بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نماز میں ممنوع امور کے مسائل (احادیث کی روشنی میں)
نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا منع ہے :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے“۔ (صحیح مسلم ، صحیح بخاری)
نماز میں اُنگلیاں چٹخانا یا انگلیوں میں انگلیاں ڈالنا منع ہے :۔
-
”حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ جب تم میں سے کوئی وضو کر کے مسجد کی طرف جائے تو راستے میں انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر نہ چلے کیونکہ وہ حالت نماز میں ہوتا ہے“۔ (جامع ترمذی ، سنن نسائی ، سنن ابو داؤد)
نماز میں جمائی لینے سے حتی الوسع پرہیز کرنے کا حکم ہے :۔
-
”حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ جب کسی کو نماز میں جمائی آئے تو اسے المقدور روکے کیونکہ اس وقت شیطان منہ میں داخل ہوتا ہے“۔ (صحیح مسلم)
نماز میں نگاہیں آسمان کی طرف اٹھانا منع ہے :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ لوگوں کو حالت نماز میں دعا مانگتے ہوئے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھانے سے باز آجانا چاہئے ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی“۔ (صحیح مسلم)
نماز میں منہ ڈھانپنا منع ہے :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں ”سدل“ سے اور منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے“۔ (سنن ابو داؤد ، جامع ترمذی)
دوران نماز کپڑے سمیٹنا یا بال درست کرنا نیز بلاعذر کوئی بھی حرکت کرنا منع ہے :۔
-
”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پیشانی پر (یہ کہتے ہوئے) حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیاں۔ نیز آپ ﷺ نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ہم نماز میں کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں“۔ (صحیح بخاری)
سجدہ کی جگہ سے بار بار کنکریاں ہٹانا منع ہے :۔
-
”حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سجدہ کی جگہ سے مٹی برابر کرنے والے کے بارہ میں ارشاد فرمایا : اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو ایک بار کرلے“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
نماز میں ادھر اُدھر دیکھنا منع ہے :۔
-
”حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ اللہ تعالیٰ بندے کی نماز میں برابر متوجہ رہتا ہے جب تک بندہ ادھر اُدھر نہ دیکھے جب بندہ توجہ ہٹا لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اپنی توجہ ہٹا لیتا ہے“۔ (سنن ابو داؤد ، سنن نسائی)
تکیہ پر سجدہ کرنا یا گدے پر نماز پڑھنا منع ہے :۔
-
”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تکیہ پر نماز پڑھنے والے مریض سے آپ ﷺ نے فرمایا :۔ اسے ہٹا دے اگر زمین پر سجدہ کر سکتا ہے تو کر اور اگر (بیماری کی وجہ سے) زمین پر سجدہ نہیں کر سکتا تو نماز اشارے سے پڑھ اور سجدے کیلئے سر کو رکوع کی نسبت زیادہ جھکا“۔ (طبرانی)