوؤں سے الگ اور کندھوں کے برابر رکھتے “۔ (سنن ابو داؤد ، جامع ترمذی)
سجدے میں پاؤں کی اُنگلیاں قبلہ رُخ رہنی چاہئیں:-
-
”حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ سجدے میں پاؤں کی اُنگلیاں قبلہ رُخ رکھتے تھے “۔ (صحیح بخاری)
رکوع اور سجدہ، قومہ، جلسہ اطمینان اور اعتدال سے تقریباً ایک جتنے وقت میں ادا کرنے چاہئیں:-
-
”حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم ﷺ کا رکوع، سجدہ، قومہ دونوں سجدوں کا درمیانی قعدہ تقریباً برابر ہوتے “۔ (صحیح بخاری)
تشہد کا طریقہ:-
-
”حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ جب تشہد میں بیٹھتے تو دایاں ہاتھ، دائیں گھٹنے پر اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھتے اور اپنے انگوٹھے کو اپنی درمیانی انگلی پر رکھ کر حلقہ بناتے ہوئے شہادت کی انگلی اُوپر اُٹھاتے “۔ (صحیح مسلم)