بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وراثتی اور شعوری ایمان (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ! مجھ کو اسلام کی کوئی ایسی (جامع) بات بتا دیجئے کہ آپ کے بتانے کے بعد پھر اس سلسلے میں مجھے کسی دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت باقی نہ رہے“۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم یہ کہو کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا پھر اس پر قائم رہو“۔ (صحیح مسلم)
افسوس کے ہم نے کبھی یہ سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ مسلمان کیا ہوتا ہے؟ ایمان کیا ہوتا ہے؟ جب گھر میں ہمیں کہہ دیا جاتا ہے کہ تم مسلمان ہو، اب مسلمان کیا ہوتا ہے؟ اس کی کسی کو خبر نہیں۔ مسلمان ہونا ایک رویہ ہے، ایک زندگی ہے، مسلمان ہونا ایک تحریک ہے، ایک لہر ہے، ایک موج ہے۔ علامہ اقبال مسلمان کو جوئے کوہستانی کہتے ہیں وہ جوئے کوہستاں اچکتی ہوئی ............. بڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئی رکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہ! ........... پہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہ!
جوئے کوہستانی میں تندی، تیزی تڑپنا، پھڑکنا ختم تو یہ کھڑا پانی بن جائے بحیثیت موج ختم ہو جائے۔ مسلمان بننا ایک شعوری عمل ہے اور یہی حیات ہے۔ قرآن کہتا ہے جنہیں یہ ایمان مل گیا انہیں زندگی مل گئی۔ جنہیں یہ نہیں ملا، وہ مردہ ہیں۔ ”مُردہ ہیں زندہ نہیں۔ انہیں یہ شعور نہیں ہے کہ انہیں زندگی کہاں سے ملے گی“ (النحل ۔ ۲۱)
وراثتی اور شعوری ایمان میں فرق :۔
ایمان سنی سنائی چیز کا نام نہیں، ایمان وراثت میں ملی ہوئی چیز کا نام نہیں۔ وراثت میں مکان ۔ دوکان، پلاٹ مل جائیں گے مگر وراثت میں ایمان نہیں ملے گا۔ ایمان خود کمانا پڑتا ہے۔ امام غزالیؒ ”احیائے علوم الدین“ میں سب سے پہلے اس ایمان سے توبہ کراتے ہیں جو ورثے میں پایا گیا ہو۔ فرماتے ہیں جو تمہارے ماں باپ کا ایمان ہے وہ تمہارا نہیں ہے۔ تمہارا ایمان وہ ہوگا جس میں تم خود غور و فکر کرو گے۔ جس پر تم خود بیٹھ کر سوچ و بچار کرو۔ ہم لوگ اتفاقیہ مسلمان (muslim by chance) ہیں۔ یہ اتفاق ہی تو ہے کہ ہم ایک مسلمان گھر پیدا ہو گئے لیکن اصل غور و فکر تو وہ لوگ کرتے ہیں جو اتفاقیہ مسلمان نہیں بلکہ (muslim by chance not by choice) ہیں۔ ہمارا عالم تو یہ ہے کہ اکثر لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ صاحب زادے کو امریکہ، یورپ بھیجا پتہ چلا کہ ہفتہ دس دن کے اندر صاحب زادے شراب پینے لگے، خنزیر کا گوشت کھانے لگے سارا ایمان بھُرسٹ ہو گیا۔ امریکہ تو بڑی گندی جگہ ہے وہاں پر تو جو بھی جاتا ہے اس کا ایمان ختم ہو جاتا ہے۔ میرے بھائی! ایمان تھا ہی کہاں جو ختم ہو گیا۔ ایمان ایک دفعہ آجائے تو وہ ختم نہیں ہوا کرتا۔ آپ نے قرآن مجید میں پڑھا ہو گا کہ ایک قوم ایمان لے آئی ان کو جلتے ہوئے آگ کے الاؤ (گڑھوں) میں ڈال دیا گیا پوری کی پوری قوم کود گئی۔ ”ان لوگوں کو صرف اسی بات پر سزا دی گئی کہ وہ اللہ زبردست و لائق ستائش، ہستی پر ایمان لے آئے تھے“ (البروج ۔ ۸) سورۃ البروج میں پوری قوم کا قصہ ہے اُنہوں نے جان قربان کر ڈالی کیوں کے ایمان موجود تھا ایک مرتبہ آپ قائل (convince) ہو گئے، ایک مرتبہ آپ کے دل میں بات اُتر گئی، اب یہ کہاں جائے گی؟ اب اسے ایمان کہا جا سکتا ہے جو پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دے گا۔