بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خواتین کی نماز (احادیث کی روشنی میں)
عورت کا مسجد کی بجائے اپنے گھر کے گوشہ تنہائی میں نماز ادا کرنا افضل ہے :-
-
”حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی زوجہ حضرت ام حمید ساعدی رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ”یا رسول اللہ! میرا جی چاہتا ہے کہ آپ کے ساتھ (مسجد نبوی میں) نماز پڑھوں“۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”مجھے معلوم ہے کہ تو میرے ساتھ نماز پڑھنا چاہتی ہے لیکن تیرا ایک گوشے میں نماز پڑھنا اپنے کمرے میں نماز پڑھنے سے افضل ہے اور تیرا کمرے میں نماز پڑھنا گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور تیرا گھر کے صحن میں نماز پڑھنا محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے اور تیرا محلہ کی مسجد میں نماز ادا کرنا میری مسجد میں نماز ادا کرنے سے افضل ہے“۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ام حمید رضی اللہ عنہا نے (اپنے گھر میں مسجد بنانے کا) حکم دیا چنانچہ ان کیلئے گھر کے آخری حصہ میں مسجد بنائی گئی جسے تاریک رکھا گیا (یعنی اس میں روشندان وغیرہ نہ بنایا گیا) اور وہ ہمیشہ اس میں نماز پڑھتی رہیں حتیٰ کہ اپنے اللہ عزوجل سے جاملیں“۔
شرعی احکام کی پابندی کرتے ہوئے خواتین نماز کیلئے مسجد میں جانا چاہیں تو انہیں منع نہیں کرنا چاہئے :-
-
”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”عورتوں کو مسجدوں میں جانے سے منع نہ کرو لیکن (نماز پڑھنے کیلئے) ان کے گھر مساجد سے بہتر ہیں“۔ (سنن ابو داؤد)
عورتوں کو دن کے اوقات میں مسجد میں آنے سے گریز کرنا چاہئے :-
-
”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”عورتوں کو رات کے وقت مساجد میں آنے کی اجازت دو“۔ (جامع ترمذی)
عورتوں کو خوشبو لگا کر مسجد میں جانا منع ہے :-
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو خوشبو لگا کر مسجد میں جاتے دیکھا تو پوچھا ”اے اللہ کی بندی کہاں جارہی ہو؟“ عورت نے جواب دیا ”مسجد میں“۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا اس مقصد کیلئے تو نے عطر لگایا ہے؟“ عورت نے جواب دیا ”جی ہاں“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے جو عورت خوشبو لگائے اور پھر مسجد میں جائے اس کی نماز قبول نہیں کی جاتی الا یہ کہ وہ خوشبو کو دھو کر مسجد میں جائے“۔ (سنن ابن ماجہ)
سر پر چادر یا موٹا ڈوپٹہ لئے بغیر عورت کی نماز نہیں ہوتی :-
-
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بالغ عورت کی نماز چادر (یا موٹے ڈوپٹہ) کے بغیر نہیں ہوتی“۔ (سنن ابو داؤد ، جامع ترمذی)
عورت تنہا صف میں کھڑی ہو سکتی ہے :-
-
”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور ایک یتیم (بچے) نے نبی اکرم ﷺ کے پیچھے اپنے گھر میں نماز پڑھی۔ میری والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ہم سب کے پیچھے تھیں“۔ (صحیح بخاری)
عورتوں کی سب سے اچھی صف پچھلی ہے اور سب سے بری صف پہلی (مردوں سے متصل) ہے :-
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”عورتوں کی بہترین صف سب سے آخری اور بدترین صف پہلی (یعنی مردوں سے متصل) ہے اور مردوں کی بہترین صف پہلی اور بدترین آخری (یعنی عورتوں سے متصل) ہے“۔ (سنن ابو داؤد)