بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
بسنت ، ویلنٹائن ڈے اور ہم (۱) (قرآن وحدیث کی روشنی میں)
اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِاللّٰهِ (البقرة ۔ ۱۵۸) ترجمہ:۔ بے شک صفا اور مروہ اللہ کے نشانات سے ہیں۔
شعائر ، شعیرہ کی جمع ہے۔ عبادت کی جگہ کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ شعیرہ نشانی کو کہتے ہیں۔ تو پھر شعائر اللہ سے مراد ہر وہ چیز جس کو دیکھ کر اللہ کی یاد آجائے۔ اللہ تعالیٰ کے دین کے وہ فرائض و نشانات جن سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔ تو شعائر میں عبادت کے نشان مثلاً صفا و مروہ ، منیٰ ، مزدلفہ اور عبادت کے اوقات مثلاً عیدین ، جمعہ وغیرہ شامل ہیں۔ تو بنیادی طور پر شعائر سے مراد وہ چیزیں ہوتی ہیں جس سے کسی قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ تو شعائر اللہ کیا ہوئے یعنی جن کاموں سے، جن جگہوں سے اللہ کی پہچان ہو۔ ”اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے شعائر اللہ مقرر کیا ہے“۔ (الحج ۔ ۳۶)
مثلاً اگر آپ کسی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھیں تو کیا محسوس ہوگا کہ یہ کون ہے؟ مسلمان ہے! اگر کسی کو قربانی کرتے ہوئے دیکھیں تو آپ کیا کہیں گے کہ یہ کون ہے، مسلمان ہیں۔ اور اگر کسی کو بسنت مناتے ہوئے دیکھیں Valentine's Day مناتے ہوئے دیکھیں تو کیا محسوس ہوگا کہ یہ کون ہیں؟
ہر قوم کے کچھ تہوار ہوتے ہیں۔ ہر قوم کی کچھ پہچان ہوتی ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارے کچھ شعائر ہیں، کچھ چیزیں ہیں ہماری پہچان کی، کچھ دن ہیں ہماری پہچان کے، کچھ جگہیں ہیں ہماری پہچان کی، کچھ کام ہیں ہماری پہچان کے۔ اسی طرح دوسری قوموں کے کچھ تہوار ہیں، کچھ علامتیں ہیں۔ اُمت مسلمہ کیسی اُمت ہے۔ اُمت وسط۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”(مومنو!) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو“۔ (آل عمران ۔ ۱۱۰) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم بہترین ہو تا کہ دنیا بھر کے لوگ تمہاری پیروی کریں تمہارے طریقے اختیار کریں۔ لیکن آج ہم نے یہ تو کہیں نہیں دیکھا کہ دوسری اقوام ہمارے تہوار مناتی ہوں۔ آپ کسی بھی غیر اسلامی ملک میں لوگوں کو عید الفطر مناتے ہوئے نہیں دیکھیں گے۔ ایسا تو نہیں ہوا کہ وہ آپ کو دیکھ کر اسمائیل ڈے یعنی عید الضحیٰ منائیں۔ ایسا تو نظر نہیں آتا کہ وہ آپ کو دیکھ کر ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں بلند آواز سے تکبیر پڑھا کریں۔ لیکن یہ ضرور ہو رہا ہے کہ جو کچھ وہ کرتے ہیں، وہ ہم بھی کر رہے ہیں۔ ہم بسنت بھی مناتے ہیں، ہم ویلنٹائن ڈے بھی مناتے ہیں۔ پھر ہماری پہچان کیا ہوئی؟ ہم کس کی پیروی کر رہے ہیں؟ ہمارے شعائر تو خود اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں، ہم کیوں غیر اللہ کے شعائر اپنانے میں فخر محسوس کرنے لگے؟ اللہ کریم نے تو ہمیں بنایا تھا کہ لوگ ہماری پیروی کریں، ہمیں دیکھ کر ہمارے طریقوں پر چلیں، ہم ان طریقوں کو اتنا خوبصورت بنا کر پیش کریں کہ لوگ اس راستے پر آجائیں۔ انبیاء کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُمت مسلمہ کو اُٹھایا تھا کہ انکے ذریعے ساری مخلوق اور ساری انسانیت اللہ کی طرف رجوع کر کے ، اپنے خالق کو پہچانے، اپنے مالک کو جانے، اُسکا حق ادا کرے، اُسکے شکر گزار ہوں۔ لیکن افسوس!! ہم تو اپنی شناخت بھی کھوتے جا رہے ہیں ہمارے طور طریقے، ہمارا اُٹھنا بیٹھنا، ہماری پسند و نا پسند کس کے مطابق ہو گئی؟ اللہ تعالیٰ نے تو حضور ﷺ کو فرمایا تھا کہ ”کہہ دو بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کیلئے ہے“۔ (الانعام ۔ ۱۶۲) گویا میری زندگی کی ہر ادا وہ ہوگی، جو میرے رب کو پسند آئے گی۔ لیکن اب تو ہم نے ہر وہ ادا اختیار کر لی کہ جس سے ہم غیروں کی نظروں میں کسی طرح جچ جائیں کسی طرح اُن کو پسند آجائیں۔
ہم نماز میں تو کھڑے ہو کر روز دُعا مانگتے ہیں، ہمیں سیدھا راستہ دکھا، اُن لوگوں کو راستہ دکھا جن پر تو نے انعام کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا راستہ، صدیقین کا راستہ، شہداء کا راستہ، اور اُن سے بچا جن پر تیرا غضب ہوا، جو بھٹک گئے، ہمیں اُن کا راستہ نہیں چاہئے، لیکن عملی زندگی میں کیا ہم واقعی صحابہ کرام ؓ کی زندگی کی پیروی کی کوشش کرتے ہیں؟ ہماری زندگیوں میں وہی شجاعت، وہی امانت، وہی صداقت ہے۔ یا ہم اپنی ہر چیز میں اُن کی پیروی کر رہے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مغضوب علیہم اور الضالین کہا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں ہم ان قوموں کے طریقوں پر چل پڑے جن پر اللہ تعالیٰ نے ذلت و مسکنت چسپاں کر دی، جن پر اللہ کا غضب ہوا۔ ہم کس چیز کو دعوت دے رہے ہیں؟ ایسے کام کر کے کیا ہم اللہ کی رحمت کو دعوت دے رہے ہیں؟ وہ قومیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے الضالین کہا کہ وہ اپنا راستہ بھول گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو اپنا مرکز محبت، مرکز عقیدت، مرکز جذبات بنانے کی بجائے اور چیزوں کی طرف رُخ کر گئے۔ اُنہوں نے دنیا کو اپنا سب کچھ سمجھ لیا۔ ہمارا جینا مرنا تو اللہ رب العالمین کیلئے تھا، لیکن ہم اُن قوموں کی پیروی کر رہے ہیں، جن کا جینا مرنا صرف دنیا کیلئے رہ گیا ہے، جو ظاہر پرست ہو گئے، جو صرف ظاہری چمک دمک سے، ظاہری چیزوں کی خوبصورتی سے نہال ہو رہے ہیں، اور اُسی کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ جن کے نزدیک ساری خوشیاں اور ساری لذتیں صرف دنیا کیلئے رہ گئیں، جن کیلئے کھانا پینا، پہننا، اوڑھنا، خوشی غم سب کا سب دنیا میں مقید ہو کر رہ گیا ہے، ہم تو اُن کے پیچھے چل پڑے۔۔۔
یاد دھانی! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ ریشمی لباس اور سونا (Gold) میری اُمت کے مردوں پر حرام ہے اور عورتوں کیلئے حلال ہے۔ (سنن نسائی ، سنن ابن ماجه)