بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نماز کا مسنون طریقہ (۳) (احادیث کی روشنی میں)
نماز میں کپڑوں اور بالوں کا سمیٹنا یا سنوارنا منع ہے :-
-
”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پیشانی، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، دونوں قدموں کے کنارے نیز (فرمایا) ہم کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
سجدہ پورے اطمینان سے کرنا چاہئے اور بازو زمین پر نہیں بچھانے چاہئے :-
-
”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سجدہ اطمینان سے کرو اور تم میں سے کوئی بھی سجدے میں اپنے بازو کتے کی طرح نہ بچھائے“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
تشہد کی مسنون دعا :-
-
”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب تم نماز میں بیٹھو تو کہو اَلتَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَ الصَّلَوَاتُ وَ الطَّيِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا النَّبِيُّ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلٰی عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ (ترجمہ: تمام زبانی، جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہیں۔ اے نبی ﷺ آپ پر اللہ کا سلام اور اس کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ ہم پر بھی اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر بھی سلام) جب کسی نے یہ الفاظ کہے تو اللہ کے ہر نیک بندے کو خواہ وہ آسمان میں ہو یا زمین میں سلام پہنچ جاتا ہے اور پھر کہو اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ (ترجمہ: میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں) پھر آدمی اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے جو سوال کرنا چاہے کرے“۔ (صحیح مسلم)
نمازی پہلا تشہد بھول جائے تو اسے سجدہ سہو کرنا چاہئے :-
-
”حضرت عبداللہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی، آپ ﷺ کو قعدہ کیلئے بیٹھنا تھا مگر کھڑے ہوگئے، پھر جب آپ ﷺ نے نماز کا آخری قعدہ کیا تو دو سجدے (سجدہ سہو) ادا کئے“۔ (صحیح بخاری)
التحیات اور درود ابراہیمی کے بعد ماثورہ دعاؤں میں سے کوئی ایک یا جتنی چاہے پڑھ سکتے ہیں :-
-
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ نماز میں (تشہد اور درود کے بعد) یہ دعا مانگتے اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ اَعُوْذُبِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ وَ اَعُوْذُبِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ (ترجمہ: الٰہی میں تیری جناب سے عذاب قبر، مسیح دجال کے فتنے، موت و حیات کی آزمائش، گناہوں اور قرض سے پناہ مانگتا ہوں)۔“
التحیات، درود ابراہیمی اور دعاؤں کے بعد سلام کہہ کر نماز ختم کرنا مسنون ہے :-
-
”حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: طہارت نماز کی کنجی ہے نماز کا آغاز تکبیر اور اختتام سلام کہنا ہے“۔ (سنن ابو داؤد ، جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ)
نماز میں خشوع وخضوع اور توجہ بہت بڑھ جاتی ہے اگر انسان وہ سمجھ رہا ہو جو کہہ رہا ہے، اس میں التحیات کا ترجمہ موجود ہے، جو بہت سے لوگوں کو نہیں معلوم، ان سلائیڈز کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں تا کہ سب کو معلوم ہو جائے، اسکو پڑھنے والا جب تک اسکو ذہن میں لاتا رہے گا آپکے نامہ اعمال میں ثواب لکھا جاتا رہے گا، آئندہ خواتین کی نماز کے متعلق انشاء اللہ لکھا جائے گا۔