بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نماز میں جائز امور کے مسائل (۲) (احادیث کی روشنی میں)
شیطان کے وسوسہ ڈالنے پر دوران نماز میں تعوذ پڑھنا جائز ہے :-
-
”حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے کہا ”یا رسول اللہ ﷺ! شیطان میرے اور میری نماز کے درمیان حائل ہوتا ہے۔ نیز میری قرات میں شک ڈالتا ہے“۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ”اس شیطان کا نام ”خنزب“ ہے۔ جب اس کی اکساہٹ محسوس کرو تو (دوران نماز ہی) تعوذ ( اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ ..... پڑھو) اور بائیں طرف (دل کے اوپر) تین مرتبہ تھوکو“۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے ایسا ہی کیا اور اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مجھ سے دور کر دیا“۔ (صحیح مسلم)
کسی مصیبت کے موقعہ پر فرض نمازِ خاص طور پر نماز فجر کی آخری رکعت کے قومہ میں ہاتھ اٹھا کر بلند آواز سے مسلمانوں کیلئے دعا اور دشمنوں کیلئے بد دعا کرنا جائز ہے :-
-
”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”رسول اللہ ﷺ ایک مہینہ متواتر ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی رکعت میں (حالت قومہ میں) سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہنے کے بعد بنی سلیم کے قبائل رعل، ذکوان اور عصیہ کے لئے بد دعا فرماتے رہے اور مقتدی آمین کہتے تھے“۔ (سنن ابو داؤد)
سترہ اور نمازی کے درمیان سے گزرنے والے کو دوران نماز ہی ہاتھ سے روک دینا جائز ہے :-
-
”حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں سے آڑ کر کے نماز پڑھے پھر کوئی آدمی (اس سترہ کے اندر سے) گزرنا چاہے تو اسے روک دو اگر نہ رکے تو زبردستی روک دو کیونکہ وہ شیطان ہے“۔ (صحیح بخاری)
سخت گرمی کی وجہ سے سجدے کی جگہ کپڑا رکھ لینا جائز ہے :-
-
”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے اور سخت گرمی میں جب ہم میں سے کوئی بھی اپنی پیشانی زمین پر نہیں رکھ سکتا تھا اپنا کپڑا بچھا لیتا اور اس پر سجدہ کرتا“۔ (صحیح بخاری)
جوتے نجاست سے پاک ہوں تو جوتوں سمیت نماز پڑھنا جائز ہے :-
-
”حضرت سعید بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا ”کیا رسول اللہ ﷺ جوتوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا ”ہاں“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
امام کو اس کی غلطی سے آگاہ کرنے کیلئے مردوں کو ”سبحان اللہ“ اور عورتوں کو تالی بجانے کی اجازت ہے :-
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(نماز میں کوئی ضرورت پیش آنے پر) مردوں کیلئے سبحان اللہ کہنا اور عورتوں کیلئے تالی بجانا ہے“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)